انگلستان کی سیمی فائنل کی امیدیں برقرار، نیوزی لینڈ مشکل میں

انگلستان نے نیوزی لینڈ کو شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ پانے کی امیدیں برقرار رکھی ہوئی ہیں جبکہ میزبان سری لنکا کو سپر 8 کے پہلے مقابلے میں ناکوں چنے چبوانے والا نیوزی لینڈ اسٹیون فن کی باؤلنگ اور بعد ازاں لیوک رائٹ کے شاندار 76 رنز کے سامنے بے بس نظر آیا اور اب ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کے قریب ہے۔ انگلستان نے 149 رنز کا ہدف با آسانی 19 ویں اوور میں صرف 4 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کیا۔

لیوک رائٹ نے ٹورنامنٹ میں دوسری بار بلے بازی میں اپنی اہلیت ثابت کی (تصویر: AFP)

لیوک رائٹ نے ٹورنامنٹ میں دوسری بار بلے بازی میں اپنی اہلیت ثابت کی (تصویر: AFP)

پالی کیلے کے میدان میں جہاں انگلستان کو اپنی امیدوں کے چراغ بجھنے سے بچانے کے لیے لازمی فتح درکار تھی، گو کہ اب بھی ان کی سیمی فائنل تک رسائی یقینی نہیں لیکن پیر کو سری لنکا کے خلاف سپر 8 کے آخری مقابلے میں فتح انہیں یقینا مضبوط امیدوار بنا دے گی۔ دوسری جانب نیوزی لینڈ کے "خواب" بھی چکناجور نہیں ہوئے، انہیں پیر کو ویسٹ انڈیز کو بہرصورت شکست دینا ہوگی اور پھر دیگر نتائج کا بھی انتظار کرنا ہوگا۔ بہرحال، سنیچر کو پالی کیلے میں صورتحال کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے انگلش کھلاڑیوں نے جان لڑائی اور میچ کے بیشتر حصے مکمل طور پر حاوی رہے۔ نیوزی لینڈ کے آل راؤنڈر جیمز فرینکلن کی نصف سنچری نے کسی حد تک بلیک کیپس کی اننگز کو ڈھیر ہونے سے بچایا لیکن پھر بھی وہ اسکور بورڈ پر اتنا مجموعہ اکٹھا نہ کر پائے جو انگلستان کو زیر کرنے کے لیے کافی ہوتا۔

اس مقابلے کے ساتھ انگلستان کے لیے سب سے مثبت نکتہ ایون مورگن کا فارم میں مکمل طور پر واپس آ جانا ہے، جنہوں نے آج بھی 31 رنز بنائے اور تیسری وکٹ پر لیوک رائٹ کے ساتھ محض 19 اوورز میں 89 رنز کی فتح گر شراکت قائم کی۔ لیوک رائٹ، جنہوں نے افغانستان کے خلاف گروپ میچ میں 99 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی تھی، ایک مرتبہ پھر اپنے بلے کا جادو دکھا گئے۔ انہوں نے صرف 43 گیندوں پر 5 چھکوں اور اتنے ہی چوکوں کی مدد سے 76 رنز بنائے۔ وہ اس وقت پویلین لوٹے جب انگلستان فتح سے صرف 7 رنز کے فاصلے پر تھا۔ ابتداء میں اپنی اننگز کو جمانے کے بعد انہوں نے خوب بلے چلائے اور ساؤتھی اور نکول کو دو مسلسل اوورز میں 4 چھکے لگائے۔ انیسویں اوور میں جانی بیئرسٹو نے پہلی ہی گیند کھیلتے ہوئے چوکا لگایا اور میچ کو ممکنہ طور پر سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہونے سے روک دیا۔

نیوزی لینڈ کی جانب سے چند باؤلرز نے اچھی کارکردگی دکھائی جیسا کہ کائل ملز نے 4 اوورز میں 23 رنز دے کر ایک وکٹ لی جبکہ ڈینیل ویٹوری نے صرف 20 اور ناتھن میک کولم نے 22 رنز دے کر ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ لیکن ان تینوں کے علاوہ بقیہ باؤلرز بہت مہنگے ثابت ہوئے۔ اسٹرائیک باؤلر ٹم ساؤتھی نے صرف 2 اوورز میں 32 رنز کھائے جبکہ راب نکول کو 3 اوورز میں 29 رنز پڑے۔

حقیقت یہ تھی کہ انگلستان کی مضبوط بیٹنگ لائن اپ، پالی کیلے کی وکٹ اور نیوزی لینڈ کی باؤلنگ قابلیت کو دیکھتے ہوئے 149 رنز ایک اچھا مجموعہ نہیں کہا جا سکتا۔ نیوزی لینڈ، جس نے ٹاس جیت کر بلے بازی کو چنا تھا، ابتدائی اوورز ہی میں دو ان فارم بلے بازوں کے آؤٹ ہونے کے بعد بلیک کیپس وہ "تحریک" حاصل نہ کر پائے، جو اننگز کو تیزی سے آگے بڑھانے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ مارٹن گپٹل دوسرے ہی اوور میں فن کی گیند پر وکٹوں کے سامنے دھر لیے گئے تو اسی گیند باز نے اگلے اوور میں برینڈن میک کولم کی قیمتی ترین وکٹ بھی لوٹ لی۔ پالی کیلے کی وکٹ جو آج اسپنرز کے لیے کچھ مددگار نظر آتی تھی، پر گریم سوان نے نیوزی لینڈ کو "سستانے" کا موقع نہیں دیا اور راب نکول کو ٹھکانے لگا کر ٹاپ آرڈر کا خاتمہ کر دیا۔

