اٹکی جاں سوئی کی نوک پر! گل کے چھکوں کی بدولت ناقابل یقین فتح

عمر گل گیند بازی میں بجھے بجھے دکھائی دینے کے بعد اپنے بلے کا جادو جگا گئے اور پاکستان نے ناقابل یقین انداز میں جنوبی افریقہ کو سپر 8 کے پہلے مقابلے میں 2 وکٹوں سے زیر کر لیا۔ اسپن باؤلرز کی عمدہ کارکردگی کی بدولت جنوبی افریقہ کو 133 پر محدود کرنے والے پاکستان کے ابتدائی بلے بازوں نے مضحکہ خیز حد تک بری کارکردگی دکھائی اور منزل سے 58 رنز کے فاصلے پر ہی پاکستان اپنی 7 وکٹوں سے محروم ہو گیا۔

گیند بازی میں بجھے بجھے دکھائی دینے والے عمر گل نے آج بلے کا جادو دکھا دیا (تصویر: Getty Images)

گیند بازی میں بجھے بجھے دکھائی دینے والے عمر گل نے آج بلے کا جادو دکھا دیا (تصویر: Getty Images)

اس موقع پر کریز پر صرف ایک ریگولر بلے باز عمر اکمل کی صورت میں موجود تھا، جنہوں نے عمر گل کی گولہ باری کی بدولت محض 28 گیندوں پر 49 رنز کی میچ کی سب سے بڑی شراکت قائم کی۔ جب عمر گل کریز پر آئے تو پاکستان کو 33 گیندوں پر 58 رنز کی ضرورت تھی اور اس کی صرف تین وکٹیں باقی تھیں۔ اس موقع پر 3 شاندار چھکوں اور دو چوکوں کی مدد سے 17 گیندوں پر 32 رنز بنائے اور پاکستان کو ناقابل یقین فتح کے دہانے پر پہنچا دیا۔ بہرحال، عمر اکمل نے 41 گیندوں پر 43 رنز کی ناقابل شکست و ذمہ دارانہ اننگز بھی حوصلہ افزائی کی اتنی ہی حقدار ہے، جتنی کہ عمر گل کی۔ عمر اکمل نے آخری اوور میں مورنے مورکل کو ایک خوبصورت چھکا بھی لگاکر پاکستان کے لیے معاملہ کو آسان تر بنایا اور پھر سعید اجمل کے چوکے نے پاکستان کا بیڑا پار کر دیا۔

اس طرح سپر 8 مرحلہ گویا ”کمال میچز“ کا آغاز ثابت ہوا ہے۔ گزشتہ روز نیوزی لینڈ-سری لنکا معرکہ سپر اوور تک پہنچا تو شام کو ویسٹ انڈیز-انگلستان میچ سنسنی خیز مقابلے کے بعد محض 15 رنز سے کالی آندھی کے نام رہا۔ آج جب کولمبو کے پریماداسا اسٹیڈیم میں پاکستان اپنا پہلا سپر 8 مقابلہ کھیلنے کے لیے میدان میں چار ریگولر اسپنرز کے ساتھ میدان میں اترا تو حکمت عملی سے صاف ظاہر تھا کہ پاکستان ٹاس جیت کر بیٹنگ کرنے والے جنوبی افریقہ کو اسپن کے جال میں پھنسانا چاہتا ہے ۔ ابتداء میں مواقع گنوانے کے باوجود پاکستان نے دوسرے ہی اوور سے وکٹیں گرانے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اننگز کے پہلے ہی اوور میں رضا حسن کی گیند پر کامران اکمل کے ہاتھوں زندگی لینے والے ہاشم آملہ پھر بھی کوئی بڑی اننگز نہ کھیل پائے اور اگلے اوور میں یاسر عرفات کے ہاتھوں اپنی وکٹ کھو بیٹھے۔ رضا حسن نے اگلا اوور میڈن پھینک کر جنوبی افریقہ پر مزید دباؤ ڈال دیا جو اس وقت اپنا پاور پلے کھیل رہا تھا۔ اگلے دونوں اوورز میں کریز پر موجود جنوبی افریقی بلے باز رچرڈ لیوی اور ژاک کیلس باؤنڈریز سمیٹنے میں ناکام رہے لیکن لیوی کو سعید اجمل کے پہلے اوور میں ریورس سوئپ کرنے کے ”جرم“ کی بھاری سزا بھگتنا پڑی جب وہ 8 رنز بنا کر بولڈ ہو گئے۔

