پیٹرسن کا پتہ صاف، دورۂ بھارت کے لیے انگلش دستے کا اعلان

انگلستان نے مشکل ترین مہم یعنی دورۂ بھارت کے لیے اپنے ٹیسٹ دستے کا اعلان کر دیا ہے جس میں توقعات کے عین مطابق تنازعات سے گزرنے والے کیون پیٹرسن شامل نہیں ہیں جبکہ دو نئے کھلاڑیوں نک کامپٹن اور جو روٹ کو شامل کیا گیا ہے۔ بھارت میں اسپن گیند بازوں کے لیے سازگار ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے گریم سوان اور سمیت پٹیل کے ساتھ مونٹی پنیسر کو بھی طلب کیا گیا ہے جبکہ طویل طرز کی کرکٹ میں چند ناکامیوں کے بعد اپنا مقام کھو بیٹھنے والے ایون مورگن بھی دوبارہ واپس آئے ہیں۔

کیون پیٹرسن کے بین الاقوامی کیریئر کا خاتمہ ہونے کے خدشات واضح ہو گئے ہیں (تصویر: AFP)

کیون پیٹرسن کے بین الاقوامی کیریئر کا خاتمہ ہونے کے خدشات واضح ہو گئے ہیں (تصویر: AFP)

کیون پیٹرسن جنوبی افریقہ کے حالیہ دورۂ انگلستان کے دوران پیدا ہونے والے اک تنازع کے باعث پابندیوں کی زد میں آ گئے تھے۔ تحقیقات کے نتیجے میں ثابت ہوا تھا کہ کیون نے اُس وقت کے کپتان اینڈریو اسٹراس اور کوچ اینڈی فلاور کے بارے میں نازیبا کلمات پر مشتمل موبائل پیغامات چند حریف جنوبی افریقی کھلاڑیوں کو بھیجے تھے۔ اس معاملے کے منظرعام پر آتے ہی سیریز کے درمیان ہی ہنگامہ کھڑا ہو گیا جس کے نتیجے میں کیون پیٹرسن کو بقیہ ٹیسٹ میچز اور ایک روزہ مقابلوں میں انگلستان کی نمائندگی حتیٰ کہ مرکزی معاہدے (سینٹرل کانٹریکٹ) سے بھی ہاتھ دھونے پڑے اور اب مستقبل قریب میں کہیں ممکن دکھائی نہیں دیتا کہ وہ دوبارہ انگلستان کی نمائندگی کر پائیں گے۔

انگلستان کے لیے دوسرا سب سے بڑا مسئلہ اپنے کپتان اینڈریو اسٹراس کا کرکٹ کو خیرباد کہہ دینا ہے۔ انہوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف 2-0 کی شرمناک ہار کے بعد ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا اور یوں ایلسٹر کک کے "نازک" کاندھوں پر ایک بڑا بوجھ ڈال گئے جن کا پہلا امتحان ہی بھارت کے خلاف ہے، جسے اس کے میدانوں پر زیر کرنا دنیائے کرکٹ میں 'نانگا پربت سر کرنے' جیسا کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔کک کے لیے مسائل اس سے مزید بڑھ گئے ہیں کیونکہ اسٹراس اور پیٹرسن کی عدم موجودگی میں ان کا بیٹنگ کا شعبہ بہت کمزور ہو گیا ہوگا اور نوجوانوں کو بھارت میں درپیش نامانوس صورتحال اور وکٹوں سے آشنائی میں وقت لگے گا۔ شاید اسی وجہ سے ایون مورگن کو واپس لایا گیا ہے تاکہ کسی حد تک تجربہ کار کھلاڑیوں سے دامن بھرا رہے۔

نوجوان کامپٹن اور روٹ رواں سیزن میں بالترتیب 1494 اور 964 رنز بنا چکے ہیں اور ان کی اسی کارکردگی کی بدولت انہیں اس مہم کے لیے ساتھ لے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ مستقل ناقص کارکردگی بالآخر روی بوپارا کے ٹیم سے اخراج کا سبب بنی ہے۔

گیند بازی کے شعبے میں توقعات کے عین مطابق جیمز اینڈرسن، اسٹیون فن، اسٹورٹ براڈ کے علاوہ گریم سوان اور مونٹی پنیسر شامل ہیں۔

بھارت اور انگلستان کے درمیان سیریز کا باضابطہ آغاز 15 نومبر کو احمد آباد کے سردار پٹیل اسٹیڈیم میں پہلے ٹیسٹ سے ہوگا جس کے بعد دونوں ٹیمیں ممبئی، کولکتہ اور ناگپور میں مزید تین ٹیسٹ میچز کھیلیں گی۔ محدود اوورز کے مرحلے میں دو ٹی ٹوئنٹی اور 5 ایک روزہ بین الاقوامی مقابلے بھی کھیلے جائیں گے، جن کے لیے انگلش دستے کا اعلان بعد میں ہوگا۔

اعلان کردہ ٹیسٹ دستہ ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے:

ایلسٹر کک (کپتان)، اسٹورٹ براڈ، اسٹیون فن، این بیل، ایون مورگن، ٹم بریسنن، جانی بیئرسٹو، جو روٹ، جوناتھن ٹراٹ، جیمز اینڈرسن، سمیت پٹیل، گراہم اونینز، گریم سوان، مونٹی پنیسر، میٹ پرائیر اور نک کامپٹن۔

Facebook Comments