خلیج بنگال میں عمران نذیر کا طوفان، بنگلہ دیشی کشتی ڈوب گئی

بالآخر وسیم اکرم کی پیش گوئی درست ثابت ہوئی کہ عمران نذیر پاکستان کو اس ٹورنامنٹ میں ایک میچ جتوائیں گے اور بنگلہ دیش کے خلاف آخری گروپ مقابلے میں اُن کی طوفانی اننگز پاکستان کو با آسانی 8 وکٹوں سے جتوا کر سپر 8 مرحلے میں پہنچانے کے لیے کلیدی ثابت ہوئی ورنہ باؤلنگ اور فیلڈنگ کے شعبے میں بدترین ناکامی کے باعث پاکستان آخری گروپ مقابلے میں کمزور پوزیشن پر آ چکا تھا۔ حریف بلے باز شکیب الحسن کی 84 رنز کی شاندار باری اور عمر گل سمیت اہم گیند بازوں کی بدترین ناکامی کے باعث پاکستان کو 176 رنز کے ریکارڈ ہدف کا تعاقب کرنا پڑا۔ لیکن عمران نذیر اور محمد حفیظ کے درمیان 124 رنز کی رفاقت نے بنگلہ دیشی امیدوں کو خاک میں ملا دیا اور اب وہ پہلی پرواز کے ذریعے خلیج بنگال پار کر کے ڈھاکہ پہنچنے کی تیاریاں کریں گے۔

محض ایک رن پر زندگی ملنے کے بعد عمران نذیر نے 36 گیندوں پر 72 رنز کی شعلہ فشاں اننگز کھیلی (تصویر: AFP)

محض ایک رن پر زندگی ملنے کے بعد عمران نذیر نے 36 گیندوں پر 72 رنز کی شعلہ فشاں اننگز کھیلی (تصویر: AFP)

یہ مقابلہ شکیب اور عمران نذیر کی بلے بازی کے باعث تو یاد رکھا ہی جائے گا لیکن پالی کیلے کے شائقین قیمتی کیچ چھوڑنے کے ان لمحات کو بھی یاد رکھیں گے جنہوں نے مقابلے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ پاکستان کی جانب سے سہیل تنویر نے "تاریخ کے بدترین کیچ ڈراپ" کا کارنامہ انجام دیا تو بنگلہ دیش کی جانب سے ابو الحسن کا کیچ چھوڑنا بنگلہ دیش کو (صرف 24 گیندوں پر) 71 رنز مہنگا پڑ گیا۔وہ بھلا کیسے؟ اس کا ذکر آگے پڑھئے گا۔

دراصل بنگلہ دیش کو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء کے سپر 8 مرحلے میں پہنچنے کے لیے پاکستان کو لازماً 36 رنز کے مارجن سے ہرانا تھا، جو 'بنگال کے شیروں' کے لیے بہت مشکل ہدف تھا۔ 1999ء کے عالمی کپ کے گروپ مقابلے میں پاکستان کو تاریخی شکست دینے کے بعد 13 سال سے کسی بھی فارمیٹ میں پاکستان کے خلاف نہ جیت پانے والے بنگلہ دیش کو اپنی صلاحیتوں سے کہیں بڑھ کر کچھ کر دکھانے کی ضرورت تھی اور کم از کم ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرتے ہوئے تو انہوں نے وہ سب کر دکھایا۔ پاکستانی گیند باز، جو عرصے سے بہت عمدہ فارم میں ہیں، حیران کن طور پر پالی کیلے کی وکٹ پر بہت مکمل طور پر بے بس نظر آئے۔ خصوصاً شکیب الحسن نے بہت عمدہ بیٹنگ کی اور کسی بھی بنگلہ دیشی بلے باز کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی تاریخ کی سب سے بڑی اننگز کھیلی۔ لیکن ان کی باری کا احوال بعد میں، پہلے ہم 176 رنز کے نسبتاً مشکل ہدف کے تعاقب میں قسمت کے دھنی پاکستان کا ذکر کریں گے۔ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء کے گروپ مرحلے کے آخری مرحلے میں پاکستان کی خوش قسمتی کا عالم یہ تھا کہ محمد حفیظ اننگز کی پہلی ہی گیند کو سلپ کی جانب اٹھا بیٹھے تاہم وہ جست لگاتے محمد اشرفل کی پہنچ سے تھوڑا سا دور ثابت ہوئی لیکن عمران نذیر کا جو کیچ ابو الحسن نے ڈراپ کیا، وہ ایک بالکل آسان کیچ تھا۔ اس وقت عمران نذیر صرف ایک رن پر کھیل رہے تھے اور بعد ازاں یہ ڈراپ فیصلہ کن ثابت ہوا۔