پاکستان کے کپتان محمد حفیظ نے پاور پلے ختم ہونے کے بعد پہلا اوور خود کیا اور اولین گیند پر ژاک کیلس کو آؤٹ کر کے سنسنی پھیلا دی۔ پورے پاور پلے میں محض 28 رنز بنانے کے بعد پروٹیز کے تین اہم ترین کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے۔ اس نازک صورتحال میں ژاں پال دومنی نے 48 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی اور فرحان بہاردین کے ساتھ 38 اور کپتان ابراہم ڈی ولیئرز کے ساتھ 29 گیندوں پر 44 رنز کی شراکت قائم کر کے ایسے مجموعے تک جنوبی افریقہ کو پہنچایا جس کا دفاع کیا جا سکتا تھا۔ دومنی 2 چھکوں اور 2 چوکوں کے ساتھ صر ف38 گیندوں پر 48 رنز بنا کر یاسر عرفات کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔ کپتان ابراہم ڈی ولیئرز نے 25 رنز بنائے اور عمر گل کے پہلے اور اننگز کے مجموعی طور پر 18 ویں اوور کی پہلی گیند پر چھکا لگانے کے بعد اگلی پر کیچ تھما گئے۔ مقررہ 20 اوورز کے اختتام پر جنوبی افریقہ نے، گو کہ میچ سے قبل کی توقعات سے کہیں کم لیکن ابتدائی صورتحال کو دیکھا جائے تو کچھ حوصلہ افزا مجموعہ یعنی 133 رنز اکٹھا کر لیا۔

پاکستان نے نوجوان رضا حسن کو نہ صرف میچ میں موقع دیا بلکہ انہی سے باؤلنگ کا آغاز کروایا جنہوں نے خوبصورت باؤلنگ کرتے ہوئے تین اوورز میں ایک میڈن پھینکا اور محض 12 رنز دیے۔ بدقسمتی سے وہ کوئی وکٹ حاصل نہ کر سکے کیونکہ ان کی گیند پر کامران اکمل نے ہاشم آملہ کو کیچ اور پھر اسٹمپ کرنے کا موقع گنوایا تھا۔ دوسری جانب کپتان محمد حفیظ نے 23 رنز دے کر دو اور یاسر عرفات نے 25 رنز دے کر دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ سعید اجمل اور عمر گل کو ایک، ایک وکٹ ملی۔

وکٹ اور جنوبی افریقہ کے باؤلنگ اٹیک میں عمدہ اسپنر کی عدم موجودگی کو دیکھتے ہوئے 134 رنز کا ہدف نسبتاً آسان دکھائی دیتا تھا لیکن پاکستان نے اپنے پیروں پر خود کلہاڑی ماری۔ جب تیسری اوور کی گیند پر عمران نذیر لیگ پر باہر جاتی ہوئی ایک گیند کو چھیڑنے کی غلطی بھگت کر پویلین لوٹے تو پاکستان کو وہیں پر سنبھل کر کھیلنا چاہیے تھا لیکن جب کپتان ہی غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنائیں تو دوسروں کو کیا کہیے۔ انہوں نے رابن پیٹرسن کو ایک چھکا رسید کرنے کے بعد اگلی گیند پر یہی کارروائی دہرانے کی کوشش کی اور بری طرح ناکام ہوئے۔ وکٹ کیپر بیلز اڑا چکے تھے اور پاکستان صرف 30 رنز پر اپنے دونوں اوپنرز سے محروم ہو گیا۔ عمران نذیر نے 11 گیندوں پر 14 اور محمد حفیظ نے 9 گیندوں پر 15 رنز بنائے۔

