کالی آندھی آسٹریلیا کو روندتے ہوئے فائنل میں

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء کے دوسرے سیمی فائنل میں کرس گیل کی طوفانی اننگز اور کیرون پولارڈ کے بھرپور ساتھ نے ماضی کی کالی آندھی کی یاد دلا دی۔ دونوں بلے بازوں نے آسٹریلیا کے بظاہر مضبوط نظر آنے والے باؤلنگ اٹیک کی دھجیاں بکھیر دیں اور ٹورنامنٹ میں پہلی بار 200 کا ہندسہ عبور کرتے ہوئے 205 رنز بنا ڈالے اور جواب میں آسٹریلیا، جس کا رنگ "اڑنے سے پیشتر ہی زرد" تھا، کو اسپنرز کی مدد سے صرف 131 رنز پر ڈھیر کر کے 74 رنز کی شاندار کامیابی سمیٹی۔

کرس گیل تمام 20 اوورز تک کریز پر موجود رہے اور 41 گیندوں پر 75 رنز بنا کر میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے (تصویر: ICC)

کرس گیل تمام 20 اوورز تک کریز پر موجود رہے اور 41 گیندوں پر 75 رنز بنا کر میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے (تصویر: ICC)

یوں 2004ء میں غیر متوقع طور پر چیمپئنز ٹرافی جیتنے والا ویسٹ انڈیز طویل عرصے بعد کسی عالمی ٹورنامنٹ کے فائنل تک پہنچا ہے جبکہ آسٹریلیا ایک اچھا ٹورنامنٹ کھیلنے کے بعد مسلسل دو بدترین شکستوں کے ساتھ "بہت بے آبرو ہو کر" نکلا۔ ان دونوں مقابلوں میں اس کی اسپن باؤلنگ کے خلاف کمزوری کھل کر سامنے آ گئی۔ پہلے پاکستان نے سپر 8 مرحلے کے آخری مقابلے میں اسے با آسانی زیر کیا اور ویسٹ انڈیز نے سنیل نرائن اور سیموئل بدری کی جوڑی سے اسے قابو کر لیا۔

ٹورنامنٹ کے سب سے بڑے ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا کا آغاز اتنا ہی بھیانک تھا جتنا دنیا کی کسی بھی کمزور ترین ٹیم سے تصور کیا جا سکتا ہے۔ گو کہ آسٹریلیا اس ٹورنامنٹ میں بہت عمدہ کارکردگی دکھا چکا ہے لیکن سیمی فائنل جیسے اہم مقابلے میں اس کا یہ حال تھا کہ آٹھویں اوور تک اس کی چھ وکٹیں صرف 43 رنز پر گر چکی تھیں۔ ڈیوڈ وارنر اور شین واٹسن کی جوڑی، جس کے بل بوتے پر آسٹریلیا نے کئی معرکے سر کیے، پاکستان کے خلاف میچ کی طرح آج بھی بری طرح ناکام ثابت ہوئی۔ سعید اجمل اور رضا حسن کی جگہ آج ان کا مقابلہ سنیل نرائن اور سیموئل بدری سے تھا، جنہیں محمد حفیظ یعنی مارلون سیموئلز کا ساتھ بھی حاصل تھا۔

آسٹریلیا کی بدترین کارکردگی کا آغاز پہلے ہی اوور سے ہوا جب سیموئل بدری کو کٹ کھیلنے کی کوشش میں وارنر کی وکٹ بکھر گئی۔ گو کہ ویسٹ انڈیز کی جانب سے اسٹمپ کی اپیل کی گئی تھی لیکن تیسرے امپائر نے ری پلے دیکھنے کے بعد انہیں بولڈ قرار دیا۔ پہلے ہی اوور میں دھچکا سہنے کے بعد مائیکل ہسی نے پہلے سیموئلز کو ایک اور بعد ازاں بدری کو دو چوکے جڑ کر دباؤ کم کرنے کی کوشش کی لیکن ویسٹ انڈیز نے انہیں سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2010ء میں اپنی معجزانہ کارکردگی سے آسٹریلیا کو فائنل میں پہنچانے والے مائیکل ہسی کی بھی آج ایک نہ چلی اور ان کو سیموئلز نے اپنی ہی گیند پر کیچ کیا۔ ادھر بدری نے وارنر کی طرح واٹسن کو بھی اسی غلطی پر مجبور کیا، اور ویسٹ انڈیز کو قیمتی ترین وکٹ دلوائی۔ پچھلے قدموں پر جا کر کھیلنا آسٹریلیا کو بہت بھاری پڑ گیا اور ٹورنامنٹ میں اس کے دونوں کامیاب ترین بلے باز دہرے ہندسے میں داخل ہوئے بغیر پویلین لوٹ گئے۔

