"تم کو بھی لے ڈوبیں گے" پیٹرسن کے اینڈرسن اور سوان پر الزامات

انگلستان میں کرکٹ بحران نے اک نیا موڑ لے لیا ہے اور معاملہ "ہم تو ڈوبے صنم، تم کو بھی لے ڈوبیں گے" تک پہنچ چکا ہے کیونکہ مرکزی کردار کیون پیٹرسن نے ٹوئٹر پر اپنے نام سے موجود جعلی آئی ڈی "KP Genius" کے پس پردہ کھلاڑیوں کے نام ظاہر کر دیے ہیں۔

اینڈرسن اور سوان کے ساتھ نجی گفتگو کی کئی تفصیلات ایک جعلی ٹوئٹر آئی ڈی سے پیش کی گئیں، کیون کا دعوی  (تصویر: AFP)

اینڈرسن اور سوان کے ساتھ نجی گفتگو کی کئی تفصیلات ایک جعلی ٹوئٹر آئی ڈی سے پیش کی گئیں، کیون کا دعوی (تصویر: AFP)

گو کہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے سال کے لیے مرکزی معاہدوں (سینٹرل کانٹریکٹس) میں کیون پیٹرسن کو شامل نہیں کیا لیکن کپتان اینڈریو اسٹراس کی ریٹائرمنٹ کے بعد کیون کو ٹیم میں واپسی کی کچھ نہ کچھ امید نظر آ رہی ہے اور وہ اس کے لیے آخری چال چل رہے ہیں کہ غلطی صرف ان کی جانب سے نہیں تھی بلکہ دیگر کھلاڑیوں کا رویہ بھی بچکانہ تھا۔

معروف کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق اس جعلی آئی ڈی کو چلانے والا فرد رچرڈ بیلے ہے جو ایک کرکٹ شائق ہے اور ناٹنگھم شائر کاؤنٹی کے چند کھلاڑی اس کے ساتھ ہی رہتے ہیں۔ بیلے ٹی ٹوئنٹی کپتان اسٹورٹ براڈ کے دوست بھی ہیں۔ البتہ براڈ نے اس ٹوئٹر کھاتے میں کسی بھی قسم کی شمولیت یا معلومات کی فراہمی سے انکار کیا ہے۔ اب تک کی تحقیقات کے مطابق تو صرف بیلے ہی واحد فرد ہیں جو اس آئی ڈی سے ٹیم کی چند اندر کی خبریں باہر لانے اور کیون پیٹرسن کا مذاق اڑانے میں ملوث رہے ہیں لیکن پیٹرسن سمجھتے ہیں کہ انگلستان کے چند کھلاڑی اس آئی ڈی کے لیے معلومات فراہم کرتے رہے ہیں۔

کیون پیٹرسن کا کہنا ہے کہ چند ٹویٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اینڈرسن اور سوان کے ساتھ ہونے والی نجی گفتگو تک کی چند باتیں اس بندے تک پہنچی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کیون کا کہنا ہے کہ ان کے حوالے سے دوہرا معیار روا رکھا گیا، انہیں تو جنوبی افریقی کھلاڑیوں کو موبائل پیغامات بھیجنے پر سخت سزا دی گئی لیکن ٹیم کی اندر کی معلومات باہر فراہم کرنے پر دیگر کھلاڑیوں کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔

اگر کیون اس معاملے میں ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ میدان میں آتے ہیں تو صورتحال بہت زیادہ گمبھیر ہو سکتی ہے۔ ویسے حالات اس وقت بھی کچھ سازگار نہیں دکھائی دیتے کیونکہ ٹیم کے چند بہترین کھلاڑیوں کے درمیان اس قسم کا تنازع پیدا ہونے کے نتیجے میں جنوبی افریقہ کے خلاف اپنے گھر میں بھی انگلستان شکست در شکست کھا رہا ہے اور اگر یہ معاملہ مزید طول پکڑ گیا تو انگلستان ایک ڈیڑھ ہفتے بعد ورلڈ ٹی ٹوئنٹی اعزاز کا دفاع کرنے میں بھی ناکام ہو سکتا ہے۔

اب انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ اور کوچ اینڈی فلاور پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بخوبی اس قضیے کو نمٹائیں ورنہ اس کے نتائج تباہ کن نکل سکتے ہیں۔

Facebook Comments