اس موقع پر ان فارم ناصر جمشید سے بڑی توقعات وابستہ تھیں کہ وہ کامران اکمل کے ساتھ اننگز کو سنبھالا دیں گے، لیکن وہ پیٹرسن کے اسی اوور کی آخری گیند پر جس طرج بدترین انداز میں آؤٹ ہوئے، اس نے ان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شہرت کو سخت ٹھیس پہنچائی ہے۔ کریز پر آگے بڑھ کر وہ پیٹرسن کی گیند کو بری طرح مس کر بیٹھے اور ایک اور اسٹمپ ڈی ولیئرز کو ملا۔ 31 رنز پر تین وکٹیں گنوانے کے بعد کچھ دیر کے لیے رنز کو ”بریک“ لگ گئے۔ کامران اکمل کچھ دیر تک سنبھلنے کی کوشش ہی کرتے رہے لیکن وکٹیں گرنے کے سلسلے کو روکنا ان کے بس کی بات نہ تھی ۔ وہ یوہان بوتھا کی ایک گیند کو کٹ کرنے کی کوشش میں گلی اڑوا بیٹھے۔ یعنی 37 پر 4!

مایوسی کے اس عالم میں شعیب ملک نے ایک خوبصورت چوکے سے کچھ ہمت بندھائی لیکن وہ آف سائیڈ کی فیلڈ کے درمیان سے شاٹ کھیلنے کی فضول کوشش انہیں مہنگی پڑ گئی اور تھرڈمین پر ڈیل اسٹین نے ایک آسان کیچ تھام کر پاکستان کو زبردست دھچکا پہنچا دیا۔ شاہد آفریدی، جن کے پیچھے پرستاروں کی اک فوج ظفر موج ہے، 2009ء کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سیمی فائنل میں اسی ٹیم کے خلاف اپنی یادگار کارکردگی کو دہرانے کی خواہش لیے میدان میں اترے لیکن ان کی اننگز صرف ایک گیند کی مہمان ثابت ہوئی اور روایتی انداز میں لانگ آف پر کیچ دے کر سر جھکائے پویلین لوٹ آئے۔

اب اس مقام پر کون تصور کر سکتا تھا کہ پاکستان میچ نکال لے گا اور وہ بھی غیر یقینی انداز میں۔ کیونکہ پاکستان یاسر عرفات کی صورت میں اپنی ساتویں وکٹ بھی 76 رنز پر گنوا چکا تھا۔

عمر اکمل نے 43 رنز کی ذمہ دارانہ باری کھیلی (تصویر: ICC)

عمر اکمل نے 43 رنز کی ذمہ دارانہ باری کھیلی (تصویر: ICC)

اب کوئی معجزہ ہی پاکستان کو جتوا سکتا تھا اور وہ معجزہ عمر گل کی صورت میں میدان میں آ موجود ہوا۔ انہوں نے آنے کے کچھ دیر بعد ہی ژاک کیلس کو دو گیندوں پر مسلسل کرارے چھکے رسید کیے۔ پہلی گیند ڈیپ اسکوائر لیگ باؤنڈری کو پار کرتی ہوئی تماشائیوں میں جا گری اور دوسرا شاٹ وائیڈ لانگ آن پر رسی کے پار گرا۔ دونوں شاٹ جس کمال مہارت سے لگائے گئے، اس سے شائبہ بھی نہ ہوتا تھا کہ کوئی باؤلر کھیل رہا ہے۔ عمر اکمل نے ساتھی سے کچھ حوصلہ پایا اور 17 ویں اوور میں پہلی گیند پر البے مورکل کو چوکا لگا کر پاکستان کے لیے اہم ترین اوور کا بہترین آغاز کیا۔ دوسرے اینڈ سے گل نے چوتھی گیند کو ڈیپ مڈ وکٹ پر چھکے اور پانچویں گیند کو بیک وارڈ پوائنٹ پر خوبصورتی سے چوکے کی راہ دکھا دی۔ رنز اور گیندوں کے درمیان فرق بہت تیزی سے نیچے آ گیا۔ پاکستان نے محض دو اوورز میں 36 رنز لوٹ لیے تھے اور اب اسے آخری تین اوورز میں 22 رنز درکار تھے۔

