پروفیسر صاحب! شائقین کرکٹ دیوانے ضرور ہیں، لیکن احمق نہیں

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچا اور غیر متوقع طور پر اگلے دو سال تک مختصر ترین فارمیٹ کا تاج ویسٹ انڈیز کے سر سجا گیا لیکن کئی بڑی ٹیموں کی طرح پاکستان میں بھی ٹیم کے قبل از وقت اخراج اور اہم مواقع پر بدترین کارکردگی پیش کرنے پر گرما گرم تبصرے اب بھی جاری ہیں۔ انہی ہنگامہ آرائیوں میں پاکستان میں عبد الرزاق کا ایک بیان بھی جاری ہوا اور پھر کپتان محمد حفیظ اور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ ذکا اشرف کے بھی۔ ہوسکتا ہے ہمیں معلوم نہ ہو اسی لیے ’پروفیسر‘ کے نام سے مشہور پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان محمدحفیظ لیکچر کے انداز میں ہمیں سمجھارہے ہیں کہ ’یہ کھیل ہے جس میں ایک ٹیم کامیابی حاصل کرتی ہے اور دوسری ہارتی ہے‘۔ دوسری طرف پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذکا اشرف صاحب فرما رہے ہیں کہ ”ہر کھلاڑی کو اپنی ذاتی کارکردگی کی ذمہ داری لینی ہوگی“۔ ذکا اشرف صاحب اپنے تازہ ترین انٹرویو میں معروف ویب سائٹ کرک انفو کو کہتے ہیں کہ ”ہم نے تمام کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کا کھل کر اظہار کرنے کی پوری آزادی دی ہے، اور ہم ہر کھلاڑی پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ کون کاکردگی دکھا رہا ہے، اور کون باتوں کا تیس مار خان ہے۔“

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کا سفر سیمی فائنل تک پہنچ کر تمام ہوا (تصویر: AFP)

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کا سفر سیمی فائنل تک پہنچ کر تمام ہوا (تصویر: AFP)

محمد حفیظ کو مستقبل کا ایک روزہ اور ٹیسٹ ٹیم کا کپتان بھی مانا جارہا ہے۔ بلاشبہ حفیظ میں قائدانہ صلاحیت موجود ہے، لیکن ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء کے سیمی فائنل میں بدترین ہار اور شاہد آفریدی، کامران اکمل، عمران نذیر، سہیل تنویر اور یاسر عرفات کی انتہائی خراب کارکردگی کے بھونڈے انداز میں دفاع نے ان کے خیر خواہوں کو بھی ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذکا اشرف اپنے انٹرویو میں یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کو تینوں فارمیٹ کی کرکٹ میں دنیا کی نمبرون ٹیم بنائیں گے۔ وہ کہتے ہیں ”مجھےکوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ پاکستان ٹیم تینوں فارمیٹ میں صف اول کی ٹیم نہ بن سکے۔ پاکستان انتہائی باصلاحیت کھلاڑیوں کا ملک ہے۔ لیکن ہمیں صف اول ٹیم بننے کے لیے نہایت سخت محنت کی ضرورت ہے۔“ جناب ذکا اشرف صاحب بالکل صحیح کہہ رہے ہیں کہ صف اول ٹیم بننے کے لیے نہایت سخت محنت کی ضرورت ہے۔ لیکن سخت محنت کے ساتھ دنیائے کھیل کی ہر ٹیم اور کھلاڑی میں ایک قدر مشترک ہوتی ہے کہ وہ نہایت ایمانداری اور خلوص کے ساتھ اپنے ہر مقابلے کے بعد اپنے آپ کو سخت خود احتسابی عمل سے بھی گزارتے ہیں۔ اپنی تمام کمزوریوں اور خامیوں کی نشاندہی کو کھلے ذہن اور دل کے ساتھ قبول کرتے ہوئے ان کو دور کرنے اور نہ دہرانے کا عہد کرتے ہیں۔

