کالی آندھی پہلے بڑے امتحان میں سرخرو، دفاعی چیمپئن انگلستان ہار گیا

باؤلنگ کا شعبہ کمزور ہونے کے باوجود ویسٹ انڈیز کے بلے بازوں کا جمع کردہ اسکور دفاعی چیمپئن انگلستان کو زیر کرنے کے لیے کافی ثابت ہوا اور ایون مورگن اور ایلکس ہیلز کا ایڑی چوٹی کا زور بھی انگلستان کو فتح یاب نہ کر سکا اور دفاعی چیمپئن سپر 8 مرحلے میں اپنے پہلے ہی مقابلے شکست کھا گیا۔ 180 رنز کے بھاری ہدف کے تعاقب میں صفر پر دو وکٹیں گنوانے کے بعد مردِ بحران ایون مورگن نے ایلکس ہیلز کے ساتھ اننگز کو پٹری پر ڈالا لیکن اوورز زیادہ ضایع ہو جانے کے باعث تمام تر جہد و سعی کے باوجود سفر 15 رنز قبل تمام ہوا۔ یوں مورگن کی 36 گیندوں پر 71 رنز کی تباہ کن اننگز اور ایلکس ہیلز کے ساتھ چوتھی وکٹ پر محض 58 گیندوں پر 107 رنز کی رفاقت رائیگاں گئی۔

نوجوان جانسن چارلس سست آغاز کے بعد 84 رنز کی فتح گر باری کھیلنے میں کامیاب ہوئے (تصویر: Getty Images)

نوجوان جانسن چارلس سست آغاز کے بعد 84 رنز کی فتح گر باری کھیلنے میں کامیاب ہوئے (تصویر: Getty Images)

ویسٹ انڈیز، جو گروپ مرحلے میں اپنے دونوں مقابلے بارش سے متاثر ہونے کے باعث بغیر کوئی فتح حاصل کیے سپر 8 میں پہنچا تھا، پہلے امتحان میں سرخرو ثابت ہوا۔ گو کہ اس کی کمزور باؤلنگ کی قلعی کھل کر سامنے آ گئی لیکن اوپنرز کے درمیان سنچری شراکت، نوجوان جانسن چارلس کی 84 رنز کی کراری اننگز اور کرس گیل کی شعلہ فشاں نصف سنچری اس مقابلے میں اس کے مثبت پہلو رہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ”جو جیتا وہ سکندر“!

پالی کیلے کے انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں ہونے والا یہ مقابلہ نیوزی لینڈ-سری لنکا معرکے کے سپر اوور مرحلے تک پہنچنے کے باعث تاخیر سے شروع ہوا۔ سپر 8 مرحلے کے اس کرارے آغاز کے بعد امید تھی کہ شائقین گروپ مرحلے کی بوریت کو ایک ہی روز میں پورا کر دیں گے اور انگلستان نے صفر پر دو وکٹیں گنوانے کے باوجود بھرپور مقابلہ کیا اور میچ کو دلچسپ بنایا۔

ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا اور دونوں اوپنرز کے درمیان محض 11 اوورز میں 103 رنز کی رفاقت نے غرب الہند کو ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا، جس کی بنیاد پر وہ بہت تباہ کن اسکور اکٹھا کر سکتا تھا۔ ابتداء میں کچھ مسائل سے دوچار ہونے کے بعد نوجوان 23 سالہ جانسن چارلس کا بلّا خوب چلا، جنہوں نے ابتدائی 8 اوورز تک تو دوسرے اینڈ سے کرس کو ہی ”بلّا چارج“ کرتے دیکھا، لیکن جب سمیت پٹیل کے ایک ہی اوور میں گیل نے تین چھکے لگا کر گیند کے ساتھ اسکور کو بھی آسمان تک پہنچا تو سینٹ لوشیا کے اس نوجوان کو بھی کچھ ”غیرت“ آئی، اور انہوں نے گریم سوان جیسے عالمی معیار کے گیند باز کو ایک ہی اوور میں ایک چوکا اور دو کمال کے چھکے لگائے۔ ویسٹ انڈیز نے گیل کے ایک چھکے کی بدولت 11 ویں اوور میں 100 رنز کا ہندسہ عبور کیا لیکن آخری گیند پر گیل ایک اور گیند کو باؤنڈری کی راہ دکھانے کی کوشش میں لانگ آن پر کیچ دے بیٹھے۔ اس سے ایک گیند پر لانگ آن پر کھڑے اسٹیون فن چارلس کا ایک آسان کیچ چھوڑ چکے تھے، جو اس وقت صرف 40 پر کھیل رہے تھے۔ لیکن اگلی گیند پر وہ گیل کی قیمتی وکٹ نہیں کھونا چاہتے تھے اور پوری جان لڑا کر کیچ تھام لیا۔ گیل کی اننگز صرف 35 گیندوں پر 4 شاندار چھکوں اور 6 چوکوں کی مدد سے 58 رنز پر تمام ہوئی۔

