آسٹریلیا کے خلاف کسی خفیہ گیند کا منصوبہ نہیں بنایا: سعید اجمل

علاقائی ٹی 20 کرکٹ لیگز کی بھرمار میں رواں سال سری لنکا پریمیئر لیگ (ایس ایل پی ایل) نے آغاز لیا ہے اور ابتدا میں تو کافی اچھا تاثر قائم کیا ہے۔علاقائی سطح پر چند باصلاحیت ترین کھلاڑیوں کے ساتھ ہی ایک انتہائی معیاری ٹورنامنٹ ثابت ہو رہا ہے۔

”لائن، لینتھ اور کنٹرول“ کی بنیادی حکمت عملی اپنائیں گے: سعید اجمل (تصویر: AFP)

”لائن، لینتھ اور کنٹرول“ کی بنیادی حکمت عملی اپنائیں گے: سعید اجمل (تصویر: AFP)

سری لنکا کے مقامی کھلاڑیوں کے شانہ بشانہ ایشیائی کرکٹ کے کچھ درخشندہ ستارے بھی لیگ کھیل رہے ہیں جن میں سری لنکا کے سنتھ جے سوریا، متیاہ مرلی دھرن، لاستھ مالنگا کے علاوہ پاکستان کے شاہد خان آفریدی، مصباح الحق، عمر گل، عبد الرزاق، کامران اکمل، عمر اکمل، محمد حفیظ اور سعید اجمل بھی شامل ہیں۔ موخر الذکر بلاشبہ اس وقت دنیا کے بہترین اسپنر ہیں اور انہوں نے معروف کرکٹ ویب سائٹ پاک پیشن ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں سری لنکا لیگ اور آسٹریلیا کے خلاف آنے والی اہم ترین سیریز پر روشنی ڈالی۔

کندوراتا واریئرز کے کلیدی رکن کی حیثیت سے سعید اجمل نے اب تک اچھی کارکردگی دکھائی ہے اور 5 مقابلوں میں 5 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ”چند مشہور بین الاقوامی اور انہی کے جتنے باصلاحیت مقامی کھلاڑیوں کے ساتھ ایک بڑا لیگ ٹورنامنٹ کھیلنا ایک زبردست تجربہ ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ میں نے اس سے قبل کبھی لیگ نہیں کھیلی ، سوائے بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کے، اس لیے میں نے اس تجربے سے بہت لطف اٹھایا ہے اور میں سخت محنت اور مہمان نوازی پر لیگ منتظمین کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ یہ ایک زبردست ٹورنامنٹ ہے۔“

اولین پانچ میں سے تین میچز جیتنے کے بعد پوائنٹس ٹیبل پر دوسرے نمبر پر موجود سعید اجمل کی ٹیم کندوراتا واریئرز سیمی فائنل کے لیے جگہ تقریباً پا چکی ہے اور اس پر سعید اجمل کافی خوش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ”ابتداء میں ہماری ٹیم نے سست آغاز لیا اور اب ہم نے مقابلے جیتنا شروع کر دیے ہیں، ٹیم میں جوش عروج پر ہے اور یقین موجود ہے کہ ہم آگے کا سفر جاری رکھیں گے۔“

ایک ہفتے میں سری لنکا پریمیئر لیگ اپنے اختتام کو پہنچے گی تو پاکستانی کھلاڑیوں کی نگاہیں اگلے ہدف پر ہوں گی، متحدہ عرب امارات میں آسٹریلیا جیسے سخت حریف کے لیے تین ایک روزہ اور اتنے ہی ٹی ٹوئنٹی مقابلے۔ سال کے اس گرم ترین حصے میں عرب امارات جیسے صحرائی حصے میں سیریز کھیلنے پر آسٹریلیا کرکٹ ایسوسی ایشن سمیت کئی کھلاڑیوں کو بھی تحفظات تھے لیکن سعید اجمل نہیں سمجھتے کہ موسم پاکستانی کھلاڑیوں پر کوئی اثر ڈالے گا کیونکہ ان کے خیال میں پاکستانی کھلاڑی اس موسم کے عادی ہیں۔ ”کیونکہ کھیلنے کے اوقات میں مناسب تبدیلی کی گئی ہے اس لیے یہ ہمارے لیے پریشانی کا باعث نہیں۔“

آسٹریلیا کے دستے میں ایک روزہ طرز کے خطرناک ترین بلے باز شامل ہیں، جیسا کہ مائیکل کلارک، ڈیوڈ وارنر، میتھیو ویڈ اور ہسی برادران، جو بلاشبہ دبئی، شارجہ اور ابوظہبی کی بلے بازوں کے لیے مددگار وکٹوں کا بھرپور لطف اٹھائیں گے۔ یہ دنیا کے کسی بھی باؤلنگ اٹیک کے لیے ایک زبردست خطرہ ہوگا۔ لیکن سعید اجمل اس چیلنج کو سمجھنے کے باوجود آسٹریلیا کے بلے بازوں سے نمٹنے کے لیے ”لائن، لینتھ اور کنٹرول“ کی بنیادی حکمت عملی کو کافی سمجھتے ہیں۔

”یہ بلاشبہ ایک بڑی سیریز ہے کیونکہ یہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے محض چند روز قبل ہو رہی ہے لیکن میری توجہ اس پر مرکوز ہے کہ میں کیا کر سکتا ہوں، اس لیے میں نے آسٹریلیا کے خلاف کسی بھی خصوصی طریقے اور خفیہ گیندوں کا منصوبہ نہیں بنایا ، بحیثیت ٹیم ہم کنٹرول کے ساتھ باؤلنگ کریں گے اور اپنی صلاحیتوں کے مطابق بہترین کھیل پیش کریں گے تاکہ اس اہم ترین سیریز کو جیتیں۔“

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان سیریز کا باضابطہ آغاز 28 اگست سے پہلے ایک روزہ کے ذریعے ہو رہا ہے۔

Facebook Comments