پیٹرسن تنازع کا حل انگلستان کی جیت سے زیادہ اہم ہے: جیفری بائیکاٹ

انگلستان کے سابق کپتان اور معروف کرکٹ تجزیہ کار جیفری بائیکاٹ نے کہا ہے کہ کیون پیٹرسن کے معاملے کا حل ہونا انگلستان کی لارڈز ٹیسٹ میں فتح اور نمبر ون پوزیشن بچانے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔

معافی مانگنے کے باوجود کیون پیٹرسن کو محدود اوورز کی سیریز کھلانے کا حامی نہیں: جیفری (تصویر: AFP)

معافی مانگنے کے باوجود کیون پیٹرسن کو محدود اوورز کی سیریز کھلانے کا حامی نہیں: جیفری (تصویر: AFP)

معروف کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کے مستقل سلسلے "Bowl at Boycs" میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیون پیٹرسن کی عدم موجودگی میں انگلستان کی فتح کے امکانات تو بہرحال کم ہوئے ہیں لیکن میرے خیال میں ان کا کوچ اینڈی فلاور اور کپتان اینڈریو اسٹراس سے معافی مانگنا میچ اور سیریز جیتنے سے زیادہ اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرکٹ کے گھر لارڈز میں تماشائیوں سے کھچاکھچ بھرے میدان میں مقابلہ اک شاندار لمحہ ہوتا ہے لیکن دو بہترین ٹیموں کے درمیان مقابلہ اب مہمان ٹیم کے حق میں جھکتا دکھائی دیتا ہے۔ کیونکہ کیون پیٹرسن کی عدم موجودگی سے انہیں کافی مدد ملے گی۔

جیفری بائیکاٹ نے کہا کہ کیون پیٹرسن کے لیے صرف معافی نامہ لکھنا کافی نہیں، انہیں کپتان اور کوچ کے روبرو معافی طلب کرنی چاہیے کیونکہ انہی دونوں کی زیر نگرانی انہوں نے آگے کھیلنا ہے اور جب تک ان کے درمیان معاملات واضح نہیں ہوں گے، ایسا ہونا ممکن نہیں دکھائی دیتا۔

انہوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف محدود اوورز کے مرحلے کے لیے کیون پیٹرسن کی شمولیت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ میں جنوبی افریقہ کے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے کیون پیٹرسن کے انتخاب کا کسی صورت حامی نہیں کیونکہ یہ جنوبی افریقہ ہی کے کھلاڑی تھے جن سے انہوں نے کوچ اور کپتان کے بارے میں موبائل پیغامات کا تبادلہ کیا۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ روبرو معافی کے بعد کچھ عرصے کے لیے اس تنازع کی خاک کو بیٹھنے دیا جائے اور کیون پیٹرسن کو فوری طور پر ٹیم میں واپس لانے کی غلطی نہ کی جائے۔

البتہ ان کا کہنا تھا کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے کیون پیٹرسن کا انتخاب ممکن ہے، کیونکہ اب بھی اس میں 6 ہفتے باقی ہیں جو معاملے کے ٹھنڈا ہونے کے لیے کافی وقت ہے۔ "میرے خیال میں اس وقت انگلستان کی شکست سے زیادہ بڑا معاملہ کیون پیٹرسن تنازع کو حل کرنا ہے۔" انگلستان اس وقت سیریز میں 1-0 سے خسارے میں ہے اور لارڈز میں تیسرا ٹیسٹ شروع ہو چکا ہے جہاں جنوبی افریقہ کی فتح یا میچ کا بے نتیجہ اختتام انگلستان کو ایک سال سے ٹیسٹ کی عالمی درجہ بندی میں حاصل سرفہرست پوزیشن سے محروم کر دے گا۔

انہوں نے معاملے کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا کہ "آپ خود تصور کریں کہ آپ ایک ادارے کے ملازم ہیں اور حریف ادارے کو اپنے ہی مالک کے خلاف موبائل پیغامات بھیجتے ہیں تو کیا ہوگا؟ میرا نہیں خیال کہ اس صورت میں آپ کی ملازمت بچ پائے گی۔ بالکل یہی صورتحال کیون پیٹرسن معاملے کی ہے۔ یہ حرکت بالکل ناقابل قبول ہے اور اس قضیے کو بہرصورت حل کرنا ہوگا۔ گو کہ پیٹرسن کی عدم موجودگی میں انگلستان کی فتح کے امکانات مزید کم ہو گئے ہیں لیکن میں اسے ٹیم کی جیت سے بھی زیادہ اہم معاملہ سمجھتا ہوں۔ اگر آپ ٹیم کے قائدین –کوچ اور کپتان- کی عزت نہیں کر سکتے، یہاں تک کہ حریف کے سامنے ان کی بے ادبی کرتے ہیں تو معذرت کے ساتھ آپ نہیں کھیل سکتے۔ یہاں تک کہ آپ دل سے معافی طلب کریں۔"

Facebook Comments