[آج کا دن] دنیائے کرکٹ کو ہلا کر رکھ دینے والے واقعے کو دو سال مکمل

آج سے ٹھیک دو سال قبل آج ہی کے روز برطانیہ کے مصالحہ اخبار "نیوز آف دی ورلڈ" نے وہ سنسنی خیز خبر پیش کی جس نے پاکستانی کرکٹ کی چولیں ہلا کر رکھ دیں کہ اُس کے دو مرکزی گیند بازوں نے سٹے بازوں سے رقم لے کر انگلستان کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میں جان بوجھ کر نو بالز پھینکی ہیں۔

یہ قضیہ نو بالز پھینکنے والے محمد آصف اور محمد عامر کے علاوہ اُس وقت کے کپتان سلمان بٹ کو لے ڈوبا۔ گو کہ دوران تحقیقات وکٹ کیپر کامران اکمل اور تین دیگر کھلاڑیوں پر بھی الزام عائد کیے گئے اور لیکن الزام صرف آصف، عامر اور سلمان پر ہی ثابت ہو پایا جن پر پہلے بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے کم از کم پانچ، پانچ سال کی طویل پابندیاں عائد کیں اور بعد ازاں برطانیہ میں بدعنوانی و دھوکہ دہی کے مقدمے میں عدالت نے تینوں کو مختلف عرصے کی قید کی سزائیں سنائیں۔

کھلاڑیوں کے پکڑے جانے سے لے کر بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی جانب سے پابندیوں اور پھر برطانیہ میں مقدمے کی سماعت سے لے کر کھلاڑیوں کی رہائی تک کرک نامہ نے نہ صرف آپ کو لمحہ بہ لمحہ بہت تفصیل سے آگاہ کیا بلکہ بھرپور کوشش کی کہ خبر بتائی نہ جائے بلکہ سمجھائی جائے۔ قانونی پیچیدگیوں کو آسان انداز میں سمجھانا خود ہمارے لیے بڑامشکل تھا لیکن چندصحافی و وکیل دوستوں کی مدد سے ہم اس چیلنج پر پورا اترے اور یہ بات صحافتی حلقوں میں بڑے پیمانے پر تسلیم کی گئی کہ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کی کوریج میں کرک نامہ نے پاکستان کے تمام تر ذرائع ابلاغ کو مات دی۔ بہرحال، ہمارا اس تحریر کا موضوع یہ نہیں بلکہ اس واقعے کے دو سال بعد موجودہ صورتحال اور مستقبل کا منظرنامہ ہے۔

تینوں کھلاڑی برطانوی قید خانوں سے رہا ہو کر وطن واپس آ چکے ہیں، اور کم از کم دو کھلاڑیوں سلمان بٹ اور محمد آصف کا تو بین الاقوامی کیریئر تمام ہو ہی چکا ہے لیکن سب کی نظریں ستمبر 2015ء اور محمد عامر پر ہیں۔ اک ایسا نوجوان باؤلر، جسے مستقبل کا وسیم اکرم قرار دیا گیا، اپنے ایامِ طفلی میں قبیح فعل کا مرتکب ہو کر باہر بیٹھا ہے۔

کیونکہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے قوانین کے تحت فکسنگ میں ملوث ہونے کی سزا کم از کم پانچ سال ہے، اس لیے محمد عامر اسی کے حقدار قرار پائے۔ گو کہ انہوں نے عدالت میں اعتراف جرم کر کے اورپھر معافی نامے کے ذریعے اپنے نام کے ساتھ لگی کالک مٹانے کی کوشش کی تاہم انہوں نے بہت زیادہ دیر کر دی۔ اگر وہ آئی سی سی کی سماعت کے دوران ہی اقرار جرم کرتے تو شاید منظرنامہ مختلف ہوتا۔ بہرحال، پاکستان کرکٹ بورڈ کے موجودہ سربراہ ذکا اشرف اور کئی سابق کھلاڑی اُن پر دست شفقت رکھنے اور مستقبل کے لیے رہنمائی کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں، جس سے لگتا ہے کہ وہ ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی کرکٹ میں واپس آئیں گے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کیا وہ اتنا عرصہ فٹ بھی رہ سکیں گے؟ جبکہ ان پر تمام اقسام کے میچز کھیلنے پر پابندی ہے۔ اس لیے محمد عامر کی دنیائے کرکٹ میں واپس اس وقت سب سے بڑا معمہ ہے اور جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا اس کے حوالے سے مزید الجھنیں پیدا ہوں گی۔

بہرحال، اس سے ہٹ کر اگر دیکھا جائے تو اتنے بڑے واقعے کے سامنے آنے کے بعد اور مشہور کھلاڑیوں کی جگ ہنسائی کے باوجود فکسنگ کی دنیا سجی رہی۔ پاکستان کے دانش کنیریا اور اپنے کاؤنٹی ساتھی مروین ویسٹ فیلڈ کے ساتھ سٹے بازی میں ملوث پائے گئے اور بعد ازاں تحقیقات کے بعد انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے ان پر تاحیات پابندی عائد کر دی۔

اس سے کچھ عرصہ قبل دنیا کی سب سے بڑی کرکٹ لیگ "انڈین پریمیئر لیگ" میں فکسنگ کے ہوشربا انکشافات ہوئے جن کی بنیاد پر بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے ایک کھلاڑی پر تاحیات، ایک پر پانچ سال اور تین کھلاڑیوں پر ایک، ایک سال کی پابندی عائد کی۔

اس سے اندازہ ہوتا ہےکہ محض پکڑے جانے والے چند کھلاڑیوں کو سزا دینے سے معاملات حل نہ ہوں گے بلکہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل اور اس سے ملحقہ بورڈز کو مزید سخت اقدامات کرنا پڑیں گے تاکہ آئندہ کوئی محمد عامر جتنا باصلاحیت کھلاڑی ضایع نہ ہو۔ اب تک یہی دیکھا گیا کہ آئی سی سی کا اینٹی کرپشن اینڈ سیکورٹی یونٹ ایک عضو معطل ہے، جس نے آج تک کوئی ایسی انقلابی پیشرفت نہیں کی۔ اس کے مقابلے میں برطانیہ اور بھارت کے ذرائع ابلاغ کے ادارے زیادہ تیز رہے جنہوں نے دو بڑے اسکینڈلز کھول کر رکھ دیے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اے سی ایس کی جدید انداز سے تنظیم نو کی جائے اور اسے پیشہ ورانہ انداز میں چلایا جائے۔

کرک نامہ گزشتہ ڈیڑھ سے زائد سال میں فکسنگ اسکینڈل پر کئی تحاریر پیش کر چکا ہے، جن میں سے چند تحاریر پڑھنے کے قابل ہیں، ضرور ملاحظہ کیجیے:

Facebook Comments