ویسٹ انڈیز اب نمبر ون کو اپنا ہدف بنا لے: کلائیو لائیڈ

ویسٹ انڈیز کے سابق کپتان اور دو مرتبہ کے عالمی کپ فاتح کلائیو لائیڈ نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء جیتنے والے ویسٹ انڈین دستے سے کہا ہے کہ اب اس کی نظریں "اگلی منزل" پر ہونی چاہئیں اور وہ ہے ایک روزہ کرکٹ میں نمبر ایک پوزیشن حاصل کرنا۔ ڈیلی نیوز اینڈ اینالسس سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی جیت ثابت کرتی ہے کہ ویسٹ انڈیز میں اچھی ون ڈے ٹیم بننے کی صلاحیت موجود ہے اور یہ صرف ایک آغاز، اور وہ تحریک ہے جو طویل طرز کی کرکٹ میں آگے بڑھنے کے لیے ہمیں درکار تھی۔"

1975ء اور 1979ء میں عالمی کپ اپنے ہاتھوں میں اٹھانے والے لیجنڈری کھلاڑی نے کہا کہ انہیں پوری توقع تھی کہ ٹیم سری لنکن سرزمین پر عمدہ کارکردگی دکھائے گی، کیونکہ اس میں جارح مزاج بلے باز اور مناسب باؤلرز موجود تھے جو بالکل اسی طرز پر طویل طرز میں بھی ایسی ہی کارکردگی دہرا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "دنیا کے 15 بڑے ہٹرز میں سے چھ کا تعلق ہماری ٹیم سے ہے۔ یہ سب نادر روزگار کھلاڑی ہیں۔ یہی چیز انہیں میدان میں تحریک بخشتی ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ وہ وہاں جا کر حریف پر غالب آ سکتے ہیں۔ بس یہی سوچ انہیں طویل طرز کے مقابلوں میں بھی اختیار کرنا پڑے گی۔ کرس گیل کے علاوہ مارلون سیموئلز ہیں جو ٹیسٹ اور ایک روزہ دونوں میں اعتماد حاصل کرتے جا رہے ہیں۔ ہمارے پاس دو تین اچھے اسپنرز بھی ہیں اور تیز گیند بازی کا شعبہ بھی مناسب ہے۔ اس لیے ہم ایک متوازن ٹیم بننے کے بہت قریب ہیں۔ "

لائیڈ نے مزید کہا کہ ٹیم کو مختلف طرز کی کرکٹ کے لیے اپنے کھلاڑیوں کو پہچاننے کی ضرورت ہے۔ "کیرون پولارڈ جیسا کھلاڑی بالکل وہی کام کر سکتا ہے جو اینڈریو سائمنڈز نے آسٹریلیا کے لیے کیا۔" سنیل نرائن اور سیموئل بدری کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس کم از کم دو اسپن گیند باز ایسے ہیں جو حریف بلے بازوں کو پریشان کر سکتے ہیں۔ پھر طویل طرز میں ہم معلوم ہے کہ وہ کتنے اچھے ہیں۔ ایک روزہ مقابلے میں میرے خیال میں بہت زیادہ بلے باز نہیں ہیں جو ان کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اپنائیں اور کامیاب بھی رہیں۔"

یہ 2004ء کی چیمپئنز ٹرافی کے بعد ویسٹ انڈیز کا پہلا بڑا بین الاقوامی اعزاز ہے، لیکن لائیڈ سمجھتے ہیں کہ موجودہ ٹیم 2004ء والے دستے سے زیادہ مضبوط ہے اور ٹیم میں موجودہ اتحاد کا سہرا انہوں نے کپتان ڈیرن سیمی کے سر باندھا۔

فی الحال ویسٹ انڈیز کا پہلا امتحان تو بہت سخت نہیں ہے کیونکہ وہ اگلے ماہ دو ٹیسٹ میچز کے لیے بنگلہ دیش جارہا ہے لیکن اگلے سال کے اوائل میں دورۂ آسٹریلیا اس کے لیے ایک کڑی آزمائش ہوگا۔ اس دورے میں وہ پانچ ایک روزہ اور ایک ٹی ٹوئنٹی مقابلہ کھیلے گا۔

Facebook Comments