کامران اکمل کی کرشماتی اننگز، پاکستان نے وارم اپ میں بھارت کو زیر کر لیا

پاکستان نے غیر متوقع طور پر ایک بہت بڑے ہدف کا تعاقب کر کے روایتی حریف بھارت کو شکست دے دی اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء سے قبل بھرپور اعتماد حاصل کر لیا ہے۔ مضبوط بیٹنگ لائن اپ کا حامل بھارت اسکور بورڈ پر 185 رنز کا مجموعہ اکٹھا کرنے کے باوجود ناقص باؤلنگ کی وجہ سے ہدف کا دفاع نہ کر پایا اور کامران اکمل کی طوفانی بلے بازی اور حتمی لمحات میں شعیب ملک کے بھرپور ساتھ نے بھارت کو جیتی ہوئی بازی ہارنے پر مجبور کر دیا۔ ان دونوں کے درمیان محض 46 گیندوں پر 95 رنز کی ناقابل شکست رفاقت قائم ہوئی جس کی بدولت پاکستان نے 20ویں اوورکی پہلی گیند پر ہی ہدف حاصل کر لیا۔

کامران اکمل نے محض 50 گیندوں پر 6 چھکوں کی مدد سے 92 رنز بنائے (تصویر: AFP)

کامران اکمل نے محض 50 گیندوں پر 6 چھکوں کی مدد سے 92 رنز بنائے (تصویر: AFP)

ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کرنے والا بھارت ابتداء ہی سے پاکستانی گیند بازوں پر حاوی دکھائی دیا اور سوائے سعید اجمل کے کوئی بھی باؤلر رنز کے سامنے بند باندھنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اوپنرز گوتم گمبھیر اور وریندر سہواگ ابتدائی دونوں اوورز میں ایک، ایک چوکا رسید کرنے کے بعد تیسرے اوور سے یکدم ٹوٹ پڑے، جس میں سہواگ نے سہیل تنویر کو ایک چوکا اور چھکا رسید کرتے ہوئے 15 رنز لوٹے۔ اگلے اوور میں سہواگ کے عتاب کا نشانہ محمد سمیع بنے جنہیں تین چوکوں کے ساتھ 14 رنز مارے گئے۔

اینڈ تبدیل کر کے باؤلنگ کرنے والے عمر گل کے ہاتھوں گمبھیر کی وکٹ گرنے سے پاکستان نے کچھ سکھ کا سانس لیا کیونکہ محض پانچویں اوور میں بھارت کا اسکور 41 تک پہنچ چکا تھا لیکن سب سے پریشان کن لمحہ پاکستان کے لیےاب آیا تھا کیونکہ اِن فارم ویراٹ کوہلی میدان میں آ گئے تھے اور انہوں نے اپنی پہلی ہی گیند کو مڈ وکٹ باؤنڈری کی راہ بھی دکھائی۔

سعید اجمل، جو ماضی قریب میں سری لنکا کی انہی وکٹوں پر میزبان بلے بازوں کو تگنی کا ناچ نچا چکے ہیں، بھارت کے لیے یقیناً پریشان کن تھے، یہی وجہ ہے کہ ان کی دوسری ہی گیند پر سہواگ کی قیمتی وکٹ پاکستان کو ملی۔ اس موقع پر پاکستان کو میچ میں واپس آنے کی ضرورت تھی کیونکہ وہ 45 رنز پر دونوں اوپنرز کو میدان بدر کر چکا تھا لیکن نوجوان بلے بازوں روہیت شرما اور ویراٹ کوہلی نے وقتاً فوقتاً باؤنڈریز کے ذریعے رنز بنانے کے اوسط کو برقرار رکھا یہاں تک کہ 14 ویں اوور سے پاکستانی گیند بازوں کے ساتھ سخت ظالمانہ رویے کا آغاز ہوا۔ شاہد آفریدی کے آخری اوور میں کوہلی نے ایک چوکا جبکہ شرما نے ایک بلند و بالا چھکا اور پھر ایک چوکا حاصل کیا۔ شاہد 4 اوورز میں 41 رنز کے ساتھ بہت مہنگے بھی ثابت ہوئے اور کوئی وکٹ بھی حاصل نہ کر پائے۔

