سائمن ٹوفل نے امپائرنگ سے ریٹائرمنٹ لے لی

بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے اعلان کیا ہے کہ معروف امپائر سائمن ٹوفل سری لنکا میں جاری ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد امپائرنگ سے ریٹائر ہو جائیں گے اور آئی سی سی کے قائم کردہ امپائر پرفارمنس اینڈ ٹریننگ مینیجر کے نئے عہدے کو سنبھالیں گے۔ ان کی جگہ ان کے ہم وطن بروکس آکسنفرڈ یکم نومبر سے ایلیٹ پینل آف امپائرز میں جگہ پائیں گے۔

سائمن ٹوفل 2004ء سے 2008ء تک مسلسل پانچ سالوں تک "سال کے بہترین امپائر" قرار دیے گئے (تصویر: Getty Images)

سائمن ٹوفل 2004ء سے 2008ء تک مسلسل پانچ سالوں تک "سال کے بہترین امپائر" قرار دیے گئے (تصویر: Getty Images)

آئی سی سی کی جانب سے کرک نامہ کے موصول ہونے والے اعلامیہ کے مطابق آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے41 سالہ ٹوفل ٹوفل نے ریکارڈ پانچ مرتبہ یعنی 2004ء سے 2008ء تک ”سال کے بہترین امپائر“ کا اعزاز حاصل کیا اور تقریباً 14 سالہ دور میں دنیا کے معتبر ترین امپائروں میں شمار کیے جاتے تھے۔ انہوں نے 2011ء کے عالمی کپ کے فائنل کے علاوہ 2007ء اور 2009ء کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی اور 2004ء کی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں بھی امپائرنگ کے فرائض انجام دیے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سائمن ٹوفل نے کہا کہ ”جاری ورلڈ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے بعد میں ذاتی و پیشہ ورانہ وجوہات کی بنیاد پر بین الاقوامی امپائرنگ سے کنارہ کشی اختیار کر لوں گا۔میری اہلیہ اور بچوں نے امپائرنگ کیریئر میں مجھے بھرپور مدد فراہم کی اور اب مرحلہ آ گیا ہے کہ میں کچھ وقت ان کے ساتھ گزاروں۔ کرکٹ امپائرنگ سے میری جذباتی وابستگی اب میدان کے بجائے اُس سے باہر ہوگی اور میں آئی سی سی امپائرنگ پرفارمنس اینڈ ٹریننگ مینیجر کے نئے عہدے پر فائز ہوں گا۔“

ٹوفل نے 74 ٹیسٹ اور 174 ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں میں امپائرنگ کے فرائض انجام دیے۔ انہوں نے 27 سالہ کی عمر میں 1999ء میں سڈنی میں آسٹریلیا اور سری لنکا کے درمیان ایک روزہ بین الاقوامی مقابلے میں امپائرنگ سے کیریئر کا آغاز کیا جبکہ 2000ء میں آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کے درمیان روایتی باکسنگ ڈے ٹیسٹ ان کا پہلا ٹیسٹ مقابلہ تھا۔

آپ نے نوجوانی میں بحیثیت تیز گیند باز کرکٹ کھیلی تھی اور مائیکل سلیٹر اور ایڈم گلکرسٹ جیسے شہرۂ آفاق کھلاڑی ان کے ساتھی تھے لیکن کمر کی انجری کےباعث اُن کا کرکٹ کیریئر ختم ہو گیا تو انہوں نے کم عمری میں ہی امپائرنگ سے ناطہ جوڑ لیا۔

Facebook Comments