لیکن پی سی بی کے چیئرمین صاحب کے منتخب کردہ ٹی ٹوئنٹی کے کپتان محمد حفیظ کے ارشادات سنیں تو ایسا لگتا ہے وہ خود فریبی میں مبتلا ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’صرف سیمی فائنل میں بیٹنگ ناکام ہوئی ہے‘۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ’مجموعی طور پر ٹیم کی کارکردگی اچھی رہی‘، اورحیران و پریشان کرنے والا بیان کہ ’شاہد آفریدی ان کے فتح گر کھلاڑی ہیں، اور اس ٹورنامنٹ میں کامران اکمل کی کارکردگی اچھی رہی‘۔ ان کے پہلے بیان کا جواب تو یہ ہے کہ مجموعی طور پر ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء میں پاکستان کی بیٹنگ تین مواقع پر ناکام ہوئی ہے۔ جن میں سپر 8 مرحلے میں جنوبی افریقہ اور بھارت کے خلاف، اور پھر اہم ترین میچ سیمی فائنل میں۔ جہاں تک انفرادی کارکردگی کا تعلق ہے آئیے محمد حفیظ کے دعووں کا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان ٹیم کی انفرادی کارکردگی کو اعداد وشمار کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں۔

سب سے پہلے بلے بازوں کو دیکھتے ہیں:

عمر اکمل 6 میچز، 5 اننگز میں 65.50 کی اوسط سے تین بار ناٹ آؤٹ رہتے ہوئے 125 رنز۔ جس میں 43 رنز ناٹ آؤٹ ان کی سب سے بڑی انفرادی اننگز ہے۔ عمر اکمل تین بار ناٹ آؤٹ رہے، اس وجہ سے ان کا اوسط بہتر دکھائی دے رہا ہے۔

ناصرجمشید 6 میچز، 6 اننگز میں 29.50 کی اوسط سے ایک بار ناٹ آؤٹ رہتے ہوئے 148 رنز۔ جس میں دو نصف سنچریاں شامل اور 56 رنز بہترین انفرادی اننگز رہی۔ آسٹریلیا کے خلاف اگر ناصر جمشید کے 56 رنز ان کے ٹورنامنٹ کے مجموعے سے نکال دیں تو ان کا ٹورنامنٹ کا مجموعہ 18.40 کی اوسط سے محض 92 رنز بنتا ہے۔

خود محمدحفیظ نے 6 میچز، 6 اننگز میں 27.33 کی اوسط سے 167 رنز بنائے ہیں۔ جس میں 45 رنز ان کی بہترین باری ہے۔

عمران نذیر نے 6 میچز، 6 اننگز میں 25.50 کی اوسط سے 153 رنز بنائے۔ جس میں بنگلہ دیش کے خلاف واحد نصف سنچری ان کی بہترین اننگز تھی۔ بنگلہ دیش جیسی ٹیم کے خلاف اگر عمران نذیر کے یہ 72 رنز ان کے ٹورنامنٹ کے مجموعے سے نکال دیں تو انتہائی شرمناک 16.20 کی اوسط سے محض 81 رنز بنتا ہے۔

شعیب ملک 6 میچز، 5 اننگز میں 19.66 کی اوسط سے 59 رنز، 28 رنز بہترین انفرادی اننگز۔

کامران اکمل 6 میچز، 6 اننگز میں 12.80 کے بدترین اوسط سے 64 رنز۔ زیادہ سے زیادہ 32 رنز بنائے۔

اور پھر شاہد آفریدی 6 میچز، 5 اننگز میں صرف اور صرف 6.00 کے اوسط سے 30 رنز۔ جس میں ان کی سب سے بڑی انفرادی اننگز 14 رنز رہی۔

اب کچھ گیند بازوں کی کارکردگی پر نظر:

