پابندی کے ایام میں تعلیم پر توجہ دوں گا، محمد عامر

پابندی کے شکار پاکستانی تیز باؤلر محمد عامر نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ پابندی کے ایام کے دوران تعلیم پر توجہ دیں گے۔

محمد عامر (فائل فوٹو)

محمد عامر (فائل فوٹو)

18 سالہ محمد عامر کرکٹ نوعمری میں ہی بین الاقوامی کرکٹ میں آنے کے باعث اپنے تعلیمی سلسلےکو جاری نہیں رکھ پائے تھے اور اسپاٹ فکسنگ تنازع میں 5 سال کی پابندی کا نشانہ بننے کے بعد اب وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنا چاہیے۔

ایک انٹرویو میں محمد عامر نے کہا ہے کہ کرکٹ میں کیریئر کے باعث انہیں تعلیم کو ادھورا چھوڑنا پڑا تھا لیکن اب وہ چاہتے ہیں کہ وہ نجی طور پر کالج ڈگری حاصل کر لیں۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنی زندگی کے مشکل ترین لمحات سے گزر رہا ہوں اور اب سمجھتا ہوں کہ اچھی تعلیم کس قدر ضروری ہے۔

جولائی 2009ء میں کیریئر کے شاندار آغاز کے بعد محمد عامر کو دنیائے کرکٹ کے منڈتوں کی جانب سے مستقبل کا بہترین باؤلر قرار دیا جا رہا تھا اور کئی کرکٹ کے ماہرین انہیں وسیم اکرم کا جانشیں سمجھتے تھے، لیکن انگلستان کے خلاف اگست 2010ء میں ایک ٹیسٹ میچ کے دوران جان بوجھ کر نوبالز کرانے کے الزام پر بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے ان پر پانچ سال کی پابندی عائد کر دی۔

انہوں نے کہا کہ میں نے ثالثی عدالت برائے کھیل میں اپیل دائر کر دی ہے اور مجھے امید ہے کہ فیصلہ میرے حق میں آئے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں اگلے ہفتے لندن میں جا رہا ہوں جہاں اپنے خلاف مقدمے کی سماعت میں شرکت کریں گے۔ محمد عامر نے کہا کہ پابندی کے باعث عالمی کپ نہ کھیلنے کا انہیں بہت افسوس ہے لیکن وہ پاکستان کے میچز دیکھ رہے ہیں۔

Article Tags

Facebook Comments