ناصر اور اجمل کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سیریز برابر کر دی

ناصر جمشید کی زبردست بلے بازی اور انتہائی مرطوب و گرم موسم نے آسٹریلیا کے پہلے بلے بازی کے فیصلے کو غلط ثابت کر دکھایا اور پاکستان نے توقعات کے برخلاف 249 رنز کا ایک بھاری ہدف با آسانی 3 وکٹوں کے نقصان پر پورا کرتے ہوئے سیریز 1-1 سے برابر کر ڈالی۔

ناصر جمشید محض تین رنز کے فاصلے سے ایک روزہ کیریئر کی دوسری سنچری سے محروم رہ گئے (تصویر: AP)

ناصر جمشید محض تین رنز کے فاصلے سے ایک روزہ کیریئر کی دوسری سنچری سے محروم رہ گئے (تصویر: AP)

ابوظہبی کے شیخ زاید اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس مقابلے میں آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا، یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ مغرب کے بعد نسبتاً گرم حصے میں پاکستان کو فیلڈنگ و باؤلنگ جیسا مشکل کام دے کر رات کو خود بہتر موسم میں باؤلنگ کروائے گا لیکن انہیں اندازہ نہیں تھا کہ پاکستانی بلے بازوں کی بہترین کارکردگی اور اوس اس کے سارے منصوبوں کو خاک میں ملا دے گی۔ اوس کی وجہ سے گیند اس قدر گیلا ہو گیا تھا کہ ہر مرتبہ پھینکنے سے قبل باؤلر کو اسے کپڑے سے خشک کرنا پڑتا اور باؤلرز کے لیے لائن و لینتھ کو برقرار رکھنا مشکل ہو گیا، انہوں نے کل 20 وائیڈ گیندیں پھینکیں اور یوں پاکستان کے لیے ایک مشکل ہدف کو آسان بنایا۔

لیکن اس اہم ترین سبب کے باوجود پاکستان کے بلے بازوں خصوصاً ناصر جمشید کی بیٹنگ کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ انہوں نے ایسے وقت میں جب پاکستان ایک نسبتاً بڑے ہدف کا تعاقب کر رہا تھا نہ صرف اوپنر محمد حفیظ کے ساتھ 66 رنز کی عمدہ رفاقت قائم کی بلکہ اس کے بعد اظہر علی کے ساتھ دوسری وکٹ پر 101 رنز کی شراکت داری بنا کر میچ مکمل طور پر پاکستان کے حق میں پلٹا دیا۔ اس پوری اننگز کے دوران وہ زیادہ تر حریف گیند بازوں پر حاوی رہے اور دو بہت ہی خوبصورت چھکوں سے میدان میں موجود ہزاروں شائقین کو محظوظ کیا۔ خوش قسمتی سے فیصلوں پر نظر ثانی کے نظام "ڈی آر ایس" نے انہیں اننگز کے دوسرے اوور ہی میں اس وقت بچا لیا جب وہ امپائر کی جانب سے ایل بی ڈبلیو آؤٹ قرار پائے لیکن نظرثانی کے فیصلے نے انہیں ناٹ آؤٹ قرار دیا اور اس کے بعد وہ حریف گیند بازوں پر چڑھ دوڑے جو ہر گزرتے لمحے کے ساتھ باؤلنگ کے حوالے سے جدوجہد کرتے دکھائی دے رہے تھے۔

البتہ وہ اپنے ایک روزہ کیریئر کی دوسری سنچری مکمل نہ کر پائے اور 97 کے اسکور پر گیند کو مڈ آف کے اوپر سے چوکے کے لیے کھیل کے سنچری مکمل کرنے کی کوشش میں اسی فیلڈ پر مچل اسٹارک کے ہاتھوں دھر لیے گئے۔ انہوں نے محض 98 گیندوں پر 11 چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے یہ اننگز تراشی اور صرف تین رنز کے فرق سے ایک اور یادگار سنچری سے محروم رہ گئے۔ ان کی اب تک کی واحد سنچری رواں سال ایشیا کپ میں بھارت کے خلاف تھی، اور اگر وہ آج بھی تہرے ہندسے کی اننگز کھیل جاتے تو دو بہترین ٹیموں کے خلاف یہ ان کی یادگار اننگز بن جاتیں۔