رضا حسن 4 میچز میں 15 اوورز میں 74 رنز دے کر، 24.66 کے بہترین اوسط سے 3 وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے فی اوور متاثر کن طور پر صرف 4.93 رنز دیے۔

محمد حفیظ نے 6 میچز میں 18 اوورز کرائے اور 107 رنز دے کر 21.40 کے اوسط سے 5 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کا ہر اکنامی ریٹ 5.94 رنز فی اوور رہا۔

سعید اجمل نے 6 مقابلوں میں 24 اوورز میں 163 رنز دے کر 18.11 کے بہترین اوسط سے 9 وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے فی اوور 6.79 رنز دیے۔

شاہدآفریدی 6 میچز میں 24 اوورز میں 171 رنز دے کر 42.75 کے انتہائی خراب اوسط سے محض 4 وکٹیں حاصل کر پائے جبکہ ان کا فی اوورز رنز دینے کا تناسب بھی 7.12 رنز رہا۔

سہیل تنویر 3 مقابلوں میں 9 اوورز میں 69 رنز دے کر محض 2 وکٹیں حاصل کر پائے۔ ان کا اوسط 34.50 اور اکنامی ریٹ 7.66 رنز رہا۔ یہاں قابل ذکر ہے کہ سہیل تنویر نے سیمی فائنل میں بہترین گیندبازی کا مظاہرہ کیا تھا، لیکن بدقسمتی سے انہیں وکٹ نہ مل سکی۔

یاسر عرفات 4 مقابلوں میں 8 اوورز اور 73 رنز دے کر 14.50 کے اوسط سے 5 وکٹیں۔ ان کا ہر اوور کا اکنامی ریٹ بہت بھاری یعنی 9.12 رنز رہا۔

اب اسٹرائیک باؤلر عمرگل، جنہوں نے 6 میچز کھیلےاور 17 اوورز میں 168 رنز دے کر 56.00 کے بدترین اوسط سے صرف اور صرف 3 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کے ہر اوور میں حریف بلے بازوں نے اوسطا 9.88 رنز لوٹے۔

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے پاکستان کے اخراج کا ذمہ دار کون؟


Loading ... Loading ...

ان اعداد شمار سے ریاضی کی معمولی سمجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی اندازہ لگا سکتا ہے پاکستان ٹیم کے اہم ترین اور تجربہ کارکھلاڑیوں کی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء میں انفرادی کارکردگی کسی بھی پیمانے سے قابل اطمینان نہیں تھی۔ ان کا سیمی فائنل میں پنہنچنا قسمت اور اسپنرز کی تن تنہا شاندار کاکردگی کی بدولت ممکن ہوا۔

یہاں میرا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ کپتان محمد حفیظ کو کھلم کھلا اپنے سینئر کھلاڑیوں پر سخت تنقید کرنی چاہیے، اور انہیں آڑے ہاتھوں لینا چاہیے۔ نہیں ایسا نہیں ہے، ایک اچھے قائد میں یہ خوبی ہونی چاہیے کہ وہ مشکل وقت میں اپنی ٹیم کا بہتر انداز میں دفاع کرسکے۔ لیکن ٹیم کی خراب کارکردگی کا اس انداز میں دفاع کرنا کہ جس سے محسوس ہو کہ کپتان اور پوری ٹیم کو اس بات کا احساس ہی نہیں کہ شائقین کرکٹ کو ان کی خراب کارکردگی سے کس قدر مایوسی ہوئی ہے، دراصل بدترین کارکردگی کے بعد ڈھٹائی کا مظاہرہ ہے۔ اس کے برعکس محمدحفیظ اپنی ٹیم کا دفاع انتہائی بھونڈے انداز میں کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں جیسے شائقین کرکٹ احمق ہیں۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے پرستار اپنی ٹیم کے دیوانے ضرور ہوسکتے ہیں، لیکن احمق نہیں ہیں۔۔۔!!

Facebook Comments