آسٹریلیا کے خلاف فتح کے لیے عزم و حوصلے کی ضرورت ہے، وسیم اکرم

پاکستان کے سابق عظیم فاسٹ باؤلر وسیم اکرم نے کہا کہ آسٹریلیا کو شکست دینے کے لیے ٹیموں کو بھرپور منصوبہ بندی اور عزم و حوصلے کی ضرورت ہوگی۔

وسیم اکرم عالمی کپ میں آسٹریلیا کو شکست دینے والی پاکستانی ٹیم کے کپتان تھے

آسٹریلیا عالمی کپ میں مسلسل 25 میچز سے ناقابل شکست ہے۔ انہیں آخری مرتبہ وسیم اکرم کی زیر قیادت پاکستان نے عالمی کپ 1999ء کے گروپ میچ میں شکست دی تھی۔ اس کے بعد آسٹریلیا 1999ء کا عالمی کپ جیتا اور پھر 2003ء اور 2007ء میں ناقابل شکست ہو کر اعزاز اپنے نام کیا۔ 2011ء کے عالمی کپ میں بھی اب تک کھیلے گئے کسی میچ میں اسے شکست کا منہ نہیں دیکھنا پڑا۔

کولمبو میں فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو دیے گئے انٹرویو میں وسیم اکرم نے کہا کہ آسٹریلیا کو شکست دینے کے لیے آپ کا طرز عمل اور انداز فاتحین جیسا ہونا چاہیے۔ 1999ء کے عالمی کپ کی یادیں تازہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے گروپ مرحلے میں آسٹریلیا کو شکست دینے کے لیے بھرپور منصوبہ بندی کی اور اس میں کامیاب ہوئے لیکن اہم ترین میچ یعنی فائنل میں ان سے شکست کھا گئے جس کا انہیں عمر بھر افسوس رہے گا۔

سری لنکا کے خلاف آسٹریلیا کے اہم ترین میچ کے لیے وسیم اکرم نے کہا کہ اس میں ٹاس اہم کردار ادا کرے گا۔ تاہم انہوں نے شان ٹیٹ، بریٹ لی اور مچل جانسن پر مشتمل آسٹریلین پیس بیٹری کے خلاف اسکور کرنے کو دشوار قرار دیا۔

پاکستان کی عالمی کپ 2011ء میں کارکردگی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان جس طرح کھیل رہا ہےاس نے لگتا ہے کہ اسے شکست دینا مشکل ہوگا۔ میرے خیال میں شاہد آفریدی ٹیم کی درست انداز میں قیادت کر رہے ہیں اور ٹیم کو جس طرح کے اتحاد کی ضرورت ہے وہ آفریدی لے آئے ہیں جو ان کے لیے نیک شگون ہے۔

شاہد آفریدی کی قیادت میں پاکستانی ٹیم گروپ مرحلے کے ابتدائی تینوں میچز جیت کر اگلے مرحلے کے لیے اپنی جگہ پکی کر چکی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کو 1999ء کے عالمی کپ فائنل میں شکست کا اس قدر گہرا گھاؤ لگاکہ تھا وہ اگلے دو عالمی کپ ٹورنامنٹس میں پہلے مرحلےسے آگے ہی نہ جا سکا۔ موجودہ کوچ وقار یونس کی قیادت میں 2003ء کے عالمی کپ میں اور انضمام الحق کی قیادت میں 2007ء کے عالمی کپ میں پاکستان پہلے مرحلے ہی میں باہر ہو گیا تھا۔ اب یہ 12 سال بعد پہلا موقع ہے کہ پاکستانی ٹیم عالمی کپ کے دوسرے مرحلے تک پہنچی ہے۔

Facebook Comments