آسٹریلیا پاکستانی اسپنرز سے نمٹنے کے لیے تیار

پاکستان کا سامنا کرنے کے لیے آسٹریلیا کا دستہ متحدہ عرب امارات پہنچ چکا ہے اور دونوں ٹیموں نے حقیقی معرکہ آرائی کے لیے حکمت عملی بھی طے کر لی ہے۔ شکستوں کے بھنور میں پھنسنے کے بعد دونوں ٹیمیں اب محدود اوورز کی سیریز میں فتح کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیں گی۔ حال ہی میں پاکستان کو انگلستان اور سری لنکا کے خلاف پے در پے شکستوں کا سامنا کرنا پڑا جبکہ آسٹریلیا انگلستان کے خلاف 4-0 کی بدترین شکست کے بعد ایک روزہ درجہ بندی میں اپنی طویل بادشاہت کھو بیٹھا ہے اور اب شدت سے فتوحات کا متمنی ہے۔

پاکستانی اسپنرز سے نمٹنے کے لیے بھرپور تیاری کر رکھی ہے: ڈیوڈ وارنر (تصویر: Getty Images)

پاکستانی اسپنرز سے نمٹنے کے لیے بھرپور تیاری کر رکھی ہے: ڈیوڈ وارنر (تصویر: Getty Images)

لیکن متحدہ عرب امارات کے گرم موسم کے علاوہ اس راہ میں آسٹریلیا کے لیے حائل سب سے بڑی رکاوٹ ممکنہ طور پر اسپن گیند بازی کے شعبے میں پاکستان کی قوت ہے۔ پاکستان کے دو مرکزی اسپنر سعید اجمل اور محمد حفیظ اس وقت عالمی درجہ بندی میں بالترتیب تیسرے اوردوسرے نمبر پر ہیں جبکہ عبد الرحمٰن ایک اضافی آپشن ہیں جبکہ شعیب ملک اور شاہد آفریدی بھی ایک روزہ طرز میں اپنی آل راؤنڈ صلاحیتوں کے باعث مانے جاتے ہیں۔ یوں پاکستان کے 15 رکنی دستے میں 5 جانے مانے اسپنرز شامل ہیں اس لیے کم از کم اسپن کے شعبے میں تو آسٹریلیا کو پاکستان کے ہاتھوں مشکلات کا سامنا کرنا ہی پڑے گا ۔ اور آسٹریلیا کے شعلہ فشاں اوپنر ڈیوڈ وارنر کے تازہ ترین بیان سے اس کی تصدیق بھی ہوتی ہے کہ آسٹریلیا نے بحیثیت چیلنج اس کو قبول کیا ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے بہترین تیاریاں بھی کی ہیں۔

جمعرات کو دبئی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈیوڈ وارنر کا کہنا تھا کہ ”آسٹریلیا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسپن گیند بازی کے سامنے وہ پریشان ہو جاتا ہے اور ہمیں یہ بھی اندازہ ہے کہ پاکستان کے پاس کافی اسپن باؤلرز ہیں۔ تاہم ہم نے دورے سے قبل ڈارون میں لگائے گئے کیمپ میں بیٹنگ بہترین انتظامات کیے گئے، جہاں بیٹنگ کوچ جسٹن لینگر نے اسپنرز کے لیے مددگار پچوں پر ہمیں خوب تربیت کروائی۔ اب ہم اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے بہت اچھی طرح تیار ہیں۔“

ڈیوڈ وارنر، جو ٹی ٹوئنٹی میں اپنی تیز رفتار بلے بازی کے باعث مشہور ہیں ، کا کہنا تھا کہ میرے لیے سیریز میں رنز کی رفتار کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہوگا، میں تین گیندیں ضایع کرنے کے بعد لازمی گیند کو باہر کی راہ دکھانے کی حکمت عملی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ایسی کوئی بھی حرکت ہمیں مشکل صورتحال سے دوچار کر سکتی ہے اور اس کا مطلب ہوگا کہ میں ٹیم کے لیے نہيں بلکہ اپنے لیے کھیل رہا ہوں۔

پاکستان کے خلاف سیریز کا باضابطہ آغاز 28 اگست کو پہلے ایک روزہ سے ہوگا جس کے بعد دو مزید ون ڈے میچز اور بعد ازاں 3 ٹی ٹوئنٹی مقابلے کھیلے جائیں گے تاہم آسٹریلیا اس سے قبل افغانستان کے خلاف واحد ایک روزہ مقابلہ کھیلے گا۔ یہ تاریخی مقابلہ 25 مارچ کو شارجہ میں کھیلا جائے گا۔

متحدہ عرب امارات کے سخت گرم موسم کو پیش نظر رکھتے ہوئے تمام ایک روزہ مقابلے شام 7 بجے شروع ہو کر رات گئے ختم ہوں گے جبکہ ٹی ٹوئنٹی میچز رات 9 بجے شروع ہوں گےتاکہ دن کی تیز دھوپ اور حدت سے بچا جا سکے۔

Facebook Comments