حریف کپتان جارج بیلے کے ہاتھوں سیموئلز کو دو چوکے پڑنے کے بعد ویسٹ انڈین کپتان ڈیرن سیمی گیند باز تبدیل کرتے ہوئے روی رامپال کو لے آئے، جنہوں نے پہلے کیمرون وائٹ اور پھر ڈیوڈ ہسی کو ٹھکانے لگا کر گویا میچ کا فیصلہ ہی کر ڈالا۔ پے در پے ناکامیاں سہنے والے وائٹ باہر جاتی گیند کو فلک کرنے کی غلطی کر بیٹھے اور وکٹ کیپر دنیش رامدین کی کیچ کی اپیل امپائر علیم ڈار کو متاثر کر گئی۔ یوں ایک مرتبہ پھر وائٹ کی اننگز دہرے ہندسے میں داخل ہوئے بغیر ختم ہو گئی۔ آسٹریلیا کو اگلا دھچکا ڈیوڈ ہسی کا لگا، جنہیں گلین میکس ویل کی جگہ آج کے میچ میں کھلایا گیا تھا، لیکن وہ صرف دو گیندوں کے مہمان ثابت ہوئے اور گیند بلے کا اوپری کنارہ لیتی ہوئی سیدھا رامپال کے ہاتھوں میں گئی۔

اننگز کے آٹھویں اوورکے آغاز پر جب آسٹریلیا کا اسکور 43 رنز تھا اور آدھی ٹیم پویلین لوٹ چکی تھی، بلے بازوں کی آخری جوڑی کریز پر موجود تھی، جس کا قیام بھی صرف دو گیندوں کا مہمان ثابت ہوا۔ عرصے سے سنیل نرائن کے خلاف نہ کھیل پانے والے میتھیو ویڈ ایک مرتبہ پھر اپنے پرانے دشمن کا شکار بن گئے۔ 6 وکٹیں گرجانے کے بعد کپتان کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ تیزی سے کھیل کر کسی معجزے کا انتظار کریں۔ انہوں نے یہی کیا۔ وکٹ گرنے کے بعد اگلی ہی گیند کو انہوں نے اسکوائر لیگ باؤنڈری کی راہ دکھائی اور پھر کچھ آرام کے بعد انہوں نے پہلے بدری کو اور پھر رسل کو دو چھکے رسید کیے۔ رسل کے اس اوور میں انہوں نے دو چھکوں کے علاوہ تین چوکے بھی لگائے۔ یوں آندرے اپنے پہلے ہی اوور میں 25 رنز دے بیٹھے۔ گو کہ بیلے کی یہ اننگز کسی حد تک درست تھی لیکن اس سے یہ توقع لگانا کہ یہ آسٹریلیا کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرے گی، عبث تھا۔ بیلے نے 23 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی اور پھر ڈیرن سیمی کو ایک چھکا اور پولارڈ کو ایک چوکا لگانے کے بعد لانگ آن پر کیچ دے بیٹھے۔ ان کی جرات مندانہ اننگز 29 گیندوں پر 63 رنز کے ساتھ تمام ہوئی جبکہ پولارڈ نے اگلی ہی گیند پر پیٹ کمنز کو بھی آؤٹ کر دیا۔

جارج بیلے کی نصف سنچری اننگز "قربت مرگ" میں کچھ کر دکھانے کی کوشش تھی، جو بہرحال ناکام ثابت ہونا تھی (تصویر: ICC)

جارج بیلے کی نصف سنچری اننگز "قربت مرگ" میں کچھ کر دکھانے کی کوشش تھی، جو بہرحال ناکام ثابت ہونا تھی (تصویر: ICC)

آسٹریلوی اننگز کا خاتمہ 17 ویں اوور میں رامپال کے ہاتھوں مچل اسٹارک کی وکٹ گرنے کے ساتھ ہوا اور توقعات کے عین برعکس آسٹریلیا کو انتہائی یکطرفہ مقابلے کے بعد ایک بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ویسٹ انڈیز کی جانب سے روی رامپال نے 16 رنز دے کر 3 جبکہ سیموئل بدری، سنیل نرائن اور کیرون پولارڈ نے دو، دو اور مارلون سیموئلز نے ایک وکٹ حاصل کی۔

