[آج کا دن] سعید انور کا اک تاریخی ریکارڈ کی جانب پہلا قدم

پاکستان کی تاریخ کے کامیاب ترین اوپنرز میں سے ایک اور بلاشبہ بائیں ہاتھ کے خوبصورت ترین بلے باز، جن کے خوبصورت کٹ اور اسٹروک 14 سال تک شائقین کرکٹ کو محظوظ کرتے رہے۔ پاکستان کا اوپنر کا دیرینہ مسئلہ حل کرنے کے علاوہ چند ایسے اعزازات بھی اپنے نام کیے جنہیں آج تک کوئی نہیں توڑ پایا، جن میں سب سے نمایاں مسلسل تین ایک روزہ مقابلوں میں تین سنچریاں بنانے کا ریکارڈ بھی شامل ہے۔ اس ریکارڈ کی پہلی بنیاد سعید انور نے 1993ء میں آج یعنی 30 اکتوبر کے دن ہی رکھی جب انہوں نے سری لنکا کے خلاف پیپسی چیمپئنز ٹرافی کے ایک مقابلے میں 107 رنز کی فتح گر باری کھیلی۔ یہ ایک روزہ کرکٹ کی روایتی بلے بازی کا ایک شاہکار تھی، یعنی "run a ball" بھی اور چوکوں اور چھکوں سے مزین بھی۔ سعید انور نے 108 گیندوں پر 2 چھکوں اور 11 چوکوں کی مدد سے 107 رنز بنائے اور آصف مجتبیٰ کے ساتھ 171 رنز کی افتتاحی شراکت داری کے بعد پویلین سدھارے۔

بلاشبہ سعید انور پاکستان کی تاریخ کے کامیاب ترین ایک روزہ اوپنر تھے (تصویر: AFP)

بلاشبہ سعید انور پاکستان کی تاریخ کے کامیاب ترین ایک روزہ اوپنر تھے (تصویر: AFP)

یکم نومبر 1993ء کو ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلے گئے ٹورنامنٹ کے اگلے مقابلے میں پاکستان نے 261 رنزکے تعاقب میں سعید انور کی ایک اور سنچری کی بدولت با آسانی 5 وکٹوں سے فتح حاصل کی۔ اس مرتبہ سعید نے 141 گیندوں پر 3 چھکوں اور 12 چوکوں سے مزین 131 رنز کی باری کھیلی۔ اب ان کی نظریں ہم وطن لیجنڈری بلے باز ظہیر عباس کے ریکارڈ پر مرکوز تھیں یعنی مسلسل تین مقابلوں میں تین سنچریاں۔ اور سری لنکا ہی کے خلاف کھیلے گئے اگلے مقابلے میں سعید انور نے 111 رنز بنا کر اس ریکارڈ میں خود کو شریک کر لیا۔ یہ ایک اور کمال اننگز تھی، اس امر کا اظہار کہ سعیدکا بلّا کس تواتر کے ساتھ ایک جیسی اننگز تراش سکتا ہے۔ انہوں نے صرف 104 گیندیں کھیلیں اور 2 چھکوں اور 11 چوکوں کی مدد سے 111 رنز بنائے اور 271 رنز کے تعاقب میں پاکستان کو وہ ابتدائی قوت فراہم کی جس کے بل بوتے پر وہ آخری اوور میں ہدف تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔

1968ء میں کراچی کے ایک متمول گھرانے میں آنکھ کھولنے والے سعید انور اپنے زمانے میں قومی کرکٹ ٹیم کے معدودے چند پڑھے لکھے کھلاڑیوں میں شمار ہوتے تھے۔ آپ نے کراچی کی معروف جامعہ این ای ڈی سے کمپیوٹر انجینئرنگ میں سند حاصل کی تھی اور مزید تعلیم کے لیے امریکہ جانے کی خواہش رکھتے تھے کہ اسی دوران انہیں ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کا موقع مل گیا۔

اپنے ابتدائی ٹیسٹ میں پیئر کی ہزیمت کا نشانہ بننے کے باوجود سعید انور ایک ایک کر کے ترقی کی منازل طے کرتے گئے، یہاں تک کہ 2001ء میں اپنی 4 سالہ صاحبزادی بسمہ کے انتقال نے ان کو توڑ کر رکھ دیا۔ آپ مذہب کی جانب بہت زیادہ جھک گئے اور خود کو تبلیغ دین کے لیے وقف کر لیا۔ تبلیغی جماعت میں آپ کی شمولیت نے بعد ازاں پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم میں مذہبی رحجان کو زبردست فروغ دیا۔ یوں وہ کھلاڑی جن کے روز نت نئےاسکینڈل سامنے آتے رہتے تھے، پابندِ صوم و صلوٰۃ ہو گئے اور ایک لحاظ سے یہ میدان میں سعید انور کے کارناموں سے کہیں بڑا کارنامہ تھا۔ بہرحال، بیٹی کی جدائی کے صدمے کے باعث سعید انور طویل عرصے تک دنیائے کرکٹ سے غائب رہے۔ بالآخر 2003ء کےعالمی کپ میں واپس آئے اور اس کے بعد بین الاقوامی کرکٹ کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ دیا اور اپنی تمام تر توانائیاں تبلیغ دین کے لیے وقف کر دیں۔

