آل راؤنڈ کارکردگی، پاکستان پہلا ٹی ٹوئنٹی با آسانی جیت گیا

ایک روزہ سیریز میں مایوس کن شکست کا سامنا کرنے کے بعد پاکستان مختصر ترین طرز یعنی ٹی ٹوئنٹی کے پہلے معرکے میں بالکل ہی مختلف روپ میں نظرآیا۔ نہ صرف یہ کہ گیند بازوں نے بہت عمدہ باؤلنگ کی بلکہ فیلڈرز نے ایک مرتبہ بھی کوئی کیچ اپنے ہاتھوں سے نہ چھوڑا۔ جس کی بدولت پاکستان آسٹریلیا کو محض 89 کے معمولی مجموعے پر محدود کرنے میں کامیاب ہوا اور پھر 15 اوورز میں صرف تین وکٹوں کے نقصان پر ہدف پورا کر کے سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر لی۔ 7 وکٹوں کی اس فتح سے پاکستان ٹی ٹوئنٹی کی عالمی درجہ بندی میں چھٹی سے چوتھی پوزیشن پر بھی پہنچ گیا ہے۔

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی تیاریوں کے لیے اہم سمجھی جانے والی سیریز کا شاندار آغاز پاکستان کے لیے ایک نیک شگون ہے (تصویر: AP)

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی تیاریوں کے لیے اہم سمجھی جانے والی سیریز کا شاندار آغاز پاکستان کے لیے ایک نیک شگون ہے (تصویر: AP)

شکست خوردہ ایک روزہ دستے کے کئی اراکین کے جانے کے بعد پاکستان محمد حفیظ کی قیادت میں بڑی حد تک تبدیل شدہ ٹیم کے ساتھ میدان میں اترا۔ عمر گل، جنہیں ایک روزہ مرحلے کے لیے آرام کا موقع دیا گیا تھا، ایک مرتبہ پھر اسٹرائیک باؤلر کی حیثیت سے واپس آئے جبکہ عمران نذیر، شعیب ملک اور عبد الرزاق کو بھی ٹیم میں شامل کیا گیا اور نوجوان اسپنر رضا حسن کو ٹی ٹوئنٹی کیریئر کے آغاز کا موقع دیا گیا۔ دوسری جانب آسٹریلیا بھی شین واٹسن جیسے زبردست آل راؤنڈر کی واپسی اور کیمرون وائٹ جیسے جارح مزاج بلے باز سے لیس ہوا۔

ٹاس جیت کر پاکستان نے پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا اور ابتدا ہی میں عمدہ گیند بازی کی وجہ سے آسٹریلیا پر ایسا دباؤ قائم کیا کہ وہ مدمقابل ٹھیر ہی نہ پایا۔ آسٹریلیا کی بدترین کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اوپنرز ڈیوڈ وارنر اور شین واٹسن کی جانب سے لگائے گئے تین چوکے ہی پوری اننگز میں لگائی گئی کل باؤنڈریز تھے اور ان دونوں کے گزرنے کے بعد آخر تک کوئی بھی بلے باز ایک مرتبہ پھر گیند کو باؤنڈری کی راہ نہ دکھا پایا۔

سب سے پہلے عمر گل نے اپنے پہلے، اور مجموعی طور پر اننگز کے دوسرے، اوور میں شین واٹسن کو اندر آتی ایک خوبصورت گیند پر ایل بی ڈبلیو کا نشانہ بنایا۔ اگلے اوور میں سہیل تنویر نے آخری ایک روزہ کے ہیرو مائیکل ہسی کو ایک دھیمی گیند پر ایکسٹرا کور پر کھڑے شعیب ملک کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کرا دیا۔

اب کپتان جارج بیلے اوپنر ڈیوڈ وارنر کا ساتھ دینے کے لیے میدان میں اترے، جنہوں نے اسی اوور میں سہیل تنویر کو دو چوکے رسید کر کے اپنے خطرناک ارادوں کو ظاہر کر دیا تھا۔ دو کامیابیاں سمیٹنے کے ساتھ پاکستان کی 'باڈی لینگویج' ہی تبدیل نظر آ رہی تھی۔ ان کے فیلڈر تک تھرو پھینک کر وکٹوں کو براہ راست نشانہ بنا رہے تھے، جو بلاشبہ ایک اچھی علامت تھی۔ خصوصاً کپتان محمد حفیظ کا ایک فیصلہ جو بہت عمدہ ثابت ہوا وہ مسلسل گیند بازوں کو بدلتے رہنا تھا، جس کے نتیجے میں آسٹریلیا کے بلے بازوں کو جمنے کا موقع ہی نہ ملا۔