قبل ازیں ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا تو ابتدا ہی میں اندازہ ہو گیا کہ کولمبو کی پچ کل کے پاک-لنکا سیمی فائنل کے مقابلے میں بلے بازی کے لیے کہیں بہتر ہے۔ پہلے سیمی فائنل کی پچ تو بلے بازی کے قابل ہی نہ دکھائی دیتی تھی لیکن دھیمی ہونے کے باوجود آج کی پچ کہیں زیادہ بہتر تھی۔ بہرحال، ویسٹ انڈین اننگز کی سب سے خاص بات پورے 20 اوورز تک کرس گیل کا کریز پر موجود رہنا ہے۔ جو پہلے تو کچھ دیر تک دوسرے اینڈ سے چند وکٹیں گرتے دیکھتے رہے اور پھر آسٹریلوی گیند بازوں کے چھکے چھڑا دیے۔

جانسن چارلس صرف 10 رنز بنا کر پویلین لوٹے لیکن ان کے جانے کے بعد مارلون سیموئلز کو خصوصی پیغام دے کر بھیجا گیا کہ انہوں نے گیل پر تیزی سے رنز بنانے کا دباؤ منتقل نہیں ہونے دینا اور یہ ذمہ داری خود اٹھانی ہے۔ کیونکہ اس وقت گیل کجھ جدوجہد کرتے دکھائی دے رہے تھے۔ شین واٹسن کی گیندوں کو میدان سے باہر پھینکنے کی کوشش میں وہ ناکام بھی ہوئے اور ایک مرتبہ ایل بی ڈبلیو ہوتے ہوئے بھی بچے۔ اس صورتحال میں سیموئلز نے برق رفتاری دکھائی۔ انہوں نے پہلے شین واٹسن کو چھکا رسید کر کے ان کے بلند ہوتے حوصلوں کو روکا اور پھر ڈوہرٹی کی دو گیندوں پر قسمت کی وجہ سے آؤٹ ہونے سے بچ گئے اور پھر انہوں نے اس کا بدلہ بدقسمت ڈوہرٹی کو چھکا لگا کر لیا۔ اسی اوور میں گیل نے بھی انہیں ایک چھکا مارا اور بتا دیا کہ ان کا آج برا دن ہے۔

سیموئلز بریڈ ہوگ کو چھکا اور کمنز کو چکا لگانے کے بعد انہی کے ہاتھوں بولڈ ہو گئے۔ انہوں نے 20 گیندوں پر 2 چوکوں اور اتنے ہی چھکوں سے 26 رنز بنائے۔ اب گیل کو محسوس ہوا کہ ذمہ داری انہیں لینا پڑے گی کیونکہ اب کوئی مستقل بلے باز ان کا ساتھ نہیں دینے والا بلکہ انہیں آل راؤنڈرز ہی کا ساتھ ملے گا۔ براوو نے اس موقع پر گیل کا بھرپور ساتھ دیا اور دونوں نے وقتا فوقتا لگائی گئی باؤنڈریز اور حریف گیند بازوں کی فاضل رنز دینے میں فیاضی کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے محض 8 اوورز میں 83 رنز کی شاندار رفاقت قائم کی۔ ان کی اس شراکت داری کا خاتمہ 16 ویں اوور میں کمنز ہی کے ہاتھوں ہوا جو ایک چھکا کھانے کے بعد براوو کو آؤٹ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ براوو 31 گیندوں پر 37 رنز بنا کر میدان سے لوٹے لیکن اس وقت اسکور بورڈ پر 140 رنز کا جگمگاتا ہندسہ ظاہر کر رہا تھا کہ ویسٹ انڈیز اس مقابلے میں برتری حاصل کر چکا ہے۔

اب کریز پر ویسٹ انڈیز کے دو سب سے تباہ کن بلے باز موجود تھے، یعنی کرس گیل کو کیرون پولارڈ کا ساتھ میسر آ گیا۔ پولارڈ پورے ٹورنامنٹ میں اپنے بلے کے کمالات نہیں دکھا سکے تھے اور یہ ان کے پاس بہترین موقع تھا کہ وہ پست حوصلہ آسٹریلوی باؤلرز کو آڑے ہاتھوں لیں اور اس اہم مقابلے میں اپنا حصہ ڈالیں اور انہوں نے ایسا کر دکھایا۔ جب دونوں اینڈ سے آسٹریلیا پر چوکوں اور چھکوں کی بوچھاڑ شروع ہوئی تو ان کے ہاتھ پیر پھول گئے۔ اس دوران اوورز کی ترتیب بھی جارج بیلے سے الٹ گئی اور آخری اوور بدنصیب اسپنر زاویئر ڈوہرٹی کے ہاتھ آیا، جن کی پہلے ہی اچھی خاص درگت بن چکی تھی۔ لیکن آخری اوور میں تو وہ مظلومیت کی علامت بن کر رہ گئے۔

