پاکستان کے خلاف مرلی نے کئی غیر قانونی گیندیں کیں، ڈیرل ہیئر

ماضی کے متنازع آسٹریلوی امپائر ڈیرل ہیئر نے کہا ہے کہ کئی بین الاقوامی امپائرز جانتے ہیں کہ سری لنکا کے اسپنر متیاہ مرلی دھرن کا باؤلنگ ایکشن مشتبہ ہے لیکن وہ تنازع سے دامن بچانے کے لیے اس سے صرف نظر کرتے ہیں۔

ڈیرل ہیئر (فائل فوٹو)

آسٹریلوی اخبار ہیرلڈ سن کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے پاکستان کے خلاف عالمی کپ 2011ء کے میچ میں مرلی دھرن نے ایسی کئی گیندیں کیں جو غیر قانونی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف میچ کے دوران آخری لمحات میں جب وکٹ ٹرن لینے لگی تھی انہوں نے کئی ایسی گیندیں پھینکیں جو غیر قانونی تھیں لیکن یہ ان کا آخری عالمی کپ ہے اور شائقین انہیں شاندار انداز میں الوداع کرنا چاہتے ہیں لہذا کوئی امپائر نہیں چاہتا کہ وہ رنگ میں بھنگ ڈالے۔

ڈیرل ہیئر نے 1995ء میں آسٹریلیا اور سری لنکا کے درمیان ملبورن میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ کے دوران مرلی دھرن کی 7 گیندوں کو مشتبہ ایکشن کے تحت نو بالز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ متعدد بین الاقوامی امپائرز ان سے کہہ چکے ہیں کہ مرلی کے ایکشن میں کچھ غلط ضرور ہے لیکن وہ تنازعات سے بچنے کے لیے اس سے صرف نظر کر جاتےہیں۔

1992ء سے 2008ء کے درمیان 78 ٹیسٹ میچز میں امپائرنگ کرنے والے ڈیرل ہیئر کا کہنا ہے کہ ان کی گیند بازی کے حوالے سے اب بھی بہت زیادہ شبہات ہیں، چند امپائرز نے مرلی کے ایکشن کے حوالےسے ان سے بات بھی کی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ امپائرز یہ سوچ کر رہ جاتے ہیں کہ جب انہیں امپائرنگ کی اچھی خاصی آمدنی ہوتی ہے تو وہ کیوں تنازع میں پڑ کر اپنی روزی روٹی کو لات ماریں؟

ملبورن کے اس متنازع ٹیسٹ کےبعد بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے مرلی دھرن کے ایکشن کو کلیئر قرار دیا تھا۔ ڈیرل ہیئر کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب آسٹریلیا عالمی کپ کے ایک اہم گروپ میچ میں سری لنکا کے مدمقابل ہے۔

یاد رہے کہ 2006ء میں ڈیرل ہیئر پر امپائرنگ کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی جب انہوں نے پاکستان اور انگلستان کے درمیان اوول میں کھیلے گے ٹیسٹ کے دوران پاکستانی کھلاڑیوں پر بال ٹمپرنگ کا الزام لگایا تھا جس پر اس وقت کے پاکستانی قائد انضمام الحق نے کھیلنے سے انکار کر دیا اور چائے کے وقفے کے بعد ٹیم کو واپس میدان میں نہیں لے کر آئے۔ جس کی وجہ سے امپائرز نے انگلستان کو فاتح قرار دے دیا۔

Facebook Comments