ورلڈ ٹی ٹوئنٹی، پاکستان اور بھارت فیورٹ ہیں: جیفری بائیکاٹ

کرکٹ کی مختصر ترین طرز کا اعلیٰ ترین اعزاز ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء اپنے اہم ترین مرحلے ’سپر 8‘ میں داخل ہو چکا ہے، جہاں دنیائے کرکٹ کی 8 بہترین ٹیمیں ایک مقصد و ہدف کے لیے مقابلہ کر رہی ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں بیشتر یکطرفہ مقابلوں کے بعد اب میدان کے ساتھ ساتھ تبصرے و تجزیے بھی گرم ہو چکے ہیں اور ماہرین اپنی پسندیدہ ٹیموں کے نام لے رہے ہیں جن میں انگلستان کے سابق کپتان اور موجودہ تجزیہ کار جیفری بائیکاٹ بھی شامل ہیں جنہوں نے پاکستان اور بھارت کو عالمی ٹی ٹوئنٹی چیمپئن شپ کے لیے بہترین امیدوار قرار دیا ہے۔

پاکستان کے پاس بہترین اسپنرز اور بھارت کے پاس اسپنرز کے ساتھ اسپن کھیلنے والے بہترین بلے باز بھی ہیں

پاکستان کے پاس بہترین اسپنرز اور بھارت کے پاس اسپنرز کے ساتھ اسپن کھیلنے والے بہترین بلے باز بھی ہیں

معروف کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو پر اپنے مستقل سلسلے ’Bowl at Boycs‘ میں گفتگو کرتے ہوئے جیفری بائیکاٹ نے اس کی وجوہات پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ برصغیر کی وکٹوں پر اسپنرز کے لیے کافی مدد موجود ہوتی ہے اور یہ ٹورنامنٹ جیسے جیسے آگے بڑھتا جائے گا، پچیں زیادہ سے زیادہ ٹرن لیں گی۔ سری لنکا کے بیشتر میدان چھوٹے ہیں اور ان میں پچوں کی تعداد بھی کم ہے، جس کی وجہ سے میچز کی تعداد بڑھنے کے ساتھ ساتھ وہی پچیں دوبارہ زیر استعمال آئیں گی۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ جو ٹیمیں اچھے اسپنرز کی حامل ہوں گی اور ساتھ ہی اسپن کو کھیلنے والے اچھے بلے بازوں کی بھی، وہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں سب سے آگے رہیں گی۔

جیفری بائیکاٹ نے کہا کہ اس لیے میرے خیال میں بھارت اور پاکستان کے جیتنے کے امکانات سب سے زیادہ ہیں۔ دونوں معیاری اسپنرز کی حامل ٹیمیں ہیں۔ پاکستان کے پاس سعید اجمل ہے، جسے چند بلے باز بھی نہیں سمجھ پاتے۔ ساتھ ہی ان کے پاس آفریدی ہے جو بہت کارآمد کھلاڑی ہے۔ البتہ پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ کبھی کبھار دھوکہ دے جاتی ہے۔ اس کے مقابلے میں بھارت کے پاس نہ صرف بہت اچھے اسپنرز ہیں، جنہوں نے ابھی حالیہ مقابلے میں انگلستان کو ناکوں چنے چبوائے ہیں، بلکہ ان کے پاس اک ایسا اچھا اسپنر بھی ہے جو ابھی کھیلا ہی نہیں ہے، یعنی روی چندر آشوِن، اس کے علاوہ بھارت کے پاس یووراج بھی ہے جو بہت اچھی باؤلنگ کر سکتا ہے۔ علاوہ ازیں اسپن کو بہترین انداز میں کھیلنے والے بلے باز بھی بھارت کے پاس ہیں، بلکہ وہ ایسے ہیں جو اسپنرز کے لیے مددگار پچوں پر ہی کھیل کر بڑے ہوئے ہیں۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ اسپنرز کے خلاف آؤٹ نہیں ہوں گے لیکن دیگر ٹیموں کے مقابلے میں وہ اسپنرز کے مقابلے میں خود کو زیادہ آرام دہ محسوس کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ”انہی وجوہات کی بنیاد پر میرے خیال میں بھارت اور پاکستان کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتنے کے سب سے زیادہ امکانات ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ایک طرح کی قرعہ اندازی ہے جس میں کوئی بھی جیت سکتا ہے۔“

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے سپر 8 مرحلے کا آغاز آج پالی کیلے میں سری لنکا اور نیوزی لینڈ کے درمیان مقابلے سے ہوچکا ہے اور پاکستان اپنا پہلا مقابلہ کل یعنی جمعہ 28 ستمبر کو جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلے گاجبکہ بائیکاٹ کی دونوں فیورٹ ٹیمیں یعنی پاکستان اور بھارت 30 ستمبر کو مدمقابل ہوں گی۔

Facebook Comments