پہلی گیند پر گیل کے ہاتھوں چھکا کھانےکے بعد تیسری گیند پر وہ پولارڈ کے ہتھے چڑھ گئے، جنہوں نے تین مستقل گیندوں کو چھکے کی راہ دکھائی اور آخری گیند بھی میدان سے باہر پھینکنے کی کوشش میں وکٹ دے بیٹھے۔ دونوں بلے بازوں نے صرف چار اوورز میں 65 رنز کا اضافہ کیا اور ٹورنامنٹ میں پہلی بار کسی ٹیم نے 200 کا ہندسہ عبور کیا۔

کرس گیل 41 گیندوں پر 6 چھکوں اور 5 چوکوں کی مدد سے 75 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے جبکہ پولارڈ نے صرف 15 گیندوں پر تین چھکوں اور اتنے ہی چوکوں سے 38 رنز بنائے۔

زاویئر ڈوہرٹی نے ایک وکٹ کے لیے صرف 3 اوورز میں 48 رنز کھائے جبکہ کمنز کے چار اوورز میں 36 رنز پڑے اور انہیں دو وکٹیں ملیں۔ ایک وکٹ مچل اسٹارک نے بھی حاصل کی۔

کرس گیل کو شاندار بلے بازی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

آسٹریلیا اب پاکستان کی طرح وطن واپسی کی راہ لے گا جبکہ ویسٹ انڈیز 7 اکتوبر بروز اتوار کولمبو کے اسی پریماداسا اسٹیڈیم میں میزبان سری لنکا کا سامنا کرے گا جو سپر 8 مرحلے میں مسلسل تین فتوحات سمیٹنے کے بعد پاکستان کو شکست دے کر فائنل تک پہنچا ہے۔

آسٹریلیا بمقابلہ ویسٹ انڈیز

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء، دوسرا سیمی فائنل

5 اکتوبر 2012ء

بمقام: راناسنگھے پریماداسا اسٹیڈیم، کولمبو، سری لنکا

نتیجہ: ویسٹ انڈیز 74 رنز سے فتح یاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: کرس گیل (ویسٹ انڈیز)

ویسٹ انڈیز رنز گیندیں چوکے چھکے
جانسن چارلس ک ویڈ ب اسٹارک 10 13 2 0
کرس گیل ناٹ آؤٹ 75 41 5 6
مارلون سیموئلز ب کمنز 26 20 2 2
ڈیوین براوو ک بیلے ب کمنز 37 31 1 3
کیرون پولارڈ ک وارنر ب ڈوہرٹی 38 15 3 3
فاضل رنز ب 6، ل ب 5، و 8 8
مجموعہ 20 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 205

 

آسٹریلیا (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
مچل اسٹارک 4 0 32 1
شین واٹسن 4 0 35 0
پیٹرک کمنز 4 0 36 2
زاویئر ڈوہرٹی 3 0 48 1
بریڈ ہوگ 3 0 21 0
ڈیوڈ ہسی 2 0 22 0

 

آسٹریلیاہدف: 206 رنز رنز گیندیں چوکے چھکے
ڈیوڈ وارنر ب بدری 1 3 0 0
شین واٹسن ب بدری 7 9 1 0
مائیکل ہسی ک و ب سیموئلز 18 12 3 0
کیمرون وائٹ ک رامدین ب رامپال 5 6 0 0
جارج بیلے ک رسل ب پولارڈ 63 29 6 4
ڈیوڈ ہسی ک و ب رامپال 0 2 0 0
میتھیو ویڈ ک بدری ب نرائن 1 5 0 0
پیٹرک کمنز ک چارلس ب پولارڈ 13 15 1 0
مچل اسٹارک ب رامپال 2 5 0 0
بریڈ ہوگ اسٹمپ رامدین ب نرائن 7 7 0 0
زاویئر ڈوہرٹی ناٹ آؤٹ 9 7 1 0
فاضل رنز ل ب 3، و 2 5
مجموعہ 16.4 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 131

 

ویسٹ انڈیز (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
سیموئل بدری 4 0 27 2
مارلون سیموئلز 3 0 26 1
روی رامپال 3.4 0 16 3
سنیل نرائن 3 0 17 2
آندرے رسل 1 0 25 0
ڈیرن سیمی 1 0 11 0
کیرون پولارڈ 1 0 6 2

Facebook Comments