قسمت نے یاوری نہ کی، صرف ایک میچ ہار کر باہر ہو گئے: دھونی

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں عمدہ کارکردگی اور صرف ایک مقابلے میں شکست کے باوجود بھارت مایوس کن انداز میں سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو گیا۔ اسے پورے ٹورنامنٹ میں صرف ایک شکست سپر 8 مرحلے میں آسٹریلیا کے ہاتھوں ہوئی اور 9 وکٹوں کی بھاری فتح فیورٹ ہندوستان کے لیےکاری ضرب ثابت ہوئی اور جنوبی افریقہ کے خلاف سپر 8 کے آخری معرکے میں جنوبی افریقہ پر قابو پانے کے باوجود وہ نیٹ رن ریٹ میں روایتی حریف پاکستان سے مات کھا گیا۔ یوں قسمت نے یاوری نہ کی اور بھارتی ٹیم کو وطن کی راہ لینا پڑی۔

ہمیں اس وقت 140 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار سے باؤلنگ کروانے والے گیند بازوں کی سخت ضرورت ہے: کپتان دھونی (تصویر: ICC)

ہمیں اس وقت 140 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار سے باؤلنگ کروانے والے گیند بازوں کی سخت ضرورت ہے: کپتان دھونی (تصویر: ICC)

مہندر سنگھ دھونی نے آسٹریلیا کے خلاف مذکورہ شکست کو ہی اہم ٹورنامنٹ سے قبل از وقت اخراج کا ذمہ دار ٹھہرایا اور مجموعی طور پر ٹیم کی کارکردگی کو اطمینان بخش قرر دیا۔ جنوبی افریقہ کے خلاف مقابلے کے بعد رات گئے پریس کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے دھونی نے کہا کہ اگر ہم ٹورنامنٹ کی بات کریں تو آسٹریلیا کے خلاف شکست نے ہماری پیشرفت کو سخت نقصان پہنچایا۔ اس میچ میں شکست کا مارجن بہت زیادہ تھا اور آج بھی ہم ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنا چاہتے تھے تاکہ ملنے والے ہدف کو 15 سے 16 اوورز میں مکمل کر کے اپنے نیٹ رن ریٹ کو بہتر بنائیں لیکن ایسا ممکن نہ ہو سکا اور ہم ٹاس ہار گئے۔

بھارت نے سپر 8 کے آخری مقابلے میں جنوبی افریقہ کو صرف ایک رن سے شکست دی، حالانکہ انہیں کم از کم 30 رنز کے مارجن سے زیر کرنا تھا، جس میں وہ کامیابی حاصل نہ کر سکا اور یوں ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا۔

سیمی فائنل تک رسائی میں ناکامی کے بعد ٹیم کے چند سینئر کھلاڑیوں سے چھٹکارہ پانے کے حوالے سے سوال پر دھونی کا کہنا تھا کہ یہ سوال شکست کے بعد ہمیشہ کیا جاتا ہے۔ آسٹریلیا اور انگلستان میں ہارنے کے بعد بھی ایسے ہی سوالات اٹھائے گئے لیکن ہمیں حقیقت پسند ہونا چاہیے اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ٹورنامنٹ میں اچھی کارکردگی دکھائی ہےاور صرف ایک میچ میں شکست کھائی۔

دھونی کا کہنا تھا کہ بھارت کو درپیش ایک مسئلہ انتہائی تیز باؤلرز کی عدم موجودگی بھی ہے اور ہمیں اس وقت شدت کے ساتھ 140 کلومیٹر سے زائد کی رفتار سے باؤلنگ کرنے والے باؤلرز درکار ہیں۔

دوسری جانب بھارت میں اک طوفان بپا ہے اور چہار سو سے ٹیم کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھا جائے رہے ہیں۔ ناقدین میں ماضی کے باؤلر چیتن شرما بھی شامل ہیں جنہوں نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے اخراج کا سبب کپتان کھلاڑیوں کے طریقہ انتخاب کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

معروف بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق چیتن شرما کا کہنا تھا کہ ”میرے خیال میں پوری ٹیم کو قصور وار ٹھہرانا غلط ہوگا، دھونی کو ذمہ داری قبول کرنی چاہیے اور بارش پر الزام نہیں دینا چاہیے۔“ وہ دھونی کے اس بیان کو تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے جس میں انہوں نے آسٹریلیا کے خلاف شکست کا سبب بارش کو قرار دیا۔

اس کے علاوہ انہوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف سپر 8 مرحلے کے آخری مقابلے کے لیے ہربھجن سنگھ کو ٹیم میں شامل نہ کرنے کے فیصلے کو آڑے ہاتھوں لیا ۔

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا پہلا سیمی فائنل پاکستان اور میزبان سری لنکا کے درمیان کل یعنی جمعرات کو اور دوسرا سیمی فائنل آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کے درمیان جمعے کو کھیلا جائے گا۔

Facebook Comments