گو کہ دوسرے اینڈ سے وکٹیں گرتی رہیں۔ مارلون سیموئلز صرف 2 رنز بنانے کے بعد اسٹورٹ براڈ اور کیرون پولارڈ صرف ایک رن بنانے کے بعد اسٹیون فن کے ہاتھوں پویلین سدھارے لیکن دوسرے اینڈ سے اب چارلس کو روکنا انگلستان کے لیے مصیبت بن گیا تھا۔ انہوں نے اس عرصے میں سمیت پٹیل کو 95 میٹر طویل ایک شاندار چھکا بھی لگایا اور فن سے پولارڈ کو آؤٹ کرنے کا بدلہ مسلسل دو گیندوں کو چوکے کی راہ دکھا کر لیا۔ بالآخر 18 ویں اوور میں وہ جیڈ ڈرنباخ کو دو چوکے لگانے کے بعد مڈ آن پر کیچ دے گئے۔ ان کی اننگز صرف 56 گیندوں پر مشتمل رہی، جس میں انہوں نے 3 چھکوں اور 10 چوکوں کی مدد سے 84 رنز بنائے۔ یہ ابتدائی سست آغاز کے بعد تراشی گئی ایک یادگار اننگز تھی، جس پر چارلس میچ کے بہترین کھلاڑی کے درست حقدار تھے۔

بہرحال، آخری اوور میں ڈیوین براوو کے تین چوکوں نے اسکور کو 179 تک پہنچانے میں مدد دی اور یوں انگلستان کو 180 رنز کا ریکارڈ ہدف تعاقب کے لیے ملا۔

انگلستان کی جانب سے کپتان اسٹورٹ براڈ نے بہت اچھی باؤلنگ کی اور اپنے چار اوورز میں ایک وکٹ میڈن بھی پھینکا اور 26 رنز دے کر 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ فن، ڈرنباخ اور سوان نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔ حیران کن طور پر اسپنرز کے لیے مددگار وکٹ پر انگلستان کے دونوں اسپنر ز یعنی سوان اور سمیت پٹیل بری طرح ناکام ہوئے۔ جنہیں بالترتیب تین اوورز میں 32 اور چار اووز میں 38 رنز پڑے۔

ایون مورگن کی 36 گیندوں پر 71 رنز کی ناقابل شکست اننگز بھی انگلستان کے لیے کافی ثابت نہ ہو سکی (تصویر: Getty Images)

ایون مورگن کی 36 گیندوں پر 71 رنز کی ناقابل شکست اننگز بھی انگلستان کے لیے کافی ثابت نہ ہو سکی (تصویر: Getty Images)

جواب میں انگلستان نے ریکارڈ ہدف کا تعاقب کرنا شروع کیا تو اسے ابتدائی اوور ہی میں روی رامپال کی مسلسل دو گیندوں پر اوپنر کریگ کیزویٹر اور ون ڈاؤن بلے باز لیوک رائٹ کی وکٹیں گنوانا پڑی۔ کیزویٹر روی کی ایک شارٹ آف لینتھ بال کو پل کرنے کی کوشش میں کیرون پولارڈ کو کیچ دے کر صفر کے ساتھ پویلین لوٹے جبکہ اگلی ہی گیند پر سلپ میں کرس گیل کو کیچ دے بیٹھے۔ جنہوں نے ایک مرتبہ پھر اپنے رقص سے شائقین کو محظوظ کیا۔ صفر پر دو وکٹیں گنوانے کے بعد انگلستان کو معجزہ دکھانے کی ضرورت تھی اور ایسی ”کرامات“ ان کے صرف ایک بلے باز کے پاس ہیں، ایون مورگن۔ جنہوں نے اس سنگین صورتحال میں ہیلز کے ساتھ مل کر ایک ایسی شراکت قائم کی جس نے میچ کا پانسہ تقریباً پلٹ ہی دیا تھا۔ لیکن ابتدائی 10 اوورز میں رنز بننے میں سست رفتاری کا خمیازہ آخر میں انگلستان کو بھگتنا پڑا۔ جب 10 ویں اوور کی آخری گیند پر جانی بیئرسٹو 29 گیندوں پر صرف 18 رنز بنا کر کرس گیل کا واحد شکار بنے تو اسکور بورڈ پر صرف 55 رنز تھے یعنی کہ 10 اوورز میں انگلستان کو جیتنے کے لیے 125 رنز درکار تھے۔

اس موقع پر ہیلز 28 گیندوں پر 35 رنز کے ساتھ کریز پر موجود تھے، اور انہیں رفاقت کے لیے مورگن جیسے بلے باز کا ساتھ ملا۔ گویا پرفیکٹ کمبی نیشن! کچھ دیر سیٹ ہونے کے بعد ہیلز نے ”گولہ باری“ کا آغاز کیا اور مارلون سیموئلز کو دو گیندوں پر چوکا اور چھکا رسید کر کے مورگن کو بھی اشارہ کر دیا جنہوں نے اگلے دونوں اوورز میں گیند بازوں کی تواضع دو چھکوں سے کی۔