خیر، عمر گل کا اگلا اور اننگز کا مجموعی طور پر 15 واں اوور آخری دو گیندوں پر دو چوکوں کے ساتھ ختم ہوا اور سہیل تنویر ایک مرتبہ پھر چھکے اور چوکے سے ’مستفید‘ ہوئے۔ دوسرے اینڈ سے سعید اجمل جو بہت عمدگی سے باؤلنگ کر رہے تھے، بھی بالآخر کوہلی کے چھکے کا نشانہ بنے ۔

پاکستان کے لیے مہنگا ترین اوور اننگز کا 18 واں اوور تھا، جس میں محمد سمیع کے خلاف بھارت نے 19 رنز حاصل کیا۔ اس اوور کی چوتھی گیند براہ راست کوہلی کے منہ پر آئی جس کی راہ سے انہوں نے اپنا منہ بچایا اور گیند کیپر کامران اکمل کو بھی دھوکہ دیتی ہوئی باؤنڈری لائن پار کر گئی۔ اس صورتحال میں سمیع کے ہاتھ پیر پھول گئے اور انہوں نے اگلی گیند پر کوہلی کے ہاتھوں چھکا بھی کھایا۔

وہ تو بھلا ہو سعید اجمل کا جنہوں نے 19 ویں اوور کی پہلی گیند پر روہیت شرما کو بولڈ کرنے کے ساتھ ساتھ اوور میں صرف 4 رنز دیے ورنہ بھارت تو با آسانی 200 سے آگے نکل جاتا۔ خیر، آخری اوور میں عمر گل نے 9 رنز دیے اور بھارت کی اننگز 185 رنز 3 کھلاڑی آؤٹ پر اختتام پذیر ہوئی۔ ویراٹ کوہلی محض 47 گیندوں پر 75 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے۔ روہیت شرما نے 40 گیندوں پر 56 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی۔ دونوں کے درمیان تیسری وکٹ پر 127 رنز کی زبردست شراکت داری قائم ہوئی۔

پاکستان کی جانب سے سعید اجمل نے 4 اوورز میں صرف 22 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں جبکہ عمر گل کو اتنے ہی اوورز میں 31 رنز پڑے اور انہیں ایک وکٹ ملی۔ باقی تمام باؤلرز مکمل طور پر ناکام رہے۔ محمد سمیع کے 2 اوورز میں 31 رنز لوٹے گئے جبکہ شاہد آفریدی کو 4 اوورز میں 41 رنز پڑے۔ سہیل تنویر نے بھی 3 اوورز پھینکنے اور 35 رنز کھائے۔

گو کہ بھارت اپنے پانچوں فرنٹ لائن گیند بازوں کے ساتھ میدان میں اترا تھا اور اسکور بورڈ پر 185 رنز کا مجموعہ دیکھ کر اور پاکستان کی کمزور بیٹنگ اور ہدف کے تعاقب میں ان کی ازلی کمزوری کو مدنظر رکھتے ہوئے توقع بھی نہ کر سکتا تھا کہ پاکستان تصور میں بھی ہدف کو حاصل کر سکتا ہے۔ خصوصاً اس وقت تو توقع ہی اٹھ گئی جب روی چندر آشوِن کے ایک ہی اوور میں پہلے عمران نذیر سریش ریناکے ہاتھوں کیچ آؤٹ اور پھر ایک گیند بعد ہی ناصر جمشید گوتم گمبھیر کی تھرو کے باعث صفر پر آؤٹ ہو گئے۔ پاکستان محض 33 رنز پر اپنی دو قیمتی وکٹیں گنوا بیٹھا۔ عمران نذیر تو فارم میں ہی نہیں تھے اور 11 گیندوں پر 13 رنز ہی بنا پائے لیکن ایک بڑے ہدف کے تعاقب میں ناصر جمشید سے بڑی توقعات وابستہ تھیں جو کپتان محمد حفیظ کی دوڑنے میں غلطی کی وجہ سے پوری نہ ہو سکیں۔

اب محمد حفیظ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ ایک اچھی اننگز کھیل کر اس غلطی کا ازالہ کریں جبکہ کامران اکمل پر تو قرض تھاکہ وہ بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی پر اپنی اہلیت کو ثابت کریں۔ ’کامی‘ نے ہربھجن سنگھ کی میچ میں پھینکی گئی پہلی ہی گیند کو مڈ آف پر چھکے کی راہ دکھا کر اپنے خطرناک ارادے ظاہر کیے۔اگلے اوور میں انہوں نے یووراج سنگھ کو دو چوکے رسید کیے اور اُسی اینڈ سے واپس آنے والے ہربھجن سنگھ کا بھی مزید دو چوکوں سے استقبال کیا۔

