معافی بھی کام نہ آئی، کیون پیٹرسن ٹیم سے باہر

بالآخر وہ خبر آ ہی گئی کہ جس کا انتظار تھا کہ انگلستان نے جنوبی افریقہ کے خلاف تیسرے و آخری ٹیسٹ کے لیے کیون پیٹرسن کو ٹیم سے باہر کر دیے گئے ہیں۔ اور ان کو شامل نہ کرنے کی وجہ ان کا ’پل میں تولہ، پل میں ماشہ‘ رویہ نہیں بلکہ اس امر کی تصدیق میں ناکامی ہے کہ انہوں نے کپتان اینڈریو اسٹراس اور کپتان اینڈی فلاور کے بارے میں جنوبی افریقی کھلاڑیوں کو اہانت آمیز موبائل پیغامات نہیں بھیجے۔

گزشتہ ٹیسٹ میں 149 رنز کی میچ بچاؤ اننگز کھیلنے والے کیون پیٹرسن کپتان اور کوچ کے بارے میں حریف کھلاڑیوں سے موبائل پیغامات کے تبادلے پر دھر لیے گئے (تصویر: AFP)

گزشتہ ٹیسٹ میں 149 رنز کی میچ بچاؤ اننگز کھیلنے والے کیون پیٹرسن کپتان اور کوچ کے بارے میں حریف کھلاڑیوں سے موبائل پیغامات کے تبادلے پر دھر لیے گئے (تصویر: AFP)

انگلستان کے مینیجنگ ڈائریکٹر ہو مورس کے مطابق پیٹرسن نے اپنی جاری کردہ وڈیو میں ان موبائل پیغامات کا کوئی حوالہ نہیں دیا اور دستے کے اعلان میں پانچ گھنٹے کی تاخیر کا مقصد بھی یہی تھا کہ انہیں اس حوالے سے اپنا موقف بیان کرنے کا وقت دیا جائے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

اندازہ یہی ہے کہ انہوں نے پیغامات بھیجے ہیں اور یہ خبر اگر جنوبی افریقہ نے یہ خبر ’لیک‘ کی ہے تو بلاشبہ انہوں نے حریف کے سب سے خطرناک کھلاڑی سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی کامیاب مہم سر کی ہے۔

جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ کی نمبر ایک پوزیشن کی جنگ لڑنے والا انگلستان پہلے ہی سیریز میں 1-0 سے خسارے میں ہے اور اگر کسی طرح اپنا درجہ بچانا ہے تو اسے اگلا ٹیسٹ جیتنا ہوگا لیکن ہیڈنگلے میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ کے بعد پیٹرسن کی وجہ سے کھڑے ہونے والے ہنگامے نے ٹیم کے مورال کو یقیناً گرا دیا ہوگا۔

انگلستان نے کیون پیٹرسن کی جگہ جانی بیئرسٹو کو ٹیم میں جگہ دی ہے جو ویسٹ انڈیز کے خلاف گزشتہ سیریز کھیل چکے ہیں۔ جبکہ پیٹرسن کو اب انتظار کرنا ہوگا کہ انہیں اگلے ماہ سری لنکا میں ہونے والے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے حتمی 15 رکنی دستے میں شامل کیا جاتا ہے یا نہیں اور اب تک جو پیشرفت ہوئی ہے اس سے ایسا ہونے کے امکانات کم ہی ہیں۔

یوں کیون پیٹرسن کی اپنے کیریئر بچانے کی ایک کوشش ناکام ہو چکی ہے۔ غیر مشروط طور پر ریٹائرمنٹ واپس لینے کا فیصلہ فی الحال تو ان کے حق میں نہیں گیا کیونکہ وہ موبائل پیغامات کے معاملے میں دھر لیے گئے ہیں لیکن اگر یہ تصفیہ بھی حل نہ ہوا تو وہ ممکنہ طور پر ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں بھی ایکشن میں نظر نہیں آئیں گے جہاں انگلستان نے اپنے اعزاز کا دفاع کرنا ہے۔

لیکن اس سے پہلے اسے نمبر ایک پوزیشن بچانے کا مرحلہ درپیش ہے۔ اولین ٹیسٹ میں بلے بازوں کی بدترین ناکامی کے بعد دوسرے ٹیسٹ میں یہ کیون پیٹرسن ہی تھے جو انگلستان کو میچ میں واپس لائے اور بارش کی مدد سے شکست سے بچایا لیکن کیا اب 16 اگست سے لارڈز میں شروع ہونے والے تیسرے ٹیسٹ میں انگلستان بغیر پیٹرسن کے جنوبی افریقہ کا مقابلہ کر پائے گا؟ اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔

تیسرے ٹیسٹ کے لیے اعلان کردہ انگلش دستہ ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے:

اینڈریو اسٹراس (کپتان)، اسٹورٹ براڈ، اسٹیون فن، ایلسٹر کک، این بیل، ٹم بریسنن، جانی بیئرسٹو، جوناتھن ٹراٹ، جیمز اینڈرسن، جیمز ٹیلر، گراہم اونینز، گریم سوان اور میٹ پرائیر۔

Facebook Comments