پاک-لنکا سیمی فائنل کی پچ موزوں نہیں تھی: آئی سی سی

بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء کے پہلے سیمی فائنل میں استعمال ہونے والی پچ کو ناقص قرار دے دیا۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈیو رچرڈسن نے کہا کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ہونے والے سیمی فائنل کی پچ مقابلے کی اہمیت کے پیش نظر اچھی نہیں تھی البتہ انہوں نے دفاع کرتے ہوئے کہا کہ سری لنکا میں موسمی صورتحال کے باعث پچ تیار کرنا ایک مشکل کام ہے۔

بیس اوور تک استعمال شدہ پچ پر پاکستانی نازک بیٹنگ لائن ڈھیر ہو گئی (تصویر: ICC)

بیس اوور تک استعمال شدہ پچ پر پاکستانی نازک بیٹنگ لائن ڈھیر ہو گئی (تصویر: ICC)

اس سے قبل پاکستان کے سابق کپتان وسیم اکرم بھی پریماداسا اسٹیڈیم کی وکٹ کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔

سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کے درمیان فائنل سے قبل سنیچر کو گفتگو کرتے ہوئے رچرڈسن نے کہا کہ "ہمیں یہ امر یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ پچ ایک سے دوسری اننگز کے دوران اپنا رویہ نہ بدلے۔ اور پہلے سیمی فائنل میں استعمال کی گئی پچ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے لیے موزوں نہیں تھی کیونکہ اس میں اسپنرز کے لیے ضرورت سے زیادہ مدد تھی۔

گو کہ وسیم اکرم نے الزام لگایا ہے کہ سری لنکا نے جان بوجھ کر ایسی وکٹ تیار کرنے کی کوشش کی جو ان کے اسپنرز کے لیے مددگار ہو، لیکن رچرڈسن نے اس معاملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالات دونوں ٹیموں کے لیے یکساں تھے، لیکن سری لنکن اسپنرز نے اس کا زیادہ فائدہ اٹھایا۔ اس حوالے سے کیوریٹر سے بھی بات کی گئی جن کا کہنا تھا کہ وکٹ ان کی مرضی سے زیادہ خشک بنی۔ رچرڈسن نے مزید کہا کہ آپ کو تسلیم کرنا ہوگا کہ اس قدر گرم موسم میں وکٹ تیار کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان کھیلا گیا پہلا سیمی فائنل 16 رنز سے میزبان ٹیم کے نام رہا۔ میچ کے دوران سری لنکا کے اسپنرز رنگانا ہیراتھ اور اجنتھا مینڈس پاکستان کی تمام قیمتی وکٹیں سمیٹ گئے جن میں شاہد آفریدی، شعیب ملک، محمد حفیظ اور عمران نذیر شامل تھے۔ وکٹ کی حالت ابتداء ہی سے کافی نازک لگ رہی تھی اور رہی سہی کسر سری لنکا کے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کے فیصلے نے پوری کر دی۔ یوں 20 اوورز تک استعمال شدہ مزید خراب پچ پاکستان کے حصے میں آئی اور اس کی "نازک" بیٹنگ لائن ڈھیر ہو گئی۔

Facebook Comments