ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا آغاز مینڈس کے ریکارڈ سے، سری لنکا با آسانی کامیاب

مینڈس جوڑی نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء کے افتتاحی مقابلے میں سری لنکا کو 82 رنز سے با آسانی فتح سے ہمکنار کر دیا جبکہ زمبابوے توقعات و خدشات کے عین مطابق پہلے ہی مقابلے میں بری طرح لڑکھڑا گیا۔ یہ ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی اکھاڑے میں زمبابوے کی مسلسل تیرہویں شکست ہے جبکہ اس کا اگلا مقابلہ بھی جنوبی افریقہ جیسے سخت حریف کے خلاف ہے، اس لیے اس کی ہار کا تسلسل رکتا نہیں دکھائی دیتا۔ ایک جانب گیند بازوں کی ناقص کارکردگی اور دوسری جانب بلے بازوں کا مکمل طور پر ناکام ہو جانا 90ء کی دہائی کی ابھرتی ہوئی کرکٹ قوت کے تیزی سے زوال پذیر ہونے کی عکاس ہے۔

اجنتھا مینڈس نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں بہترین باؤلنگ کا اپنا ہی ریکارڈ توڑا (تصویر: AFP)

اجنتھا مینڈس نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں بہترین باؤلنگ کا اپنا ہی ریکارڈ توڑا (تصویر: AFP)

دوسری جانب سری لنکا، جسے ٹی ٹوئنٹی کی حالیہ کارکردگی کی بدولت 'ہاٹ فیورٹ' تو قرار نہیں دیا جا رہا، لیکن بلاشبہ وہ معیاری اسپنرز، طوفانی بلے بازوں اور بہترین آل راؤنڈرز کی بدولت ٹرافی کے بہترین امیدواروں میں سے ایک ہے اور پہلے ہی مقابلے میں کمار سنگاکارا اور جیون مینڈس کی طوفانی بلے بازی اور اجنتھا مینڈس کی شاندار باؤلنگ نے یہ بات ثابت بھی کی۔ اجنتھا کو 4 اوورز میں محض 8 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کرنے کی شاندار کارکردگی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ یہ ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی میں کسی بھی گیند باز کی سب سے عمدہ کارکردگی ہے اور مزیدار بات یہ ہے کہ انہوں نے 16 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کرنے کے اپنے ہی ریکارڈ کو توڑا۔

ہمبنٹوٹا میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا آغاز میزبان ٹیم کے لیے اک آسان معرکے کی صورت میں ہوا۔ ٹاس جیت کر پہلے ملنے والی بلے بازی کی دعوت کا اس سے خوب فائدہ اٹھایا ۔ سری لنکا کی جانب سے اپنا پہلا بین الاقوامی مقابلہ کھیلنے والے دلشان مناویرا تجربہ کار تلکارتنے دلشان کے ساتھ بحیثیت اوپنر میدان میں اترے اور دونوں نے ابتدائی ساڑھے چھ اوورز میں54 رنز ایک اچھا آغاز فراہم کیا۔ مناویرا نے 19 گیندوں پر 17 رنز بنائے اور رن آؤٹ ہونے والے پہلے کھلاڑی بنے۔ جب اننگز نصف منزل پر پہنچی تو تلکارتنے دلشان وکٹوں کے پیچھے کیچ دے بیٹھے۔ گو کہ وہ امپائر کے کافی غور و خوض کے بعد دیے گئے فیصلے سے مطمئن نہیں دکھائی دیتے تھے لیکن 28 گیندوں پر 5 چوکوں کی مدد سے 39 رنز بنانے کے بعد بہرحال انہیں میدان سے واپس لوٹنا پڑا۔ یہاں ایک لمحے کے لیے زمبابوے کو مقابلے پر گرفت کا موقع ملا جب انہوں نے 82 کے مجموعی اسکور پر مہیلا جے وردھنے کو رن آؤٹ کر کے سری لنکا کی تیسری وکٹ بھی گرا دی۔ مہیلا نے 18 گیندوں پر صرف 13 رنز بنائے۔

اس کے بعد کمار سنگاکارا اور جیون مینڈس کے درمیان چوتھی وکٹ پر 94 رنز کی رفاقت نے سری لنکا کو آخری اوورز میں بھرپور 'آتش بازی' کا موقع فراہم کیا۔ دونوں نے زمبابوے ناقص باؤلنگ اور فیلڈنگ کی بدولت اسکور بورڈ پر 182 رنز کا بڑا مجموعہ اکٹھا کیا۔ مقابلے کے ابتدائی نصف حصے میں اندازے سے زیادہ محتاط رویے سے جو بنیاد کھڑی ہوئی اس کی بدولت بلے بازوں نے آخری اوورز کا شاندار انداز میں فائدہ اٹھایا۔