کہا جاتا ہے کہ سعید انور ہی کی تبلیغ کے نتیجے میں یوسف یوحنا عیسائیت چھوڑ کر مشرف بہ اسلام ہوئے۔ اس کے علاوہ انضمام الحق اور ثقلین مشتاق میں مذہبی رحجان بھی سعید انور ہی کی کوششوں کی بدولت ہی پیدا ہوا۔

سعید انور کیونکہ ون ڈے کےماہر کھلاڑی تصور کیے جاتے تھے، اس لیے ہم روایتی طور پر پہلے ٹیسٹ کے بجائے ان کے ایک روزہ کیریئر کا اجمالی جائزہ لیتےہیں۔ سعید نے مجموعی طور پر 247 ایک روزہ مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کی اور 8824 رنز بنائے۔ یوں وہ اس طرز میں انضمام الحق اور محمد یوسف کے بعد تیسرے سب سے زیادہ بنانے والے پاکستانی بلے باز ہیں۔ مسلسل تین مقابلوں میں سنچریوں کے مذکورہ بالا ریکارڈ کے علاوہ سعید انور نے تین مختلف مواقع پر مسلسل دو سنچریاں بھی بنائیں۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے مجموعی طور پر 247 ون ڈے کھیلے اور اس میں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ یعنی 20 سنچریاں بنانے کا اعزاز حاصل کیا، جو آج بھی ایک قومی ریکارڈ ہے۔ کسی زمانے میں سچن تنڈولکر اور سعید انور کے درمیان سنچریوں کی دوڑ ہوا کرتی تھی، لیکن پھر سعید پیچھے رہ گئے اور کرکٹ ہی کو خیر باد کہہ گئے جبکہ سچن کا سفر اب بھی جاری ہے۔

ذکر سعید انور کا ہو اور اس "شہرۂ آفاق باری" کو یاد نہ کیا جائے؟ ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ جی ہاں، 1997ء میں بھارت کے خلاف 194 رنز کی ریکارڈ ساز اننگز۔ جس کے دوران انہوں نے عظیم بلے باز ویوین رچرڈز کا 1984ء میں انگلستان کے خلاف بنایا گیا طویل ترین ایک روزہ اننگز کے ریکارڈ توڑا، جنہوں نے 189 رنز بنائے تھے۔ بدقسمتی سے سعید انور ڈبل سنچری مکمل نہ کر سکے اور سارو گانگلی کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ روایتی حریف کے خلاف اُسی کی سرزمین پر اِس حال میں ایک ریکارڈ شکن اننگز کھیلنا کہ بلے باز اپنی طبیعت بہتر بھی محسوس نہ کر رہا ہو، کو ایک معجزاتی اننگز کہنا بے جا نہ ہوگا۔ یہ آزادی کپ 1997ء کے سلسلے کا ایک میچ تھا جس میں اُن کا سفر تاریخ کی پہلی ڈبل سنچری اننگز سے محض 6 قدم کے فاصلے پر تمام ہوا۔ بہرحال، اس اننگز کی بدولت پاکستان بعد ازاں 35 رنز سے یہ مقابلہ جیت گیا۔

2001ء میں اپنی 4 سالہ صاحبزادی بسمہ کے انتقال کے بعد سعید انور مذہب کی جانب راغب ہو گئے (تصویر: PCB)

2001ء میں اپنی 4 سالہ صاحبزادی بسمہ کے انتقال کے بعد سعید انور مذہب کی جانب راغب ہو گئے (تصویر: PCB)

سعید انور اس لحاظ سے خوش قسمت تھے کہ کئی بلے باز ان کے ریکارڈز کے قریب پہنچ کر ہمت ہار گئے، یہاں تک کہ زمبابوے کے چارلس کوونٹری 194 رنز تک پہنچ گئے لیکن اس سے آگے نہ بڑھ پائے اور ناٹ آؤٹ اور شکستہ دل میدان سے لوٹے۔ بالآخر فروری 2010ء میں 13 سال بعد سچن نے ڈبل سنچری اننگز میں اس ریکارڈ کو توڑ ڈالا۔

