”کس میں کتنام ہے دم؟“ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء میں ٹیموں کا جائزہ

کوئی پانچ سال قبل تک دنیائے کرکٹ کے لیے صرف ایک ہی عالمی اعزاز تھا، ’ایک روزہ عالمی کپ‘۔ اس میں فتح حاصل کرنے والی ٹیم بلاشرکت غیرے، اور ٹیسٹ میں کارکردگی سے قطع نظر، دنیائے کرکٹ کی حکمران کہلاتی تھی لیکن 2007ء میں یہ منظرنامہ تبدیل ہوا اور بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے 20 اوورز کی جدید طرز کرکٹ کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے عالمی ٹورنامنٹ ’ورلڈ ٹی ٹوئنٹی‘ کا آغاز کیا۔ اس دلچسپ ٹورنامنٹ کی فاتح ٹیم ٹی ٹوئنٹی عالمی چیمپئن کہلائی اور اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ مختصر ترین دورانیے کی اس کرکٹ نے چہار سو تہلکہ مچا دیا۔

ایک ٹرافی کے 12 دعویدار، صرف ایک ہوگا فاتح، لیکن کون؟ یہ وقت بتائے گا (تصویر: AFP)

ایک ٹرافی کے 12 دعویدار، صرف ایک ہوگا فاتح، لیکن کون؟ یہ وقت بتائے گا (تصویر: AFP)

جنوبی افریقہ میں کھیلا گیا پہلا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2007ء ہی مقبولیت کے تمام ریکارڈز توڑ گیا۔ اور ایسا کیوں نہ ہوتا؟ آخر کو روایتی حریف پاکستان اور بھارت فائنل میں مدمقابل تھے۔ اعصاب شکن معرکہ آرائی کے بعد بھارت پہلا ٹی ٹوئنٹی عالمی چیمپئن قرار پایا اور پھر یہ سلسلہ چل پڑا۔ 2009ء میں انگلش سرزمین پر پاکستان اور پھر 2010ء میں کیریبین جزائر میں ہونے والے تیسرے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں انگلستان نے میدان مارا۔

اب اپنی طرز کا چوتھا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سر پر آن کھڑاہے۔ آج 18 ستمبر سے بحر ہند کے خوبصورت جزیرے سری لنکا میں دنیا کی 12 بہترین ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی۔ تقریباًتمام ہی ٹیمیں سرزمین لنکا پہنچ چکی ہیں بلکہ لہو گرم رکھنے کو بے ضابطہ مقابلے بھی کھیل چکی ہیں۔

یہ تحریر مدیر کرک نامہ فہد کیہر (ابوشامل) نے روزنامہ ڈان کے لیے تحریر کی تھی۔ مکمل تحریر ڈان کے اس لنک پر ملاحظہ کیجیے۔

Facebook Comments