اس مقام پر چوتھی وکٹ پر سنگاکارا اور جیون مینڈس کی رفاقت نے میچ کا رخ بدلا۔ دونوں نے حریف گیند بازوں کی ناقص لائن کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور خوب باؤنڈریز سمیٹیں حتیٰ کہ آخری اوور میں سنگاکارا کے آؤٹ ہونے کے ساتھ 92 رنز کی رفاقت تمام ہونے کے باوجود 15 رنز لوٹے۔ سنگاکارا اپنی اننگز کا واحد چھکا لگانے کے بعد آخری اوور کی چوتھی گیند پر رن آؤٹ ہوئے۔ انہوں نے 26 گیندوں پر 44 رنز بنائے۔ ان کے بعد تھیسارا پیریرا میدان میں آئے جنہوں نے پہلی ہی گیند کو فضائی سفر کروایا۔ 20 اوورز کی تکمیل پر سری لنکا کا اسکور 182 رنز چار کھلاڑی آؤٹ بنا۔ جیون مینڈس 30 گیندوں پر 43 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے۔

183 رنز کے بھاری ہدف کا تعاقب بظاہر زمبابوے کے لیے ناممکن دکھائی دیتا تھا اور مینڈس نے اسے بھی ثابت کر دکھایا۔ اجنتھا نے پہلے اوور سے لے کر آخری اوور تک حریف گیند بازو ں کو ایک لمحہ بھی چین نہ لینے دیا۔ محض تیسری گیند پر انہوں نے ووسی سبانڈا کو بولڈ کیا اور زمبابوین دستے کے سب سے اہم کھلاڑی کپتان برینڈن ٹیلر کو اگلی ہی گیند پر وکٹ کیپر کے ہاتھوں اسٹمپ کروادیا۔ اگلے اوور میں انہوں نے بچ جانے والے اوپنر ہملٹن ماساکازا کو بولڈ کیا۔ وہ 20 رنز کے ساتھ زمبابوے کے سب سے نمایاں بلے باز رہے۔

اب باری دوسرے مینڈس یعنی جیون کی تھی جنہوں نے سنگاکارا کو ایک اور اسٹمپ کرنے کا موقع دیا اور اس مرتبہ پویلین لوٹنے کی باری تھی کریگ اروائنک ی جو 10 رنز ہی بنا پائے۔ محض ایک گیند بعد میلکم والر بھی ایل بی ڈبلیو ہو کر میدان بدر ہوئے۔ محض 58 پر زمبابوے کی آدھی ٹیم ڈھیر ہو چکی تھی۔ تو باقی رہ جانے والے بلے بازوں سے بھلا کس مزاحمت کی توقع ہوتی۔ تمام کھلاڑی یکے بعد دیگرے باؤلرز کے شکار ہوتے رہے۔ مینڈس نے اننگز کے 16 ویں اوور میں ایک مرتبہ پھر اوور میں دو وکٹیں حاصل کی جبکہ انہوں نے پراسپر اتسیا اور کائل جاروس کو آؤٹ کیا اور 4 اوورز میں محض 8 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔

جیون مینڈس نے گریم کریمر اور لاستھ مالنگا نے کرس ایم پوفو کو آؤٹ کر کے زمبابوین اننگز کی بساط 100 رنز پر لپیٹ دی۔

اجنتھا کو 6 اور جیون کو 3 وکٹیں ملیں جبکہ بچ جانے والی آخری وکٹ مالنگا کے ہاتھ آئی۔

ریکارڈ ساز باؤلنگ پر اجنتھا مینڈس کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

ابتدائی معرکہ میں کامیابی کے بعد سری لنکا کا اگلا ہدف 22 ستمبر کو ٹورنامنٹ کے سخت ترین حریف جنوبی افریقہ سے ہوگا جبکہ زمبابوے اس سے قبل 20 تاریخ کو ہی پروٹیز کا سامنا کرے گا۔ زمبابوے نے آخری مرتبہ فروری 2010ء میں پورٹ آف اسپین میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹی ٹوئنٹی مقابلہ جیتا تھا اور اس کے بعد سری لنکا، نیوزی لینڈ، بھارت، جنوبی افریقہ اور پاکستان کے خلاف کھیلے گئے تمام 13 مقابلوں میں شکست کھائی ہے۔

Facebook Comments