عمران نذیر نے محض 25 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کر کے نہ صرف ورلڈ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کی تاریخ کی تیز ترین نصف سنچری بنائی بلکہ بنگلہ دیشی حریفوں کو بتایا کہ یہ کیچ انہیں کتنا مہنگا پڑا۔ اس طوفانی اننگز میں انہوں نے محض 36 گیندوں پر 72 رنز بنائے اور پہلی وکٹ پر محمد حفیظ کے ساتھ ان کی 124 رنز کی رفاقت ہی پاکستان کو مضبوط پوزیشن میں لانے کے لیے کافی ثابت ہوئی۔ بنگلہ دیش کو ابتداء ہی میں اندازہ ہو گیا کہ عمران نذیر کا کیچ چھوڑنا ان کے لیے بہت بدشگونی ہے کیونکہ زندگی ملنے کے کچھ ہی دیر بعد عمران نذیر نے شفیع الاسلام اور مشرفی مرتضیٰ کو تین چوکے اور دو چھکے رسید کیے اور رنز کا انجن پوری رفتار سے اسٹارٹ کر دیا۔ صرف پاور پلے کے اختتام پر 64 رنز کا ہندسہ اسکور بورڈ پر نظر آ رہا تھا جبکہ پاکستان کی کوئی وکٹ بھی نہ گری تھی۔

حفیظ دوسرے اینڈ سے ذمہ دارانہ انداز میں کھیلتے رہے اور عمران نذیر کو کھیلنے کا بھرپور موقع فراہم کیا، جس کی بدولت پاکستان نے 14 ویں اوور کے وسط تک 124 رنز بنا لیے۔ ابو الحسن، جنہوں نے عمران نذیر کا کیچ چھوڑا تھا، کے لیے میچ سے وابستہ ایک ہی خوشگوار یاد ہوگی، جب انہوں نے ایک ہی اوور میں عمران نذیر اور محمد حفیظ کو پویلین لوٹایا۔ عمران نذیر کی شعلہ فشاں اننگز میں 3 چھکے اور 9 چوکے شامل تھے جبکہ حفیظ نے 47 گیندوں پر 6 چوکوں کی مدد سے 45 رنز بنائے۔

اب کریز پر 'مین ان فارم' ناصر جمشید موجود تھے جنہوں نے اپنے خوبصورت ترین شاٹس کی مدد سے پاکستان کے سفر کو آسان سے آسان تر بنا دیا۔ ان کی گیندوں پر رنز کی اننگز میں اسکوائر لیگ پر لگایا گیا ایک انتہائی خوبصورت چھکا بھی شامل تھا۔پاکستان نے ناصر اور کامران کی اننگز کے دوران صرف دو اوورز میں 36 رنز بنائے جس میں ناصر جمشید کے دو چھکے اور دو چوکے اور کامران اکمل کے تین چوکے شامل تھے۔ بالآخر 19 ویں اوور کی چوتھی گیند پر کامران اکمل کے چوکے کے ذریعے ہدف کو جا لیا۔ یہ ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی کرکٹ میں کامیابی سے حاصل کیا گیا پاکستان کا سب سے بڑا ہدف ہے جو تعاقب میں پاکستان کی ازلی کمزوری کو دیکھتے ہوئے ایک اچھا شکون کہا جا سکتا ہے۔ ناصر جمشید 14 گیندوں پر 29 رنز جبکہ کامران اکمل 15 گیندوں پر22 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے۔

بنگلہ دیش کی جانب سے صرف ابو الحسن ہی نے وکٹیں حاصل کیں لیکن اس کے لیے انہیں 3 اوورز میں 33 رنز کی بھاری مار سہنا پڑی جبکہ بقیہ باؤلرز نے تو صرف مار ہی کھائی۔