اس مقام پر کپتان روز ٹیلر سے ایک قائدانہ اننگز کی امید تھی اور انہوں نے کین ولیم سن کے ساتھ 25 اور پھر فرینکلن کے ساتھ 40 رنز کا اضافہ کر کے اننگز کو مطلوبہ رفتار تک پہنچانے کی کوشش تو ضرور کی لیکن وہ 17 ویں اوور میں عین اس وقت فن کی تیسری وکٹ بن گئے جب نیوزی لینڈ کی کچھ رفتار پکڑی ہی تھی۔ یہاں فن نے دوبارہ واپس آ کر انگلستان کو مطلوبہ وکٹ دلائی۔

نیوزی لینڈ کی باری کے آخری لمحات فرینکلن سے عبارت تھے۔ جنہوں نے عمدہ بیٹنگ کی اور 33 گیندوں پر 2 چھکوں اور 4 چوکوں کی مدد سے 50 رنز بنائے۔ وہ بدقسمت بھی رہے، فن کی ایک گیند کو چوکے کی راہ دکھانے کے بعد انکشاف ہوا کہ گیند پھینکتے ہوئے فن کے پیر نے نان اسٹرائیکر اینڈ پر وکٹوں کو چھو لیا تھا جس سے بیلز گر گئی تھیں۔ یہاں امپائر نے گیند کو ڈیڈ-بال قرار دیا جبکہ آخری اوور میں امپائر نے ایک وائیڈ گیند کے بارے میں موقف اختیار کیا کہ وہ فرینکلن کے پیروں کو چھو کر گئی ہے۔ فرینکلن آخری اوور کی پانچویں گيند پر رن آؤٹ ہوئے۔ آخری لمحات میں 10 گیندوں پر دو چھکوں سے 16 رنز بنانے والے ناتھن میک کولم کے بھرپور ساتھ کی مدد سے 39 رنز کا اضافہ کیا۔ میک کولم نے یہ دونوں چھکے 19 ویں اوور میں اسٹورٹ براڈ کو رسید کیے تھے۔

اسٹیون فن نے صرف 16 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں۔ یہ کسی بھی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی مقابلے میں انگلش باؤلر کی بہترین کارکردگی تھی۔ دوسری جانب اسپنرز نے بھی پچ سے حاصل ہونے والی مدد کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ ان کے علاوہ ڈینی برگس اور گریم سوان کامیاب باؤلر رہے جنہوں نے ایک، ایک وکٹ لی۔

لیوک رائٹ میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

انگلستان بمقابلہ نیوزی لینڈ

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء، سپر 8 مرحلہ، پانچواں مقابلہ

29 ستمبر 2012ء

بمقام: پالی کیلے انٹرنیشنل اسٹیڈیم، کانڈی، سری لنکا

نتیجہ: انگلستان 6 وکٹوں سے فتح یاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: لیوک رائٹ (انگلستان)

نیوزی لینڈ رنز گیندیں چوکے چھکے
مارٹن گپٹل ایل بی ڈبلیو ب فن 5 6 1 0
راب نکول ک بیئرسٹو ب سوان 11 15 1 0
برینڈن میک کولم ک رائٹ ب فن 10 10 2 0
کین ولیم سن ک کیزویٹر ب برگس 17 23 1 0
روز ٹیلر ک ہیلز ب فن 22 23 2 0
جیمز فرینکلن رن آؤٹ 50 33 4 2
ناتھن میک کولم ناٹ آؤٹ 16 10 0 2
ڈوگ بریسویل ناٹ آؤٹ 2 1 0 0
فاضل رنز ب 3، ل ب 7، و 4، ن ب 1 15
مجموعہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 148

 

انگلستان (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
ڈینی برگس 4 0 36 1
اسٹیون فن 4 0 16 3
ٹم بریسنن 4 0 29 0
گریم سوان 4 0 20 1
اسٹورٹ براڈ 4 0 37 0

 

انگلستانہدف: 149 رنز رنز گیندیں چوکے چھکے
کریگ کیزویٹر ب ویٹوری 4 14 0 0
ایلکس ہیلز ب ناتھن میک کولم 22 15 3 0
لیوک رائٹ ک ٹیلر ب بریسویل 76 43 5 5
ایون مورگن ک بریسویل ب ملز 30 31 1 1
جوس بٹلر ناٹ آؤٹ 5 8 0 0
جانی بیئرسٹو ناٹ آؤٹ 5 2 1 0
فاضل رنز ل ب 3، و 4 7
مجموعہ 18.5 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 149

 

نیوزی لینڈ (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
کائل ملز 4 0 23 1
ٹم ساؤتھی 2 0 32 0
ڈینیل ویٹوری 4 0 20 1
ناتھن میک کولم 4 0 22 1
راب نکول 3 0 29 0
جیمز فرینکلن 1 0 12 0
ڈوگ بریسویل 0.5 0 8 1

Facebook Comments