گو کہ ناصر کے آؤٹ ہوتے وقت بھی پاکستان کو فتح کے لیے 82 رنز درکار تھے لیکن اس نے سوائے اسد شفیق کے کسی اور بلے باز کا نقصان نہ اٹھایا۔ اظہر علی 59 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے جبکہ مصباح الحق نے 35 رنز بنائے۔

گو کہ نصف شب کے بعد آسٹریلیا کے تیز رفتار گیند بازوں کا سامنا کرنا ایک مشکل کام تھا لیکن مرطوب موسم نے آسٹریلوی باؤلرز کے جسم کا تمام پانی ہی چوس لیا تھا۔ ایک مرتبہ تو مچل اسٹارک پانچ گیندیں کرانے کے بعد چھٹی گیند پھینکنے کی ہمت تک نہ کرپائے اور میدان سے باہر چلے گئے۔ ان کی جگہ کپتان مائیکل کلارک نے چھٹی گیند پھینکی۔

پاکستان نے 44 ویں اوور میں 249 رنز کا ہدف محض تین وکٹوں کے نقصان پر پورا کر لیا۔ آسٹریلیا نے باؤلنگ میں 8 کھلاڑیوں کو آزمایا لیکن سوائے جیمز پیٹن سن، مچل جانسن اور ڈینیل کرسچن کے کوئی بھی کامیابی نہ سمیٹ سکا۔

قبل ازیں پاکستان سعید اجمل اور دیگر اسپنرز کی عمدہ گیند بازی کے باوجود آسٹریلیا کو ایک بڑا مجموعہ حاصل کرنے سے نہ روک سکا۔ گزشتہ میچ میں ناقص کارکردگی کی بنیاد پر پاکستان نے اعزاز چیمہ کی جگہ جنید خان کو ٹیم میں شامل کیا جنہوں نے اپنے پہلے ہی اوور میں میتھیو ویڈ کو آؤٹ کر کے اپنی اہلیت ثابت کر دکھائی جبکہ شاہد آفریدی مبینہ طور پر کمر کی تکلیف کے باعث نہ کھیلے اور ان کی جگہ اسپنر عبد الرحمن کو شامل کیا گیا۔

سعید اجمل نے آسٹریلیا کے خلاف کیریئر کی بہترین باؤلنگ کی اور 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا (تصویر: AP)

سعید اجمل نے آسٹریلیا کے خلاف کیریئر کی بہترین باؤلنگ کی اور 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا (تصویر: AP)

آسٹریلیا کے محتاط آغاز کے بعد جب اسپنرز میدان میں اترے تو انہوں نے ایک ساتھ ہی ڈیوڈ وارنر، مائیکل کلارک اور ڈیوڈ ہسی کی وکٹیں سمیٹ لی۔ وارنر غالباً اپنے کیریئر کی سست ترین اننگز کھیلنے کے بعد سعید اجمل کے ہاتھوں ایل بی ڈبلیو ہوئے۔ انہوں نے 68 گیندوں پر صرف 24 رنز بنائے۔ابھی آسٹریلیا اس دھچکے سے نکل ہی نہ پایا تھا کہ دوسرے اینڈ سے محمدحفیظ نے کپتان مائیکل کلارک کو وکٹوں کے سامنے دھر لیا۔ وہ 54 گیندوں پر 37 رنز بنا پائے۔ اگلے ہی اوور میں سعید اجمل نے ڈیوڈ ہسی کو صفر پر پویلین کا راستہ دکھا کر تہلکہ مچا دیا۔ 87 رنز پرآدھے اوورز اور 4 وکٹیں گنوانے کےبعد آسٹریلیاکےبقیہ بلے بازوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہو گئی۔ خاص طور پرتجربہ کار مائیکل ہسی اور جارج بیلے نے اسے بخوبی نبھایا بھی۔ دونوں نے پانچویں وکٹ پر 66 رنز کا اضافہ کیا، گو کہ جارج بیلے 39 رنز بنانے کے بعد 'مسٹر کرکٹ' کا ساتھ چھوڑ گئے لیکن گلین میکس ویل اور ڈینیل کرسچن نے 28 اور 18 رنز کی مفید اننگز کھیل کر اسکور کو آگے بڑھانے میں مدد دی۔ میکس ویل نے عبد الرحمن کی دو گیندوں پر دو بہت ہی شاندار چھکے رسید کیے جن میں سے پہلا سوئپ پر مارا گیا جو حقیقتاً ایک قابل دید و قابل داد شاٹ تھا جبکہ اگلی گیند پر انہوں نے گیند کو لانگ آن کی راہ دکھائی۔ البتہ دونوں بلے باز اننگز کے 46 ویں اوور میں سعید اجمل کی خوبصورت باؤلنگ کا شکار ہو گئے۔