بہترین وقت پر فیلڈرز کے عین درمیان سے شاٹس کھیلنا سعید انور کا خاصہ تھا۔ قدموں کے بہت زیادہ استعمال کے بغیر محض اپنی کلائی کے زور پر آف سائیڈ کی فیلڈ میں دراڑیں ڈالنا اُن کی امتیازی علامت تھی۔ ان کے سامنے جو گیند باز بھی آف اسٹمپ سے باہر گیند پھینکنے کی غلطی کرتا، اسٹمپ سے دوری کے لحاظ سے اپنی سزا پاتا۔ تھرڈ مین، چوتھی سلپ، گلی، پوائنٹ اور مڈ آف کی جانب ان کے شاٹس دیدنی ہوتی تھے۔ کیونکہ ان کی آمد کے ساتھ ہی آف سائیڈ پر فیلڈ کو مضبوط کر دیا جاتا بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ آف سائیڈ کی قلعہ بندی کے بعد سعید انور آف پر پڑنے والی گیند کو لیگ سائیڈ پر اٹھانے میں بھی کمال رکھتے تھے۔ اسپنرز کے خلاف ان کے پل شاٹ بھی کمال کے ہوتے تھے اور کم از کم بھارت کے انیل کمبلے تو یہ بات کبھی نہیں بھولیں گے۔

یہی وجہ ہے کہ معروف ویب سائٹ کرک انفو نے جب پاکستان کی تاریخ کی بہترین ٹیم منتخب کرنا چاہی تو سعید انور کو بحیثیت اوپنر عظیم حنیف محمد کے ساتھ ٹیم میں شامل کیا گیا۔

سعید انور نے تین عالمی کپ ٹورنامنٹس کھیلے۔ بدقسمتی سے وہ زخمی ہونے کے باعث 1992ء میں ملک کی نمائندگی نہ کر پائے تھے جہاں پاکستان نے عالمی اعزاز پہلی و آخری مرتبہ اپنے نام کیا تاہم 1996ء میں بھارت کے ہاتھوں کوارٹر فائنل میں شکست، عالمی کپ 1999ء کے فائنل میں دل شکستہ ہار اور 2003ء میں گروپ مرحلے ہی میں سفر کے اختتام کے وقت ضرور ٹیم کے ساتھ تھے۔2003ء میں اپنے کیریئر کے آخری عالمی کپ میں انہوں نے روایتی حریف بھارت کے خلاف 101 رنز کی اننگز ضرور کھیلی لیکن وہ پاکستان کے جیتنے کے لیے کافی ثابت نہ ہوئی۔انہوں نے یہ سنچری اپنی مرحوم صاحبزادی بسمہ کے نام کی۔

گو کہ سعید انور کو ایک روزہ طرز کے لیے بہتر بلے باز تصور کیا جاتا تھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سعید نے ٹیسٹ میں بھی اپنی اہلیت کا لوہا منوایا، خصوصاً طویل اننگز کھیلنے کی صورت میں۔ ان کے کیریئر کی پہلی سنچری ہی 169 رنز کی تھی جو انہوں نے 1993-94ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف ویلنگٹن ٹیسٹ میں بنائی جبکہ 1996ء میں انگلستان کے خلاف اوول میں 176 رنز کی تاریخی اننگز اور بھارت کے خلاف 1998-99ء میں کلکتہ ٹیسٹ میں بنائی گئی 188 رنز کی ناقابل شکست اننگز اس کے علاوہ ہیں۔

گو کہ سعید کے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز بہت اچھا نہیں تھا کیونکہ ویسٹ انڈیز کے خلاف فیصل آباد ٹیسٹ میں دونوں اننگز میں صفر پر آؤٹ ہوئے تھے لیکن بعد ازاں انہوں نے اس کا بھرپور ازالہ کیا اور 55 ٹیسٹ مقابلوں پر محیط اپنے کیریئر میں 45.52 کے اوسط سے 4052 رنز بنائے۔ جس میں 11 سنچریاں اور 25 نصف سنچریاں بھی شامل تھیں۔ خصوصاً آسٹریلیا، جس کے خلاف پاکستان کے بلے بازوں کی کارکردگی عموماً ناقص ہوتی ہے، کے مقابلے میں سعید انور نے بہترین کھیل پیش گیا اور آج بھی آسٹریلیا کے خلاف ان کا 59.06 کا اوسط پاکستانی بلے بازوں میں سب سے زیادہ ہے۔

معروف جریدے وزڈن نے 1997ء میں انہیں سال کا بہترین کرکٹر قرار دیا۔

سعید انور کا بین الاقوامی کیریئر، اعداد و شمار

پہلا ٹیسٹ، بمقابلہ ویسٹ انڈیز، 23 تا 25 نومبر 1990ء بمقام فیصل آباد، پاکستان
آخری ٹیسٹ، بمقابلہ بنگلہ دیش، 29 تا 31 اگست 2001ء بمقام ملتان، پاکستان

پہلا ایک روزہ، بمقابلہ ویسٹ انڈیز، یکم جنوری 1989ء بمقام پرتھ، آسٹریلیا
آخری ایک روزہ، بمقابلہ زمبابوے، 4 مارچ 2003ء، بمقام بلاوایو، زمبابوے

مقابلے اننگز رنز بہترین اننگز اوسط سنچریاں نصف سنچریاں چوکے چھکے
ٹیسٹ مقابلے 55 91 4052 188* 45.52 11 25 535 14
ایک روزہ مقابلے 247 244 8824 194 39.21 20 43 938 97

Facebook Comments