کینیڈا نے کینیا کا بھرم ختم کردیا

عالمی کپ گروپ اے میں شامل مینوز سمجھی جانے والی دو ٹیموں کے مابین مقابلہ کینیڈا کے نام رہا. ماضی میں حیرت انگیز اپ سیٹس کی تاریخ رکھنے والی کینیا کی ٹیم اس بار کسی بڑی ٹیم کو ہرانے تو درکنار اپنے چوتھے میچ میں کینیڈا کی نو آموز اور کم تجربہ رکھنے والی ٹیم سے بھی مات کھا گئی.

میچ کی شروعات ہوئی تو دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ اسٹیڈیم میں بہت کم تماشائی میچ دیکھنے کے لیے موجود تھے. دونوں ٹیموں نے کچھ تبدیلیوں کے ساتھ میدان میں قدم رکھا. کینیا کی ٹیم میں پیٹر انگونڈو کی جگہ تھامس اوڈویو اور شیم کی جگہ جیمز نگوشے کو جگہ دی گئی. جبکہ کینیڈا کی ٹیم نے اسپنرز کے ذریعے کینیا کو قابو کرنے کے لیے پرتھ دیسائی کو ٹیم میں جگہ دی.

اشیش باگائی اور جمی ہنسرا نے 132 رنز کی فیصلہ کن شراکت قائم کی (گیٹی امیجز)

199 رنز کے نسبتاً آسان ہدف کے تعاقب میں کینیڈا کے ابتدائی بلے باز زیادہ مستحکم بنیاد فراہم نہ کرسکے. 19 کے مجموعی اسکور پر رضوان چیمہ (17)، 37 پر زوبن سُرکاری (10) اور 48 پر روندو گانوسکرا (18) رخصت ہوئے تو کینیا کی ٹیم میچ میں واپس آنے کی کوششوں میں کامیاب ہوتی نظر آنے لگی. اس موقع پر کینیڈین کپتان اشیش باگائی اور جمی ہنسرا نے ذمہ دارانہ انداز میں ہدف کا تعاقب شروع کیا. کینیڈا کے دونوں بلے بازوں نے چوتھی وکٹ کی شراکت میں 132 رنز بنائے. اس دوران دونوں کھلاڑیوں نے اپنی شاندار نصف سنچریز مکمل کیں اور ٹیم کی فتح کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا. اس جوڑی کا خاتمہ 43 ویں اوور میں 180 کے مجموعی اسکور پر نیہمیا اودھیامبہ نے جمی ہنسرا (70) کو آؤٹ کر کے کیا. گو کہ یہ کینیا کے لیے بڑی کامیابی تھی لیکن اب تک پانی کینیا کے سر سے گزر چکا تھا. کینیڈا نے مزید ایک وکٹ گنوا کر 46 ویں اوور میں ہدف حاصل کرلیا.

میچ سے قبل ٹاس کینیا کے کپتان جمی کمانڈے نے جیتا اور پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا تاہم کینیڈا کے گیند بازوں نے زبردست گیند بازی کرتے ہوئے جلد ہی کمانڈے کو ان کے فیصلے پر شرمندہ ہونے پر مجبور کردیا. کینیا کو پہلا نقصان صفر کے مجموعی اسکور پر ہوا جب ہنری اوسنڈا نے مورس اوما (0) پویلین چلتا کیا. اوسنڈا نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ اپنے پہلے اسپیل میں مزید دو شکار کیے. اننگ کے 11 ویں اوور میں سیٹ نظر آنے والے بلے باز کولنز اوبویا (31) بھی ہرویر بیدوان پر بولڈ ہوگئے. 15 ویں اوور تک پہنچتے پہنچتے کینیا کے 5 بلے باز آؤٹ ہوچکے تھے جبکہ اس کا مجموعی اسکور صرف 57 رنز تھا.

اس نازک موقع پر کپتان جمی کمانڈے نے تانمے مشرا کے ہمراہ ذمہ دارانہ انداز میں بلے بازی کی اور اسکور کو 109 تک پہنچا دیا. اسپنر بالاجی راؤ کی گیند پر جمی کمانڈے کے کاٹ بی ہائینڈ ہوجانے کے بعد تھامس اوڈویو ساتھی کھلاڑی مشرا کا ساتھ دینے کریز پر پہنچنے. دونوں بلے بازوں نے 57 رنز کی شراکت داری قائم کرتے ہوئے کینیا کی بیٹنگ لائن کو سنبھالا دیا. 166 کے مجموعی اسکور پر مشرا (51) پویلین رخصت ہوئے تو کینیا کی بلے باز ہمت ہار چکے تھے. کینیا کے ٹیل اینڈرز کو جلد پویلین کی راہ دکھانے کے بعد 198 کے مجموعی اسکور پر بیدوان نے ایک خوبصورت گیند پر تھامس اوڈویو (51) اور کینیا کی اننگ کا خاتمہ کردیا.

کینیڈا کی جانب سے ہینری اوسنڈے نے 10 اوور میں 26 رنز کے عوض 4 کھلاڑی آؤٹ کیے. ان کی اس شاندار کارکردگی پر انہیں میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا. بعد ازاں بلے بازی میں جمی ہنسرا کے علاوہ اشیش باگائی نے ذمہ دار کپتان ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے 64 رنز کی اننگ کھیلی. کینیا کی جانب سے بلے بازی میں تانمے مشرا اور تھامس اوڈویو نے نصف سنچریاں اسکور کی تاہم کینیا کا کوئی بھی گیند باز قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکا.

2003ء کے عالمی کپ میں بنگلہ دیش کو شکست دینے کے بعد یہ کینیڈا کی عالمی کپ مقابلوں کی دوسری فتح ہے. اس فتح نے جہاں کینیڈا کو 2 پوائنٹ سے نوازا وہیں کینیا کے اگلے مرحلے تک رسائی کی توقعات کا بھی خاتمہ کردیا. کینیڈا کی ٹیم اگلے مقابلہ میں 13 مارچ کو نیوزی لینڈ کے خلاف میدان میں اترے گی جبکہ کینیا کی ٹیم بھی اسی روز آسٹریلیا کے مدمقابل آئے گی.

میچ کی جھلکیاں

بشکریہ ای ایس پی این

Facebook Comments