بہرحال، آسٹریلیا نے وارنر اور بیلے کی سرکردگی میں 8 اوورز گزار دیے، گو کہ رنز میں اضافہ سست روی سے ہو رہا تھا لیکن کم از کم انہوں نے وکٹیں گرنے کے سلسلے کو ضرور روکا یہاں تک کہ محمد حفیظ کی ایک گیند وارنر کے بلے کا بالائی کنارہ لیتی ہوئی خود باؤلر کے پاس واپس چلی گئی اور آسٹریلیا 46 پر اتنی تیسری وکٹ پر گنوا بیٹھا۔ وارنر 25 گیندوں پر 22 رنز بنا کر پویلین سدھارے۔

اس کے بعد پاکستان نے ایک لمحے کے لیے بھی حریف بلے بازوں کو مقابلے میں واپس نہ آنے دیا۔ اگلے اوور میں اپنا پہلا میچ کھیلنے والے رضا حسن نے ڈیوڈ ہسی کی قیمتی وکٹ حاصل کی جو لانگ آن پر چھکا مارنے کی کوشش میں سعید اجمل کے ایک عمدہ کیچ کا نشانہ بن گئے۔ اس کے بعد محمد حفیظ نے اپنے ہم منصب جارج بیلے کو جا لیا، جو اس خطرناک صورتحال میں ایک بھرپور سویپ مار کر گیند کو باؤنڈری کی راہ دکھانے کی کوشش میں عمر اکمل کے خوبصورت کیچ کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔

آسٹریلیا 52 رنز پر آدھی ٹیم سے محروم ہو چکا تھا اور وکٹ کیپر میتھیو ویڈ اور سابق ٹی ٹوئنٹی کپتان کیمرون وائٹ کریز پر موجود تھے جنہوں نے چند اوورز تو بتا لیے، لیکن رنز کی رفتار میں اضافہ ان کے بس کی بات نہ لگتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ بالآخر دباؤ کا شکار ہونے کے بعد ویڈ کپتان ہی کی طرح ایک سویپ مارنے کی کوشش میں رضا حسن کی دوسری وکٹ بن گئے۔ اننگز کے 18 ویں اوور میں سعید اجمل نے دو مسلسل گیندوں پر آخری بلے بازوں گلین میکس ویل اور کیمرون وائٹ کو ٹھکانے لگایا۔ میکس ویل، جن کی عمدہ نصف سنچری نے پاکستان کو آخری ایک روزہ میں شکست سے دوچار کیا تھا، پیشرو دو بلے بازوں کی طرح ایک سویپ کے ذریعے باؤنڈری حاصل کرنے کی کوشش میں آؤٹ ہوئے۔ اگلی گیند پر کیمرون وائٹ ایک عام آف اسپن گیند کو دوسرا سمجھنے کی کوشش میں بولڈ ہوئے۔ انہوں نے اپنے مزاج کے برخلاف 22 گیندوں پر 15 رنز بنائے۔

آخری اوور میں سہیل تنویر نے پہلے پیٹ کمنز کو لانگ آن پر عمر اکمل کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کروایا اور پھر تیسری گیند پر بین ہلفناس کے بلے کے اندرونی کنارے سے نکلنے والے کیچ کو کامران اکمل نے بائیں جانب جست لگا کر بہت عمدگی سے تھاما اور آسٹریلوی اننگز کا خاتمہ کر دیا۔ آسٹریلیا کی پوری ٹیم آخری اوور میں 89 رنز پر ڈھیر ہو گئی جو 2005ء میں انگلستان کے خلاف بنائے گئے 79 رنز کے بعد بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی میں آسٹریلیا کا دوسراکم ترین اسکور ہے۔ اس کے علاوہ آسٹریلوی ٹیم پورے مقابلے میں کوئی چھکا بھی نہ لگا سکی جو 2009ء میں اسی میدان پر، یعنی دبئی میں، کھیلے گئے پاک-آسٹریلیا مقابلے کے بعد دوسرا موقع ہے کہ کینگرو بلے باز ایک مرتبہ پھر گیند کو براہ راست باہر نہ پھینک پائے۔

سب سے اہم بات یہ کہ پاکستان کے کسی فیلڈر نے کیچ نہ چھوڑا اور بہت عمدگی کے ساتھ تمام آتی ہوئی گیندوں کو مضبوط ہاتھوں میں تھام لیا۔ اس میں عمر اکمل اور سعید اجمل کے باؤنڈری پر اور کامران اکمل کا وکٹوں کے پیچھے ایک خوبصورت کیچ شامل ہے۔

سہیل تنویر نے 3 جبکہ سعید اجمل، رضا حسن اور محمد حفیظ نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں جبکہ ایک وکٹ عمر گل کو ملی، جو بلاشبہ سب سے قیمتی وکٹ تھی یعنی شین واٹسن کی۔