مائیک ہسی نے 72 گیندوں پر 2 چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 61 رنز بنائے جبکہ میکس ویل 2 چھکوں سے 27 گیندوں پر 28 رنز بنانے میں کامیاب رہے۔ لیکن حتمی اوورز میں سہیل تنویر کی نو بالز پر ملنے والی فری ہٹس اور بلے کے بیرونی و اندرونی کناروں کے ذریعے ملنے والے خوش قسمت چوکوں نے آسٹریلیا کو اندازے سے کہیں زیادہ یعنی 248 رنز تک پہنچنے میں مدد دی۔

پاکستان کی جانب سے ایک مرتبہ سعید اجمل سب سے کامیاب باؤلر رہے جن کا سامنا کرنا تقریباً تمام ہی آسٹریلوی بلے بازوں کے لیے ایک بڑا چیلنج دکھائی دیا۔ انہوں نے اپنے 10 اوورز میں محض 32 رنز دیے اور 4 وکٹیں حاصل کیں۔ جبکہ اعزاز چیمہ کی جگہ کھلائے گئے جنید خان گو کہ سستے ثابت نہ ہوئے تاہم انہوں نے 3 وکٹیں ضرور سمیٹیں۔ محمد حفیظ اور عبد الرحمن نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

ناصر جمشید کو یادگار بیٹنگ پر مقابلے کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اب جبکہ سیریز 1-1 سے برابر ہو چکی ہے، دونوں ٹیمیں 3 ستمبر کو شارجہ میں حتمی معرکے میں آمنے سامنے ہوں گی، جہاں جیت سیریز کے فاتح کا اعلان کرے گی۔

پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا

دوسرا ایک روزہ بین الاقوامی مقابلہ

31 اگست و یکم ستمبر 2012ء

بمقام: شیخ زاید اسٹیڈیم، ابوظہبی، متحدہ عرب امارات

نتیجہ: پاکستان 7 وکٹوں سے فتح یاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: ناصر جمشید

آسٹریلیا رنز گیندیں چوکے چھکے
میتھیو ویڈ ب جنید 7 8 1 0
ڈیوڈ وارنر ایل بی ڈبلیو ب سعید اجمل 24 68 2 0
مائیکل کلارک ایل بی ڈبلیو ب محمد حفیظ 37 54 3 0
مائیکل ہسی ب سعید اجمل 61 72 1 2
ڈیوڈ ہسی ایل بی ڈبلیو ب سعید اجمل 0 2 0 0
جارج بیلے ک و ب عبد الرحمن 39 46 3 0
گلین میکس ویل اسٹمپ کامران ب سعید اجمل 28 27 0 2
ڈینیل کرسچن ک ناصر ب جنید 18 15 2 0
مچل جانسن ب جنید 2 7 0 0
جیمز پیٹن سن ناٹ آؤٹ 2 2 0 0
مچل اسٹارک ناٹ آؤٹ 11 4 2 0
فاضل رنز (ل ب 9، و 5، ن ب 5) 19
مجموعہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 248

 

پاکستان (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
سہیل تنویر 9 0 59 0
جنید خان 9 0 52 3
محمد حفیظ 10 1 28 1
عبد الرحمن 10 0 54 1
سعید اجمل 10 0 32 4
اظہر علی 2 0 14 0

 

پاکستانہدف: 249 رنز رنز گیندیں چوکے چھکے
محمد حفیظ ک مائیک ہسی ب کرسچن 23 27 2 0
ناصر جمشید ک اسٹارک ب جانسن 97 98 11 2
اظہر علی ناٹ آؤٹ 59 86 4 0
اسد شفیق ب پیٹن سن 9 17 0 0
مصباح الحق ناٹ آؤٹ 35 34 5 0
فاضل رنز (ل ب 6، و 20) 26
مجموعہ 43.4 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 249

 

آسٹریلیا (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
جیمز پیٹن سن 8 0 46 1
مچل اسٹارک 7.5 0 43 0
مچل جانسن 9 0 51 1
ڈینیل کرسچن 8 0 40 1
گلین میکس ویل 4.4 0 37 0
مائیکل کلارک 3.1 0 12 0
مائیکل ہسی 1 0 8 0
ڈیوڈ ہسی 2 0 6 0

Facebook Comments