جنوبی افریقہ سعید اجمل سے خوفزدہ

وقت کس تیزی سے بدل جاتا ہے، دس بارہ سال قبل جب کوئی ٹیم پاکستان کے خلاف کھیلتی تھی تو اسے وسیم اکرم، وقار یونس اور شعیب اختر جیسے برق رفتار گیند بازوں کا خطرہ ہوتا تھا اور اب لگتا ہے ”تیز باؤلرز کی سرزمین“ بنجر ہو چکی ہے۔ گو کہ پاکستان اب بھی عالمی معیار کے گیند باز پیدا کر رہا ہے لیکن وہ تیز باؤلر نہیں بلکہ اسپنرز ہیں۔ اب وہ پاکستان، جس کے تیز باؤلرز سے حریف بلے باز کانپتے تھے، اس کے اسپنرز سے آج دنیا پریشان ہے، بالخصوص سعید اجمل سے!

اس وقت سعید اجمل کو سمجھنے والے بلے بازوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے: ابراہم ڈی ولیئرز (تصویر: AP)

اس وقت سعید اجمل کو سمجھنے والے بلے بازوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے: ابراہم ڈی ولیئرز (تصویر: AP)

عظیم سچن تنڈولکر اس جادوئی اسپنر کی گیندوں کو نہیں سمجھ پاتے، عالمی نمبر ایک انگلستان کے کھلاڑی اور بعد ازاں حال ہی میں آسٹریلیا کے بلے باز متحدہ عرب امارات میں ان کی گیندوں پر ”تگنی کا ناچ“ ناچتے نظر آئے۔ اور اب ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء میں ان کا پہلا بڑا نشانہ نیوزی لینڈ بنا ہے جس کے چار بلے باز ”پہلا“، ”دوسرا“ اور ”تیسرا“ میں فرق نہ کر پائے اور بالآخر ”منطقی انجام“ کو پہنچے۔

یہی وجہ ہے کہ ”سپر 8 مرحلے“ میں پہلے مقابلے سے قبل جنوبی افریقہ کے کپتان ابراہم ڈی ولیئرز سعید اجمل کو سب سے بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ”اس وقت ان بلے بازوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے جو سعید اجمل کی گیند کو سمجھ پاتے ہوں۔ ہم نے سعید کا بہت قریبی مشاہدہ کیا ہے اور ان کے ایکشن کا جائزہ لینے کے بعد حکمت عملی ترتیب دی ہے۔ اس لیے اب پاکستان کے خلاف مقابلے میں اہم ترین چیز یہ ہوگی کہ ہم گیند کو غور سے دیکھیں۔“

پاکستان کے خلاف جمعے کو اہم ترین مقابلے سے قبل ایک پریس کانفرنس میں ابراہم ڈی ولیئرز کا کہنا تھا کہ بلاشبہ سپر 8 میں ہمارا گروپ سخت ہے، جس کی تمام ٹیمیں اپنے دن پر کسی بھی حریف کو شکست دے سکتی ہیں، اس لیے ہمیں بھرپور تیاری کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک زبردست چیلنج ہوگا کیونکہ ہمیں چند ہی دنوں میں تین سخت حریفوں کے خلاف میچز کھیلنا ہوں گے اور ہم اس چیلنج سے نبرد آزما ہونے کو تیار ہیں۔

ڈی ولیئرز نے کہاکہ کولمبو کی وکٹ میں اسپنرز کے لیے مدد ضرور موجود ہے، جس کی توقع ہمیں سری لنکا آمد کے ساتھ ہی تھی کہ یہاں کی وکٹیں ”ٹرن“ کی حامل ہوں گی۔ اس لیے ہو سکتا ہے کہ ہم دو اسپنرز کے ساتھ میدان میں اتریں لیکن حتمی فیصلہ پچ کے قریبی معائنے کے بعد ہی طے کیا جائے گا۔

پاکستان کے بارے میں ڈی ولیئرز کا کہنا تھا کہ ”پاکستان نے ماضی کے تمام ورلڈ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹس میں عمدہ کرکٹ کھیلی ہے اور ہر مرتبہ سیمی فائنل تک پہنچا ہے، اس لیے بلاشبہ وہ ایک سخت حریف ہے لیکن ہم نے انہیں بری کرکٹ کھیلتے بھی دیکھا ہے اس لیے ہم بھرپور کارکردگی دکھائیں گے تاکہ ہمیں آگے بڑھنے سے کوئی نہ روک پائے۔“

سعید اجمل کے علاوہ پاکستان شاہد آفریدی اور محمد حفیظ کی خدمات بھی رکھتا ہے جو مختصر طرز کی کرکٹ میں دنیا کے موثر ترین اسپنر ہیں جبکہ اک نوجوان و باصلاحیت گیند باز رضا حسن کا ساتھ بھی ٹیم کو حاصل ہے، جو ممکنہ طور پر اسپنرز کے لیے مددگار کولمبو کی وکٹ پر موثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس مضبوط اسپن اٹیک کے خلاف جنوبی افریقہ کو اپنی اہلیت ثابت کرنا ہوگی اور بلاشبہ وہ اس کے اہل بھی ہیں۔ ہاشم آملہ، ابراہم ڈی ولیئرز، رچرڈ لیوی، ژاک کیلس اور ژاں پال دومنی جیسے بلے باز دنیا کی کسی بھی باؤلنگ اٹیک کی دھجیاں بکھیر سکتے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان، جس کے بلے بازوں نے حیران کن طور پر ٹورنامنٹ میں بہت عمدہ کارکردگی دکھائی ہے، ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پہلی بار کسی خطرناک باؤلنگ اٹیک کا سامنا کرے گا۔ نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش کے خلاف اس کے بلے باز خوب چلے لیکن اب اصل امتحان دنیا کے بہترین باؤلرز ڈیل اسٹین اور مورنے مورکل کے سامنے ہوگا۔ محمد حفیظ، عمران نذیر، ناصر جمشید اور کامران اکمل کے علاوہ شعیب ملک اور شاہد آفریدی کو بھی بلے بازی میں جان لڑانا ہوگی، اسی صورت میں وہ جنوبی افریقہ کو زیر کر سکتے ہیں۔

پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء کے سپر 8 مرحلے کا مقابلہ مجموعی طور پر تیسرا مقابلہ آج یعنی جمعہ 28 ستمبر کو پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق 3 بجے سہ پہر کولمبو کے پریماداسا اسٹیڈیم میں ہوگا۔

Facebook Comments