یہاں پر دونوں بلے بازوں کے لیے ضروری تھا کہ وہ وکٹ نہ گرنے دیں ۔ وہ اٹھارہویں اوور میں 7 رنز اور ڈیل اسٹین کے خلاف 19 ویں اوور میں بھی چھ رنز بنانے میں کامیاب رہے۔ لیکن آخری گیند پر عمر گل ایک اور بلند شاٹ کھیلنے کے بعد آؤٹ ہو گئے۔ گیند اتنی زیادہ بلندی اور رفتار حاصل نہ کر سکی، جتنی کہ گل چاہ رہے تھے، اور رابن پیٹرسن کے ہاتھوں میں جا پہنچی۔ جنوبی افریقی کیمپ میں خوشی کے کچھ وقتی آثار دکھائی دیے لیکن عمر گل اطمینان کے ساتھ اور شائقین کی تالیوں کی گونج میں میدان سے لوٹے۔ وہ اپنے حصے کا کام مکمل کر چکے تھے۔ باؤلنگ میں تو انہیں 18 ویں اوور میں گیند تھمائی گئی اور صرف دو اوورز ہی کرا سکے لیکن انہوں نے آج بیٹنگ میں اپنا جادو دکھا ہی ڈالا۔ صرف 17 گیندوں پر تین بلند و بالا چھکوں اور 2 چوکوں کی مدد سے بنائے گئے 32 رنزبلاشبہ شاہکار تھے اور پاکستان کی فتح میں کلیدی بھی۔

آخری اوور میں پاکستان کو 9 رنز کی ضرورت تھی اور پہلی گیند کو ضایع کر بیٹھنے کے بعد عمر اکمل نے مورنے مورکل کی فل ٹاس کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور ڈیپ مڈ وکٹ پر سے ایک زبردست چھکا لگا دیا۔ مقابلہ جنوبی افریقہ کے ہاتھوں سے نکل چکا، جنہوں نے آج پھر ثابت کیاکہ وہ ”چوکرز“ ہیں۔ عمر اکمل نے اگلی گیند پر رن لے کر سعید اجمل کو چوتھی گیند کھیلنے کا موقع دیا جنہوں نے باہر کی گیند کو کیپر کی پہنچ سے دور کھیلتے ہوئے تھرڈ مین باؤنڈری کی راہ دکھا دی اور مقابلہ تمام ہوا۔

عمر اکمل نے 43 رنز ایک چھکے اور 4 چوکوں کی مدد سے بنائے اور ناقابل شکست رہے۔ البتہ میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز شاندار بلے بازی پر عمر گل کو دیا گیا۔

گو کہ پاکستان نے آج سوئی کی نوک پر جان اٹکا کر مقابلہ جیت ہی لیا لیکن سرفہرست بلے بازوں کی بدترین ناکامی اس شعبے میں پاکستان کے عدم تسلسل کو ظاہر کرتی ہے۔ اتوار کو روایتی حریف بھارت کے خلاف سپر 8 کے اہم ترین مقابلے سے قبل ٹیم کے کرتا دھرتاؤں کو سر جوڑ کو بیٹھنا ہوگا اور اس معاملے کو سلجھانا ہوگا۔ بصورت دیگر بھارت کی اسپن مثلث پاکستان کو اتنے مواقع نہیں دے گی جتنے اس کو آج اسپن کے شعبے میں کمزور جنوبی افریقہ کے خلاف مل گئے۔