روی چندر آشوِن جو اپنے گزشتہ اوور میں پاکستان کی پیش قدمی کو زبردست نقصان پہنچا چکے تھے، دوبارہ واپس آئے اور پھر پچھلے اوور کی کہانی دہرائی۔ انہوں نے پہلے محمد حفیظ کو لانگ آن پر روہیت شرما کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کرایا اور پھر شاہد آفریدی بھی دوسری گیند پر لانگ آف پر ظہیر خان کو کیچ دے کر پاکستان کو سخت مصیبت میں ڈال گئی۔ حفیظ نے 29 گیندوں پر 38 رنز بنائے جبکہ شاہد آفریدی ”ایک مرتبہ پھر“ صفر کی ہزیمت سے دوچار ہوئے۔ پاکستان کو محض 61 گیندوں پر 102 رنز درکار تھے اور کمزور بیٹنگ لائن اپ کے ابتدائی چاروں بلے باز آؤٹ ہوچکے تھے۔ گو کہ اکمل برادران کریز پر موجود تھے لیکن ڈیڑھ اوور کے محتاط رویے کا نتیجہ عمر اکمل کی ایک اور ناکامی کی صورت میں نکلا۔ عمر پہلے آشون کی گیند کو سوئپ کرنا چاہتے تھے لیکن پھر ڈرائیو کرنے کا تہیہ کر کے گیند باز کو واپس کیچ دے بیٹھے۔ پاکستان تہرے ہندسے میں پہنچنے سے قبل ہی تمام بلے باز گنوا بیٹھا۔

اب صرف وکٹ کیپر کامران اور آل راؤنڈرشعیب ملک رہ گئے۔ ان دونوں کی مستقل ناقص کارکردگی کےباعث خدشہ یہی تھا کہ جب سب ناکام ہو گئے تو ان سے توقع عبث ہے۔ لیکن یہاں کامران اور شعیب نے معجزہ کر دکھایا۔

جس وقت ان دونوں بلے بازوں نے چھٹی وکٹ پر رفاقت کا آغاز کیا تو پاکستان کو 51 گیندوں پر 95 رنز کی ضرورت تھی۔ تجربہ کا تو دونوں تھے ہی اور بھارتی باؤلنگ کی کمزوری کا فائدہ اٹھانے کی صورت میں وہ مقابلے کو روایتی حریف کی گرفت سے نکال بھی سکتے تھے۔ شاید یہی یقین دونوں کو منزل تک پہنچا گیا۔ بھارتی بلے بازوں کی بلا روک ٹوک دھنائی کا کام کامران اکمل نے انجام دیا جبکہ سنبھل کر کھیلنے اور موقع بہ موقع گیند کو میدان بدر کرنے کی ذمہ داری شعیب ملک نے نبھائی۔

اِن فارم کوہلی کی 75 رنز کی اننگز باؤلرز کی ناقص کارکردگی کیے باعث ضایع ہو گئی (تصویر: AFP)

اِن فارم کوہلی کی 75 رنز کی اننگز باؤلرز کی ناقص کارکردگی کیے باعث ضایع ہو گئی (تصویر: AFP)

جب کھیل اپنے آخری مرحلےمیں داخل ہوا، یعنی دوسری اننگز کا پندرہواں اوور شروع ہوا، تو کامران نے موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنے بلے کو مزید کھولا۔ انہوں نے ظہیر خان کو دو مسلسل گیندوں پر دو چھکے رسید کیے اور اس اوور میں شعیب ملک کے بھی ایک چوکے کی بدولت پاکستان نے 19 رنز لوٹے۔ ہربھجن کی جانب سے پھینکا گیا اگلا اوور ہر گیند پر ایک سے زیادہ رنز نہیں دے رہا تھا کہ آخری گیند پر شعیب ملک کے لانگ آن پر چھکے کی بدولت ایک سیر حاصل اوور میں بدل گیا۔