قبل ازیں بنگلہ دیش نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا اور ابتداء ہی سے بہت جارحانہ انداز اپنایا۔ پاکستانی باؤلرز خصوصاً عمر گل آج اپنی لائن اور لینتھ کو مکمل طور پر بھول بیٹھے۔محمد حفیظ بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے بلے بازوں کے خلاف اپنی اہلیت کو ثابت کرنے کے لیے ایک مرتبہ پھر پہلا اوور کرانے آئے اور محمد اشرفل کے ہاتھوں ایک چوکا کھانے کے بعد اپنے پہلے اوور کا اختتام 7 رنز کے ساتھ کیا لیکن سہیل تنویر، جو پورے ٹورنامنٹ میں مکمل طور پر بجھے ہوئے نظر آئے، نے پہلی گیند نو بال پھینکی اور ملنے والی فری ہٹ پر اشرفل کے ہاتھوں ایک چوکا بھی کھایا۔ رہی سہی کسر عمر گل نے اگلے اوور میں پوری کردی جب دوسری گیند پر تمیم اقبال کے ہاتھوں چوکا کھانے کے بعد انہوں نے ایک بڑی وائیڈ پھینک دی اور گیند پیچھے باؤنڈری لائن پار گئی۔ وائیڈ کے پانچ رنز ملنے کے بعد بھی عمر گل نے آخری دو گیندوں پر دو چوکے کھا کر اپنے لیے دن کا آغاز بدترین انداز میں کیا۔ پہلے ہی اوور میں 17 رنز پڑ گئے اور بعد میں یہ سلسلہ ان کے بقیہ دو اوورز میں بھی چلتا رہا۔

جیسے ہی اوپنرز مکمل طور پر چارج ہوئے پاکستان نے وکٹ گرا دی۔ سہیل تنویر نے کی ایک گیند کو آگے بڑھ کر کھیلنے کی کوشش اشرفل کو مہنگی پڑ گئی اور وہ بولڈ ہو گئے۔ پاکستان کے لیے سکھ کا پہلا سانس، جو بعد میں وقتی ثابت ہوا۔ شکیب الحسن صورتحال کے پیش نظر ون ڈاؤن پوزیشن پر آئے اور پھر اس اوور میں محتاط رویے کے بعد اگلے اوور سے پاکستان گیند بازوں کی دھلائی کا دوبارہ آغاز ہوا۔

محمد حفیظ نے پانچویں اوور کی پہلی دونوں گیندوں پر تمیم اقبال سے چوکے کھائے اور لیکن یہ پاور پلے کا آخری اوور تھا جس میں شکیب الحسن نے ٹاپ گیئر لگایا۔ سہیل تنویر کو مسلسل تین خوبصورت چوکے لگانے کے بعد ان سے بڑی غلطی ہو گئی جس کا خمیازہ دوسرے اینڈ پر تمیم اقبال کو بھگتنا پڑا جو رن آؤٹ ہو گئے۔ صرف 12 گیندوں پر 24 رنز بنانے کے بعد تمیم کی اننگز کا یہ اختتام مایوس کن تھا اور اس کا کفارہ بعد ازاں شکیب نے ادا بھی کیا۔

61 رنز پر دو بلے باز گنوانے کے بعد کپتان مشفق الرحیم شکیب کا ساتھ دینے کے لیے میدان میں آئے اور دونوں نے پاکستانی باؤلرز کے میچ میں واپس آنے کے تمام ارادوں کو خاک میں ملا دیا۔ مشفق نے محمد حفیظ کو ایک سیدھا چھکا بھی لگایا جبکہ شکیب نے سعید اجمل کے پہلے ہی اوور میں دو چوکے لگائے۔ گو کہ اس میں سے پہلا چوکا دراصل کامران اکمل کی ٹانگوں کے درمیان سے نکلنے والا ایک کیچ تھا لیکن دوسرا چوکا ایک خوبصورت ڈرائیو تھا۔

عمر گل کو دوبارہ لایا گیا، جن کی باؤلنگ میں ٹکے کا فرق نہ آیا۔ انہوں نے پھر شکیب کے ہاتھوں مسلسل دو گیندوں پر چوکا اور چھکا کھایا اور اس اوور میں 12 رنز دیے۔ بنگلہ دیش مکمل طور پر مقابلے پر حاوی ہو گیا۔ یاسر عرفات کے پہلے اوور کی پہلی ہی گیند پر سہیل تنویر نے اک ایسا کیچ چھوڑا جو مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ شارٹ گیند کو پل کرنے کی کوشش میں مشفق مڈ وکٹ کی جانب کیچ اچھال بیٹھے جہاں سہیل تنویر نے اپنی فیلڈنگ کی اہلیت ثابت کر دی۔ سزا یاسرعرفات کو شکیب کے ہاتھوں ایک چوکے اور چھکے کی صورت میں بھگتنی پڑی۔ پانچویں گیند پر شاہد آفریدی نے ایک بہت مشکل کیچ پکڑنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔

دونوں بلے بازوں کے درمیان شراکت داری 15 ویں اوور میں یاسر عرفات کی گیند پر مشفق الرحیم کی وکٹ گرنے کے ساتھ تمام ہوئی۔ محمود اللہ پاکستان کے لیے خطرہ ثابت نہ ہو سکے اور صفر پر ہی عمر اکمل کو لانگ آن پر کیچ دے بیٹھے۔ نئے بلے باز ناصر حسین کو کامران اکمل نے زندگی تھی۔

حتمی مرحلے میں عمر گل نے ایک اور بدترین اوور کرایا اور شکیب کے ہاتھوں تین چوکے سہنے کے ساتھ 14 رنز کھائے۔ یوں تین اوورز میں انہوں نے کل 43 رنز دیے اور کوئی وکٹ حاصل نہ کی۔ آخری دو اوورز میں بنگلہ دیش نے 19 رنز بنائے اور دو وکٹیں گنوائیں ۔ یاسر عرفات نے شکیب کو 84 اور ناصر کو 16 رنز پر آؤٹ کیا۔ شکیب نے دو چھکوں اور 11 چوکوں سے محض 54 گیندوں پر ایک شاندار اننگز کھیلی۔ جس نے بنگلہ دیش کو حوصلوں کو بہت بلند کیا لیکن بدقسمتی سے عمران نذیر شو کے باعث ان کی باری رائیگاں گئی۔

عمران نذیر کو شاندار بلے بازی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اب پاکستان سپر 8 مرحلے کے گروپ 2 یا "ایف" میں ہے جہاں اس کے مدمقابل آسٹریلیا، جنوبی افریقہ اور بھارت جیسی مضبوط ٹیمیں ہوں گی۔ پاکستان اپنا پہلا مقابلہ جمعہ 28 ستمبر کو جنوبی افریقہ کے خلاف کولمبو میں کھیلے گا۔ جبکہ بقیہ دونوں مقابلوں 30 ستمبر اور دو اکتوبر کو بالترتیب آسٹریلیا اور بھارت کے خلاف ہوں گے۔

پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء، بارہواں مقابلہ

25 ستمبر 2012ء

بمقام: پالی کیلے انٹرنیشنل اسٹیڈیم، کانڈی، سری لنکا

نتیجہ: پاکستان 8 وکٹوں سے فتح یاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: عمران نذیر (پاکستان)

بنگلہ دیش رنز گیندیں چوکے چھکے
تمیم اقبال رن آؤٹ 24 12 5 0
محمد اشرفل ب سہیل تنویر 14 13 3 0
شکیب الحسن ک عمر اکمل ب یاسر عرفات 84 54 11 2
مشفق الرحیم ک عمران نذیر ب یاسر عرفات 25 26 1 1
محمود اللہ ک عمر اکمل ب شاہد آفریدی 0 2 0 0
ناصر حسین ب یاسر عرفات 16 13 2 0
ضیاء الرحمن ناٹ آؤٹ 1 1 0 0
فاضل رنز ل ب 2، و 8، ن ب 1 11
مجموعہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 175

 

پاکستان (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
محمد حفیظ 3 0 28 0
سہیل تنویر 3 0 25 1
عمر گل 3 0 43 0
شاہد آفریدی 4 0 20 1
سعید اجمل 4 0 32 0
یاسر عرفات 3 0 25 3

 

پاکستانہدف: 176 رنز رنز گیندیں چوکے چھکے
محمد حفیظ ک مشفق ب ابو الحسن 45 47 6 0
عمران نذیر ک متبادل کھلاڑی ب ابو الحسن 72 36 9 3
ناصر جمشید ناٹ آؤٹ 29 14 2 2
کامران اکمل ناٹ آؤٹ 22 15 4 0
فاضل رنز ب 1، ل ب 2، و 7 10
مجموعہ 18.4 اوورز میں 2 وکٹوں کے نقصان پر 178

 

بنگلہ دیش (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
مشرفی مرتضی 3 0 30 0
شفیع الاسلام 2.4 0 35 0
عبد الرزاق 4 0 30 0
شکیب الحسن 4 0 23 0
ابو الحسن 3 0 33 2
محمود اللہ 2 0 24 0

Facebook Comments