آسٹریلیا سے شکست، مستقبل کے لیے بہتر لائحہ عمل کی ضرورت

پاکستان آسٹریلیا سے دس سال بعد ایک روزہ بین الاقوامی دو طرفہ سیریز جیتنے کا سنہری موقع گنوابیٹھا۔ اب پاکستان کو 2016ء تک انتظار کرنا پڑے گااوراُس وقت یہ دس سال 14 سال بن جائیں گے اور آپ کو پڑھنے کو ملے گا کہ پاکستان 14 سال بعد آسٹریلیا سے دوطرفہ ایک روزہ سیریز جیتنے کی کوشش کرے گا۔

پاکستان کے بلے بازوں کے پاس 'پاور پلے' میں بیٹنگ کرنے کا کوئی منصوبہ نظر نہیں آتا (تصویر: AFP)

پاکستان کے بلے بازوں کے پاس 'پاور پلے' میں بیٹنگ کرنے کا کوئی منصوبہ نظر نہیں آتا (تصویر: AFP)

ایک روزہ سیریز کے بعد دونوں کپتانوں فاتح مائیکل کلارک اور شکست خوردہ مصباح الحق نے ذرائع ابلاغ سے بات چیت کی۔ اس بات چیت میں مجھے پاکستان کے کپتان مصباح الحق کی گفتگو میں چند توجہ طلب پہلو نظر آئے۔ مصباح الحق کی گفتگو سے پہلےآسٹریلوی کپتان مائیکل کلارک کے بیان کا ذکر کریں جنہوں نے کہا کہ اس وقت پوری ٹیم بے حد خوش ہے، خاص طور پر انگلستان سے چار صفر کی شکست کے بعد پاکستان کے خلاف اس جیت پرلڑکوں کو فخر کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا یہ پاکستان جیسی بہترین ٹیم کے خلاف ایک مشکل فتح تھی۔ ہم نے اس سیریز کے لئے شمالی آسٹریلیا کے شہر ڈارون میں خصوصی تیاری کی تھی لیکن یہاں آکر حالات پھر بھی بہت مختلف ملے، خاص طور پر گرمی کے حوالے سے۔ میں نے زندگی میں اتنی گرمی اور حبس میں کرکٹ نہیں کھیلی۔ لیکن انتہائی خوشی کی بات یہ ہے کہ انفرادی کارکردگی کے بجائے یہ سیریز پوری ٹیم کی کارکردگی کی بدولت ہم نے جیت لی۔

دوسری طرف پاکستان کے قائد مصباح الحق نے آخری ایک روزہ میں ایک تیز باؤلر کے ساتھ میدان میں اترنے کے اپنے لائحہ عمل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ٹیم کا انتخاب اپنی طاقت یعنی سپن باؤلنگ، اور مخالف بلے بازوں کو اسے کھیلنے میں درپیش مشکلات کو مدنظر رکھ کر کیا تھا۔ اس کے بعد مصباح الحق نے ایک عجیب و غریب بیان داغا۔

مصباح الحق نے شاہد آفریدی کی تیسرے ایک روزہ میں واپسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے آفریدی کو سپن باؤلنگ کو مضبوط کرنے کے لیے واپس بلایا، انہوں نے پہلے میچ میں ٹھیک باؤلنگ کی تھی، اس لیے انہیں منتخب کیا گیا اور ہم صرف ایک تیز گیند باز کے ساتھ میدان میں اترے۔ جب ہم بیٹنگ کررہے تھے تو ہم نے شاہد آفریدی کو بیٹنگ ترتیب میں ترقی دیتے ہوئے تیسری پوزیشن پر بھیجا تاکہ تاکہ انہیں وکٹ پر ”سیٹل اِن“ ہونے یعنی جمنے کے لئے کچھ وقت مل سکے، لیکن بدقسمتی سے وہ رنز نہ بناسکے۔