اب آخری 4 اوورز میں 45 رنز درکار تھے اور طویل عرصے بعد بھارتی ٹیم میں جگہ پانے والے لکشمی پتھی بالاجی کامران اکمل کے سامنے آئے، لیکن انہوں نے پہلی ہی گیند پر مڈ وکٹ پر چھکا کھایا اور چوتھی گیندکو کامران نے شارٹ تھرڈمین باؤنڈری پر چوکے کی راہ دکھا دی۔ اس اوور میں بھی پاکستان کو 16 رنز ملے۔

میچ میں پاکستان کے لیے خطرہ ثابت ہونے والے واحد باؤلر روی چندر آشون نے اپنا آخری اوور پھینکا تو پاکستان نے محتاط رویہ اختیار کیا اور ایک، دو رنز سے زیادہ نہیں لیے۔ یوں 18 ویں اوور میں صرف 7 رنز بنے اور آخری دو میں پاکستان کو 22 رنز کا مشکل ہدف درکار تھا۔جو بالاجی کی دوسری ہی گیند پر کامران اکمل کے اور آخری گیند پر شعیب ملک کے چھکوں کی بدولت آسان ترین ہو گیا۔

پاکستان کو عرفان پٹھان کے آخری اوور میں صرف چھ رنز چاہیے تھے جو کامران اکمل نے پہلی ہی گیند کو، جو فل ٹاس تھی، کور باؤنڈری سے باہر پھینک کر حاصل کر لیے اور یوں میچ اپنے اختتام کو پہنچا۔

کامران اکمل محض 50 گیندوں پر 92 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے۔ اس طوفانی اننگز میں 6 چھکے اور 5 چوکے شامل تھے جبکہ دوسرے اینڈ سے شعیب ملک نے صرف 18 گیندوں پر دو چھکوں اور اتنےہی چوکوں کی مدد سے 37 رنز بنائے اور مشن مکمل کرکےہی میدان سے لوٹے۔

بھارت کی جانب سے صرف آشون ہی کامیاب باؤلر رہے جنہوں نے 4 اوورز میں صرف 23 رنز دیے اور 4 وکٹیں حاصل کیں جبکہ باقی تمام باؤلرز بہت مہنگے ثابت ہوئے۔ ظہیر خان نے تین اوورز میں 31، عرفان پٹھان نے تقریباً اتنے ہی اوورز میں 40 جبکہ بالاجی اور ہربھجن سنگھ نے 4،4 اوورز میں بالترتیب 41 اور 40 رنز دیے۔یووراج کے واحد اوورمیں پاکستان نے 11 رنزحاصل کیے۔ یہ تمام باؤلر کوئی وکٹ حاصل کرنے میں بھی ناکام رہے جو اہم ترین ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل بھارت کے لیے بدشگونی ہے۔ یہ اس لحاظ سے بھی پریشان کن امر ہے کیونکہ بھارت نے میچ میں اپنے تمام پانچ اہم گیند بازوں کو کھلایا تھا یعنی ظہیر خان، عرفان پٹھان، ہربھجن سنگھ، روی چندر آشون اور لکشمی پتھی بالاجی۔ ان پانچوں کی موجودگی میں پاکستان جیسی کمزور بیٹنگ لائن اپ کے خلاف اتنے بڑے ہدف کے دفاع میں ناکامی درحقیقت بھارت کے لیے ’خطرے کی گھنٹی‘ ہے ۔ 19 ستمبر کو افغانستان کے خلاف ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں اپنے پہلے میچ سے قبل بھارتی انتظامیہ کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا۔

دوسری جانب آسٹریلیا کے خلاف حالیہ سیریز کے ابتدائی دونوں معرکے جیتنے کے بعد تیسرے و غیر اہم ٹی ٹوئنٹی میں مایوس کن شکست سے جو پریشانی پاکستانی ٹیم پر چھائی ہوئی ہوگی، وہ اس فتح سے چھٹ گئی اور اب پاکستان زیادہ اطمینان اور حوصلے کے ساتھ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء کے لیے میدان میں اترے گا۔ ٹورنامنٹ کا باضابطہ آغاز کل یعنی منگل سے سری لنکا اور زمبابوے کے درمیان مقابلے سے ہو رہا ہے جبکہ پاکستان اپنا پہلا مقابلہ 23 ستمبر کو نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلے گا۔ لیکن اس سے قبل 19 ستمبر کو پاکستان کو انگلستان کے خلاف ایک اور اہم وارم اپ مقابلہ کھیلنا ہے۔

Facebook Comments