ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء کےلیے پاکستان فیورٹ ہے: وسیم اکرم

دنیائے کرکٹ کا دوسرا سب سے بڑا ٹورنامنٹ ”ورلڈ ٹی ٹوئنٹی“ اگلے ماہ کے وسط سے سری لنکا میں شروع ہو رہا ہے اور دنیا بھر کی ٹیمیں سال کے اس اہم ترین اعزاز کو حاصل کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیں گی۔ اب جبکہ ٹورنامنٹ کے آغاز میں ایک ماہ سے بھی کم کا عرصہ رہ گیا ہے تو تیاریوں کے ساتھ ماہرین کے تجزیے بھی زور پکڑتے جا رہے ہیں جو مختلف ٹیموں کو عالمی چیمپئن بننے کا اہم ترین امیدوار قرار دے رہے ہیں۔ انہی میں ماضی کے عظیم باؤلر وسیم اکرم بھی شامل ہیں جنہوں نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2012ء کے لیے پاکستان کو فیورٹ ترین ٹیموں میں سے ایک قرار دیا ہے۔

پاکستان 2009ء میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیت چکا ہے (تصویر: AFP)

پاکستان 2009ء میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیت چکا ہے (تصویر: AFP)

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء کا آغاز 18 ستمبر سے سری لنکا میں ہو رہا ہے جہاں انگلستان اپنے اعزاز کا دفاع کرے گا اور قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی موجودہ ٹیم میں وہ تمام صلاحیتیں موجود ہیں جو یہ ٹورنامنٹ جیتنے کی اہل کسی بھی ٹیم میں ہو سکتی ہیں۔ وسیم اکرم آجکل انڈر 19 عالمی کپ پر رواں تبصرے کے لیے آسٹریلیا میں مقیم ہیں، جہاں ان کا کہنا ہے کہ پاکستان فیورٹس میں سے ایک ہے۔

”عمران نذیر اور عبد الرزاق جیسے کھلاڑی تن تنہا کسی بھی مقابلے کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں اور ایسی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ پاکستان ٹورنامنٹ میں اچھی کارکردگی نہ دکھائے۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات میں آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں بھی ان کی فتح کے امکانات کافی ہیں۔“

البتہ سری لنکا کےخلاف حالیہ سیریز میں پاکستان کی کارکردگی دیکھنے کے بعد انہوں نے انہوں نے قومی کرکٹ ٹیم کے بلے بازوں کو مشورہ دیاہے کہ وہ جارحانہ و مثبت رویہ اپنائیں ۔ ”کبھی کبھی مجھے ایسا لگا کہ میں ٹیسٹ میچ دیکھ رہا ہوں۔ اس لیے یہ حکمت عملی چھوڑ کر ہمارے بلے بازوں کو اپنے اسٹرائیک ریٹ کو130سے اوپر رکھنا ہوگا اور ہر چوکے، چھکے کے بعد ایک، دو رنز لینا ہوں گے تاکہ اسکور بورڈ متحرک رہے۔ اگر وہ مختصر ترین طرز کی اس کرکٹ میں کامیابیاں سمیٹنا چاہتے ہیں تو انہیں مہم جویانہ طریقہ اپنانا ہوگا۔“

پاکستان نے 2007ء میں ہونے والے پہلے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں فائنل تک رسائی حاصل کی تھی لیکن سخت مقابلے کے بعد بھارت سے شکست کھا گیا تھا البتہ 2009ء میں ہونے والے اگلے عالمی کپ میں اس نے سری لنکا کے خلاف فائنل جیت کر عالمی اعزاز اپنے نام کیا۔ 2010ء میں ویسٹ انڈیز میں ہونے والے تیسرے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں وہ سیمی فائنل میں آسٹریلیا سے شکست کھا کر ٹورنامنٹ سے باہر ہوا تھا۔

وسیم اکرم نے کہا کہ وہ قومی ٹیم کے ساتھ کل وقتی حیثیت سے کوچ رہنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے کیونکہ ان کے پاس ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے لیے وقت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے لیے کوچنگ اور ٹیلی وژن کمنٹری کے بعد بچ جانے والا وقت اپنے بچوں کو دینا چاہتا ہوں اور مزید کوئی ذمہ داری نہیں نبھا سکتا۔ البتہ میں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر انتخاب عالم سے ایک ملاقات میں کہا تھا کہ میں نومبر میں دستیاب ہوں اور کراچی میں تیز باؤلرز کے لیے ایک کیمپ لگانا چاہوں گا۔ واضح رہے کہ پاکستان نے آج ہی سابق گیند باز محمد اکرم کو قومی کرکٹ ٹیم کا نیا باؤلنگ کوچ مقرر کیا ہے ۔

Facebook Comments