تنازعات ختم، کیون پیٹرسن دورۂ بھارت کے لیے ٹیم میں شامل

تنازع در تنازع میں ملوث ہونے کے بعد بالآخر کیون پیٹرسن نے قومی دستے میں دوبارہ مقام حاصل کر لیا ہے اور انہیں دورۂ بھارت کے لیے اعلان کردہ ٹیم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

معاملات کے خوش اسلوبی کے ساتھ طے پا جانے کے بعد "کے پی" کے چہرے کی مسکراہٹ لوٹ آئی ہوگی (تصویر: PA Photos)

معاملات کے خوش اسلوبی کے ساتھ طے پا جانے کے بعد "کے پی" کے چہرے کی مسکراہٹ لوٹ آئی ہوگی (تصویر: PA Photos)

سابق کپتان اینڈریو اسٹراس کی ریٹائرمنٹ اور خود کیون پیٹرسن کی جانب سے بذریعہ موبائل پیغامات معاملے پر غیر مشروط معافی کی وڈیو اور پھر ٹوئٹر کھاتے کے تنازع میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کے بعد آہستہ آہستہ معاملات پیٹرسن کے حق میں جاتے دکھائی دے رہے تھے اور گزشتہ روز آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2013ء کی تقریب رونمائی کے موقع پر نئے کپتان ایلسٹر کک کے بیانات سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ اب کیون پیٹرسن کی واپسی چند لمحوں کی بات لگتی ہے۔

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کی جانب سے کرک نامہ کو موصول ہونے والے اعلامیہ کے مطابق یہ فیصلہ کیون پیٹرسن کی کوچ اینڈی فلاور، کپتان ایلسٹر کک، انگلستان کے قومی دستے کے چند سینئر کھلاڑیوں اور انتظامیہ کے اراکین کے ساتھ رواں ہفتے آکسفرڈ میں ملاقات کے بعد کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے ای سی بی کے مینیجنگ ڈائریکٹر ہو مورس نے کہا کہ ”ہم خواہاں تھے کہ ٹیم کی متحدہ عرب امارات اور اگلے ہفتے وہاں سے بھارت روانگی سے قبل کیون انتظامیہ اور کھلاڑیوں سے بالمشافہ چند ملاقاتیں کر لیں۔ یہ ملاقاتیں بہت تعمیری ثابت ہوئی اور تمام تصفیہ طلب مسائل حل ہو گئے۔ انگلستان کے تمام کھلاڑیوں اور انتظامیہ نے اس معاملے کو ختم کرنے اور اپنی تمام تر توجہ بھارت کے خلاف سیریز پر مرکوز کرنے کی خواہش ظاہر کی۔“

قومی سلیکٹر جیوف ملر نے کہا کہ ”اس اہم ترین ٹیسٹ سیریز کے لیے کیون پیٹرسن جیسے آزمودہ بین الاقوامی سطح کے کھلاڑی کو دوبارہ خوش آمدید کہنے پر ہمیں خوشی ہے۔ ٹیم کے تمام کھلاڑی اگلے ہفتے پروگرام کے عین مطابق بھارت روانہ ہوں گے جبکہ کیون پیٹرسن جنوبی افریقہ میں جاری چیمپئنز لیگ ٹی ٹوئنٹی میں اپنے میچز کھیلنے کے بعد ان کا ساتھ دینے کے لیے بھارت پہنچیں گے۔“

کیون پیٹرسن چند ماہ قبل جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران اک زبردست تنازع کا شکار ہو گئے تھے کیونکہ حریف جنوبی افریقی کھلاڑیوں کے ساتھ ان کے ایسے موبائل پیغامات پکڑے گئے تھے جن میں اُس وقت کے کپتان اینڈریو اسٹراس اور کوچ اینڈی فلاور کے بارے میں اہانت آمیز الفاظ استعمال کیے گئے تھے۔ یہ قضیہ سامنے آتے ہی انہیں نہ صرف سیریز کے درمیان سے باہر ہونا پڑا بلکہ ان کا مرکزی معاہدہ تک منسوخ کر دیا گیا۔ جنوبی افریقہ کے خلاف اس اہم سیریز کے علاوہ کیون پیٹرسن کو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی اعزاز کے دفاع کے لیے بھیجے گئے دستے میں بھی شامل نہیں کیا گیا اور بھارت کے اہم ترین دورے کے لیے ابتدائی دستے میں بھی جگہ نہیں دی گئی۔ اب حیران کن طور پر اچانک انہیں بھارت کے لیے طلب کیا گیا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انگلستان نے اس سیریز کی اہمیت کو جانا ہے اور وہ فتح ہند جیسی مشکل مہم کے لیے اپنے دستے میں کیون پیٹرسن جیسے تجربہ کار کھلاڑی کو موجود دیکھنا چاہتا ہے۔

یوں پے در پے کامیابیاں سمیٹنے کے بعد ٹیسٹ، ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی میں سرفہرست مقامات حاصل کرنے والا انگلستان اک حوصلہ شکن جنگ سے باہر آ گیا ہے، جو بہرحال سرد جنگ نہیں تھی، اس کے دوران تمام حریفوں کی جانب سے بہت سخت بیانات سامنے آئے۔ خود کیون پیٹرسن کی جانب سے بھی، کوچ اینڈی فلاور اور کپتان اینڈریو اسٹراس کی طرف سے حتیٰ کہ ایلسٹر کک اور ٹیم کے چند سینئر اراکین کی سمت سے بھی۔ بہرحال، بحیثیت مجموعی اس تنازع کا نقصان بھی انگلستان کو خوب بھگتنا پڑا۔ پہلے جنوبی افریقہ کے خلاف اسے نہ صرف سیریزبلکہ درجہ بندی میں اپنی سرفہرست پوزیشنوں سے بھی محروم ہونا پڑا پھر سری لنکن سرزمین پر وہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی اعزاز کے دفاع میں بھی بری طرح ناکام رہا۔

بھارت اور انگلستان کے درمیان طویل سیریز کا آغاز اگلے ماہ یعنی نومبر میں ہوگا جس کے دوران چار ٹیسٹ، پانچ ایک روزہ اور دو ٹی ٹوئنٹی مقابلے کھیلے جائیں گے۔

اس تنازع کی تمام خبریں اس لنک پر ملاحظہ کیجیے، جو دراصل کیون پیٹرسن سے متعلقہ خبروں کا لنک ہے۔

Facebook Comments