گیند بازی میں اس حیران کن کارکردگی کے بعد اب پاکستان کے لیے میدان صاف تھا، جسے 20 اوورز میں صرف 90 رنز درکار تھے۔ اوپنر محمد حفیظ اور عمران نذیر کے درمیان 30 رنز کی رفاقت رہی جو حفیظ کی 17 رنز کے ساتھ روانگی کی صورت میں ختم ہوئی۔ ناصر جمشید 10 گیندوں پر 10 رنز بنانے کے بعد عمدہ پوزیشن میں لگ رہے تھے لیکن ہلفناس کی ایک اندر آتی گیند کو باؤنڈری کی راہ دکھانے کی کوشش مہنگی پڑ گئی اور بولڈ ہو گئے۔ عمران نذیر، جو طویل عرصے کے بعد ٹیم میں واپس آئے، گو کہ جدوجہد کرتے دکھائی دیے لیکن قسمت کے بل بوتے پر26 گیندوں پر 22 رنز بنانے میں کامیاب رہے اور جب68 کے مجموعے پر ان کی صورت میں پاکستان کی تیسری وکٹ گری تو پاکستان کو 55 گیندوں پر صرف 22 رنز کی ضرورت تھی۔

کامران اکمل نے بہت عمدہ شاٹس کھیلے،خصوصاًاننگز کے دسویں اوور میں انہوں نے گلین میکس ویل کو جس طرح دو چوکے اور ایک خوبصورت چھکا رسید کیا وہ ان کی فارم کا بھرپور اظہار تھا۔ اننگز کے 15 ویں اوور میں شعیب ملک نے شین واٹسن کو مڈآن کے اوپر سے چوکا رسید کرتے ہوئے میچ کا خاتمہ کر دیا۔ کامران اکمل 24 گیندوں پر ایک چھکے اور 3 چوکوں کی مدد سے 31 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے۔

محمد حفیظ کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اب دونوں ٹیمیں 7 ستمبر کو اسی میدان پر دوسرے ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی مقابلہ کھیلیں گی۔ اس سیریز کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کیونکہ یہ رواں ماہ ٹی ٹوئنٹی کے عالمی اعزاز "ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء" سے قبل آخری باضابطہ سیریز ہے اور پاکستان کا اس سیریز کا اتنی عمدگی سے آغاز مستقبل قریب میں ہونے والے اس بڑے ٹورنامنٹ کے لیے بہت اچھا شگون ہے۔

پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا

پہلا ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی مقابلہ

5 ستمبر 2012ء

بمقام: دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم، دبئی، متحدہ عرب امارات

نتیجہ: پاکستان 7 وکٹوں سے فتح یاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: محمد حفیظ (پاکستان)

آسٹریلیا رنز گیندیں چوکے چھکے
شین واٹسن ایل بی ڈبلیو ب عمر گل 8 11 1 0
ڈیوڈ وارنر ک و ب حفیظ 22 25 2 0
مائیکل ہسی ک شعیب ملک ب سہیل تنویر 1 3 0 0
جارج بیلے ک عمر اکمل ب حفیظ 14 19 0 0
ڈیوڈ ہسی ک سعید اجمل ب رضا حسن 3 4 0 0
کیمرون وائٹ ب سعید اجمل 15 22 0 0
میتھیو ویڈ ک عمران نذیر ب رضا حسن 6 13 0 0
گلین میکس ویل ک ناصر جمشید ب سعید اجمل 4 7 0 0
پیٹرک کمنز ک عمر اکمل ب سہیل تنویر 1 4 0 0
زاویئر ڈوہرٹی ناٹ آؤٹ 6 8 0 0
بین ہلفناس ک کامران اکمل ب سہیل تنویر 0 1 0 0
فاضل رنز ل ب 6، و 3 9
مجموعہ 19.3 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 89

 

پاکستان (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
محمد حفیظ 4 0 24 2
سہیل تنویر 2.3 0 13 3
عمر گل 4 0 17 1
سعید اجمل 4 0 13 2
رضا حسن 4 0 15 2
شعیب ملک 1 0 1 0

 

پاکستانہدف: 90 رنز رنز گیندیں چوکے چھکے
محمد حفیظ ک ڈیوڈ ہسی ب کمنز 17 15 2 0
عمران نذیر ک وائٹ ب واٹسن 22 26 3 0
ناصر جمشید ب ہلفناس 10 10 2 0
کامران اکمل ناٹ آؤٹ 31 24 3 1
شعیب ملک ناٹ آؤٹ 9 14 1 0
فاضل رنز و 1 1
مجموعہ 14.5 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر

 

آسٹریلیا (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
گلین میکس ویل 2 0 25 0
بین ہلفناس 3 0 18 1
پیٹرک کمنز 3 0 14 1
زاویئر ڈوہرٹی 3 0 12 0
شین واٹسن 2.5 0 9 1
کیمرون وائٹ 1 0 12 0

Facebook Comments