مقابلہ حتمی مرحلے میں داخل ہوتے ہی گویا دونوں کھلاڑیوں میں بجلی سما گئی۔ 17 ویں اوور میں روی رامپال سے مورگن نے چھکے اور چوکے سمیت کل 17 رنز لوٹے اور پھر اگلے اوور میں انہیں پھر دو چھکوں سے 16 رنز کھانے کی ذلت اٹھانی پڑی۔ یہاں اگر درمیان میں سنیل نرائن ایک اچھا اوور نہ پھینکتے تو مقابلہ پھنس سکتا تھا لیکن نوجوان باؤلر نے آئی پی ایل سے حاصل ہونے والے تجربے کو بھرپور انداز میں استعمال کیا اور صرف 7 رنز دیے۔

آخری اوور میں ڈیرن سیمی نے تجربہ کار مارلون سیموئلز پر اعتبار کیا اور انہیں گیند تھمائی۔ انگلستان کو 6 گیندوں پر 23 رنز کا انتہائی مشکل ہدف درکار تھا۔ پہلی گیند پر کیرون پولارڈ کی سر توڑ کوشش بھی گیند کو چوکے سے نہ بچا سکی لیکن اس کے بعد سیموئلز نے کمال کر دیا۔ انہوں نے اگلی پانچ گیندوں پر انگلش بلے بازوں کو صرف 3 رنز لینے دیے اور ایک خوبصورت یارکر نما گیند پر ہیلز کی وکٹ بھی حاصل کی جو آگے بڑھ کر گیند کو باہر پھینکنے کی کوشش میں اسٹمپ ہوئے۔ ہیلز نے 51 گیندوں پر 68 رنز بنائے جبکہ مورگن 36 گیندوں پر 5 چھکوں اور 4 چوکوں کی مدد سے 71 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔

اس مقام پر کرس گیل کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی، جنہوں نے بلے بازی سے تو اپنا حق ادا کیا ہی، لیکن گیند بازی میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ اپنے چار اوورز میں انہوں نے صرف 27 رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی۔ ان کے علاوہ سیموئل بدری نے 4 اوورز میں صرف 20 رنز دیے۔ روی رامپال، گو کہ آخری دو اوورز میں بہت مہنگے ثابت ہوئے لیکن یہ وہی باؤلر تھے جنہوں نے صفر پر دو وکٹیں حاصل کر کے انگلش ٹاپ آرڈر کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

ان دو قیمتی پوائنٹس کے ساتھ اب ویسٹ انڈیز کو سیمی فائنل تک رسائی کی امید نظر آ رہی ہے۔ گو کہ ان کے اگلے حریف میزبان سری لنکا اور نیوزی لینڈ ہوں گے، لیکن انگلستان جیسی ٹیم کے خلاف ایک شاندار فتح نے ٹیم کے حوصلے بلند کیے ہیں۔ بس انہیں اپنے گیند بازی کے شعبے پر توجہ دینا ہوگی۔

انگلستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء، سپر 8 مرحلہ، دوسرا مقابلہ

27 ستمبر 2012ء

بمقام: پالی کیلے انٹرنیشنل اسٹیڈیم، کانڈی، سری لنکا

نتیجہ: ویسٹ انڈیز 15 رنز سے فتح یاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: جانسن چارلس (ویسٹ انڈیز)

ویسٹ انڈیز رنز گیندیں چوکے چھکے
جانسن چارلس ک بیئرسٹو ب ڈرنباخ 84 56 10 3
کرس گیل ک فن ب سوان 58 35 6 4
مارلون سیموئلز ک مورگن ب براڈ 2 8 0 0
کیرون پولارڈ ک رائٹ ب فن 1 5 0 0
ڈیوین براوو ناٹ آؤٹ 11 8 2 0
ڈیرن سیمی ب براڈ 4 3 0 0
آندرے رسل ناٹ آؤٹ 10 5 2 0
فاضل رنز ب 1، ل ب 7، و 1 9
مجموعہ 20 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 179

 

انگلستان (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
اسٹیون فن 4 0 26 1
جیڈ ڈرنباخ 4 0 38 1
اسٹورٹ براڈ 4 1 26 2
گریم سوان 3 0 32 1
سمیت پٹیل 4 0 38 0
لیوک رائٹ 1 0 11 0

 

انگلستانہدف: 180 رنز رنز گیندیں چوکے چھکے
کریگ کیزویٹر ک پولارڈ ب رامپال 0 2 0 0
ایلکس ہیلز اسٹمپ رامدین ب سیموئلز 68 51 5 2
لیوک رائٹ ک گیل ب رامپال 0 1 0 0
جانی بیئرسٹو ک پولارڈ ب گیل 18 29 2 0
ایون مورگن ناٹ آؤٹ 71 36 4 5
جوس بٹلر ناٹ آؤٹ 1 1 0 0
فاضل رنز ب 1، ل ب 1، و 4 6
مجموعہ 20 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 164

 

ویسٹ انڈیز (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
روی رامپال 4 1 37 2
سیموئل بدری 4 0 20 0
سنیل نرائن 4 0 33 0
ڈیرن سیمی 1 0 13 0
کرس گیل 4 0 27 1
مارلون سیموئلز 3 0 32 1

Facebook Comments