کیون پیٹرسن دورۂ نیوزی لینڈ کے لیے ٹیم میں شامل ہونے کے خواہاں

انگلش کرکٹ میں دو سال کے بھرپور سکون اور مختلف طرز کی کرکٹ میں فتوحات کے مزے لوٹنے کے بعد ہنگامہ خیزی پیدا کرنے والے کیون پیٹرسن ایک مرتبہ پھر پرامید ہیں کہ انہیں اگلے سال کے اوائل میں دورۂ نیوزی لینڈ کے لیے ٹیم میں منتخب کیا جائے گا۔

کیون پیٹرسن ایک مرتبہ پھر انگلستان کی نمائندگی کے لیے اگلے سال کے منتظر (تصویر: Getty Images)

کیون پیٹرسن ایک مرتبہ پھر انگلستان کی نمائندگی کے لیے اگلے سال کے منتظر (تصویر: Getty Images)

کیون پیٹرسن کو جنوبی افریقہ کے خلاف حالیہ سیریز کے دوران اپنے کوچ اور کپتان اینڈی فلاور اور اینڈریو اسٹراس کے بارے میں نازیبا الفاظ پر مشتمل پیغامات حریف کھلاڑیوں کے بھیجنے کے الزام میں نہ صرف ٹیم سے باہر نکالا گیا بلکہ ان کا مرکزی معاہدہ (سینٹرل کانٹریکٹ) تک منسوخ کر دیا گیا۔ بعد ازاں یہ تنازع مختلف موڑ لیتا ہوا اینڈریو اسٹراس کی ریٹائرمنٹ اور کیون پیٹرسن کے غیر اعلانیہ مدت کے لیے ٹیم سے باہر ہونے پر منتج ہوا۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ انگلستان نے چند روز قبل دورۂ بھارت کے لیے اعلان کردہ دستے میں انہیں شامل نہیں کیا، جس کی گویا توقع بھی کم تھی لیکن پھر بھی اعلان سے اس امر کی تصدیق ہو گئی کہ اس سال کیون پیٹرسن ایکشن میں نظر نہیں آ سکیں گے۔

بہرحال، کیون پیٹرسن کی ٹوئٹر پر ظاہر کی گئی خواہش کہ ”امید ہے کہ سب ٹھیک ہو جائے گا اور میں فروری میں دورۂ نیوزی لینڈ کے دورے پر ہوں گا“ کو ایک سہارا تو ضرور ملا ہوگا کہ انگلستان کے نئے ٹیسٹ کپتان ایلسٹر کک نے تصدیق کی ہے کہ بورڈ اور کیون کے درمیان گفتگو جاری ہے اور وہ بھارت میں پیٹرسن کی کمی کو محسوس کریں گے۔

گو کہ انگلستان بھارت ایک روزہ سیریز کرسمس کے وقفے کے بعد دوبارہ جنوری میں شروع ہوگی، لیکن کیون پیٹرسن کا کہنا ہے کہ انہیں اس سیریز میں شمولیت کے امکانات نظر نہیں آتے۔ ”نظر کی یہ خرابی“ شاید اس لیے ہے کہ آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ میں ان کی شرکت کے امکانات روشن ہیں جس کے لیے بگ بیش لیگ کی چند فرنچائزز مذاکرات کی خاطر پیٹرسن سے ملنے سری لنکا آ رہی ہیں کیونکہ وہ اس وقت ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء میں بحیثیت تجزیہ کار لنکن سرزمین پر موجود ہیں۔

لیکن ایک سوال جو اب بھی موجود ہے کہ انگلش کرکٹ کے پرسکون سمندر میں اتنا بڑا طوفان لانے کے بعد، جس کا خمیازہ انگلستان کو سیریز کے دوران تینوں طرز کی کرکٹ میں سرفہرست پوزیشن کھو بیٹھنے کی صورت میں بھگتنا پڑا، کیا کیون پیٹرسن کو ایک مرتبہ پھر ٹیم میں واپس آنا چاہیے؟ کیا انگلستان ”نظم و ضبط“ پر ”صلاحیتوں“ کو ترجیح دے گا؟ 'کرک نامہ' کے خیال میں اس کا فیصلہ بھارت میں انگلستان کی کارکردگی پر ہوگا۔ اگر انگلش بلے باز وہاں ناکام رہے تو انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ ”مجبوری کا نام شکریہ“ کر کے کیون کو دورۂ نیوزی لینڈ کے لیے طلب کر سکتا ہے۔

Facebook Comments