جنوبی افریقہ کے لیے یہ بہت مشکل وقت ہے کیونکہ اب اسے اگلے دونوں مقابلے آسٹریلیا اور بھارت جیسے کہیں مضبوط حریفوں کے مقابلے میں کھیلنے ہیں اور اس میچ میں ان کی بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں کا ناکام ہو جانا لمحہ فکریہ ہے۔ ساتھ ساتھ کپتان ابراہم ڈی ولیئرز کو اپنی حکمت عملی پر بھی غور کرنا ہوگا۔ اس موقع پر جب اسپن باؤلر حریف بلے بازوں کے لیے پریشانی کا باعث بن رہے تھے یوہان بوتھا اور ژاں پال دومنی سے صرف دو، دو اوورز کروانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ بہرحال، جنوبی افریقہ مضبوط ٹیم ہے اور ٹورنامنٹ میں واپسی کی پوری صلاحیتیں رکھتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اتوار کو آسٹریلیا کے خلاف کیا گل کھلاتا ہے؟

پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء، سپر 8، تیسرا مقابلہ

28 ستمبر 2012ء

بمقام: پریماداسا اسٹیڈیم، کولمبو، سری لنکا

نتیجہ: پاکستان دو وکٹوں سے سے فتح یاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: عمر گل (پاکستان)

جنوبی افریقہ رنز گیندیں چوکے چھکے
رچرڈ لیوی ب سعید اجمل 8 9 1 0
ہاشم آملہ ک شعیب ملک ب یاسر عرفات 6 6 1 0
ژاک کیلس ک آفریدی ب حفیظ 12 18 0 1
ژاں پال دومنی ک کامران اکمل ب یاسر عرفات 48 38 2 2
فرحان بہاردین اسٹمپ کامران اکمل ب محمد حفیظ 18 21 2 0
ابراہم ڈی ولیئرز ک عمران نذیر ب عمر گل 25 18 2 1
البے مورکل ناٹ آؤٹ 9 6 1 0
رابن پیٹرسن ناٹ آؤٹ 3 4 0 0
فاضل رنز ل ب 2، و 2 4
مجموعہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 133

 

پاکستان (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
رضا حسن 3 1 12 0
یاسر عرفات 3 0 25 2
سعید اجمل 4 1 26 1
محمد حفیظ 4 0 23 2
شاہد آفریدی 4 0 26 0
عمر گل 2 0 19 0

 

پاکستانہدف: 134 رنز رنز گیندیں چوکے چھکے
محمد حفیظ اسٹمپ ڈی ولیئرز ب پیٹرسن 15 9 2 1
عمران نذیر ک ڈی ولیئرز ب اسٹین 14 11 3 0
ناصر جمشید اسٹمپ ڈی ولیئرز ب پیٹرسن 0 2 0 0
کامران اکمل ب بوتھا 1 6 0 0
شعیب ملک ک اسٹین ب کیلس 12 26 1 0
عمر اکمل ناٹ آؤٹ 43 41 4 1
شاہد آفریدی ک البے مورکل ب دومنی 0 1 0 0
یاسر عرفات ک دومنی ب اسٹین 3 5 0 0
عمر گل ک پیٹرسن ب اسٹین 32 17 2 3
سعید اجمل ناٹ آؤٹ 4 1 1 0
فاضل رنز ب 2، ل ب 2، و 3، ن ب 1 12
مجموعہ 19.4 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 136

 

جنوبی افریقہ (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
ڈیل اسٹین 4 0 22 3
مورنے مورکل 3.4 0 33 0
رابن پیٹرسن 4 1 15 2
البے مورکل 2 0 26 0
یوہان بوتھا 2 1 10 1
ژاں پال دومنی 2 0 5 1
ژاک کیلس 2 0 17 1

Facebook Comments