اگر آپ نے اس مقابلے میں شاہد آفریدی کی بلے بازی نہیں دیکھی تو یوٹیوب پردیکھ لیں، ان کے انداز سے آپ محسوس کریں گے کہ انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ ایک ”پنچ ہٹّر“ کی طرح تیزی سے رنز بنانے کی کوشش کرو۔ کہیں سے بھی نہیں لگ رہا تھا کہ شاہد آفریدی ”جم کر کھیلنے“ کی کوشش کررہے ہیں۔ بلکہ شاید پہلی گیند ہی انہوں نے مڈ آف کے اوپر کھیلتے ہوئے چوکے کے لیے بھیجی۔ واضح ہو کہ اس وقت پاکستان کی اننگز کے آدھے اوورز باقی تھے۔ اب مجھے نہیں معلوم کہ مصباح الحق ذرائع ابلاغ سے غلط بیانی کررہے ہیں یا آفریدی نے ہدایات کو پس پشت ڈال کراپنی من مانی کی۔

یہاں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ آفریدی سے اس کے علاوہ اور کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ ان کا تو کام ہی یہی ہے کہ وکٹ پر جائے اور دھواں دار بلےبازی کا مظاہرہ کرے۔ یہاں پھر یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر آفریدی 16 سال کرکٹ کھیلنے کے بعد بھی ٹیم کی ضروریات کے مطابق بلے بازی نہیں کرسکتے تو پھر ان کا انتخاب خاص باؤلر کی حیثیت سے ہونا چاہیے نہ کہ آل راؤنڈر کے طور پر۔ اور اگر عبدالرحمٰن یا رضا حسن کی شکل میں پاکستان کے پاس ان سے اچھا باؤلر موجود ہے تو ان کا انتخاب چہ معنی دارد؟ یہاں اعتراض اس پر نہیں ہے کہ شاہدآفریدی وکٹ پر ٹھہرے کیوں نہیں۔ بلکہ اعتراض اس پر ہے کہ انہوں نے کپتان اور کوچ کی ہدایات کو نظرانداز کیوں کیا؟ اگر کھلاڑی اسی طرح کپتان اور کوچ کی منصوبہ بندی نظرانداز کرتے رہے تو بہترسےبہترمنصوبہ بندی بھی میچ نہیں جتاسکتی۔

آگے جاکر مصباح الحق نے خراب فیلڈنگ، اور گیند بازوں کے درمیان بہتر تال میل نہ ہونے کے علاوہ بیٹنگ پاور پلے میں ٹیم پاکستان کی خراب بیٹنگ کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ بیٹنگ پاور پلے کو کس طرح کھیلنا ہے اس پر ہمیں اب بھی کام کرنا ہے اور اس میں بہتری لانے کی سخت ضرورت ہے۔ اہم مواقع پر، جیسے بیٹنگ پاورپلے کے دوران، اگر ہم وکٹ گنواتے رہے تویہ صرف مخالف ٹیم کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔

یہاں پر ڈیو واٹمور سے جواب طلبی کی ضرورت ہے۔ کیونکہ پاور پلے کے قانون میں جب سے تبدیلی ہوئی ہے پاکستان اس سے فائدہ کی بجائے نقصان ہی اٹھا رہا ہے اور ڈیو واٹمور کو پاکستان کے بلے بازوں کی اس خامی کا ضرور معلوم ہوگا، جب انہوں نے ٹیم پاکستان کی کوچنگ کی ذمہ داریاں اپنے ہاتھوں میں لی تھیں۔ پہلے میچ میں جس طرح اسد شفیق آؤٹ ہوئے، وہ بھی واضح کررہا تھا کہ پاکستان کے بلے بازوں کے پاس پاور پلے میں بیٹنگ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ مثال کے طور پر اسدشفیق اور عمر اکمل کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ اگر بیٹنگ پاورپلے میں گیند بلے پر نہیں آرہی یا مخالف گیندباز بہت اچھی باؤلنگ کررہا ہے جس کی وجہ سے رنز نہیں بن رہے تو پھر آپ کو کیا کرنا ہے؟ لیکن اسد شفیق لائحہ عمل نہ ہونے کی وجہ سے دباؤ میں آگئے اور اپنی وکٹ آسٹریلیا کو تحفے میں دے دی۔ ڈیو واٹمور کو اب تک ٹیم پاکستان کے بلے بازوں کے لئے بیٹنگ پاورپلے میں ایک بہترین اور مکمل لائحہ عمل تیار کرلینا چاہیے تھا۔

Facebook Comments