پی سی بی کو ’اصل کام‘ پر توجہ کی ضرورت!!

پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں ”غیر سرکاری طور پر“ دو مقابلوں کا انعقاد کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ وطنِ عزیز بین الاقوامی کرکٹ کے انعقاد کے لیے ایک محفوظ ملک ہے۔ اختتامِ ہفتہ پر نجی انتظامات کے تحت ہونے والے ان دو مقابلوں میں پاکستان اسٹارز الیون نامی مقامی کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم کا مقابلہ انٹرنیشنل ورلڈ الیون سے تھا جس کی قیادت سری لنکا کے سابق کھلاڑی سنتھ جے سوریا کے ہاتھ میں تھی۔ ٹیم میں ماضی قریب و بعید کے متعدد ’نیم مشہور‘ کھلاڑی شامل تھے جن میں جنوبی افریقہ کے آندرے نیل اور نینتی ہیوارڈ کے علاوہ ویسٹ انڈیز کے ریکارڈو پاول قابل ذکر ہیں۔ مختصر یہ کہ انٹرنیشنل ورلڈ الیون زیادہ تر ایسے کھلاڑیوں پر مشتمل تھی جن کی بین الاقوامی سطح پر فی الوقت کوئی آواز و حیثیت نہیں ہے بلکہ سوائے افغانستان کے دو کھلاڑیوں کے کوئی بھی ایسا نہیں تھا جو اِس وقت بین الاقوامی کرکٹ سے براہ راست منسلک ہو۔

ان مقابلوں میں شریک بیشتر بین الاقوامی کھلاڑی ایسے ہیں جن کی اِس وقت بین الاقوامی کرکٹ میں کوئی آواز و حیثیت نہیں (تصویر: AFP)

ان مقابلوں میں شریک بیشتر بین الاقوامی کھلاڑی ایسے ہیں جن کی اِس وقت بین الاقوامی کرکٹ میں کوئی آواز و حیثیت نہیں (تصویر: AFP)

پاکستان کرکٹ بورڈ ماضیِ قریب میں صوبائی وزیر کھیل سندھ ڈاکٹر محمد علی شاہ کی اسی طرز کا مقابلہ کروانے کی خواہش کو ٹھکرا چکا ہے لیکن اس مرتبہ بورڈ نے نہ صرف اپنے کھلاڑیوں کو کھیلنے اور نیشنل اسٹیڈیم کراچی کے استعمال کی اجازت دی بلکہ دوسرے مقابلے میں چیئرمین ذکا اشرف کی شرکت نے ان مقابلوں کو ”کچھ حیثیت“ بھی دے دی۔

بہرحال، یہ امر تو طے شدہ ہے کہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کو واپس لانے کے لیے یہ مقابلے کوئی ٹھوس قدم نہیں تھے ، اور نہ ہی ان مقابلوں کو اس سمت میں کوئی بڑی پیشرفت سمجھا جا سکتا ہے۔اس لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کو ایسی کوششوں پر تکیہ کرنے اور ذاتی شہرت کے لیے کی جانے والی کوششوں کی حوصلہ افزائی کے بجائے ’اصل کام‘ پر توجہ رکھنی چاہیے۔ اور وہ اصل کام کیا ہے؟ وہ ہے عالمی معیار کے حفاظتی انتظامات اور اس حوالے سے بین الاقوامی کرکٹ کونسل کو اعتماد میں لینا۔

رواں سال بنگلہ دیش کے مجوزہ دورۂ پاکستان کے حوالے سے بھی دور اندیش تجزیہ کاروں کا یہی کہنا تھا کہ معاملہ پچھلے دروازے سے حل کرنے کے بجائے براہ راست بین الاقوامی کرکٹ کونسل کو درمیان میں ڈالا جائے کہ وہ پاکستان میں سیکورٹی صورتحال کا اپنے تئیں جائزہ لے کر بنگلہ دیش کو دورہ کرنے یا نہ کرنے کا حکم دے۔ لیکن پاکستان نے درونِ خانہ معاملات طے کر کے کچھ نہ پایا۔ بنگلہ دیش تو پاکستانی حمایت کے نتیجے میں آئی سی سی کی نائب صدارت حاصل کر کے فائدے میں رہا ہی لیکن پاکستان بنگلہ دیشی عدالت عظمیٰ کے حکم نامے کے باعث ہاتھ ملتا رہ گیا۔

گو کہ پاکستان میں امن و امان کی بگڑتی و سنورتی صورتحال پاکستان کرکٹ بورڈ کے ہاتھ میں نہیں ، لیکن کم از کم جہاں حالات میں بہتری نظر آئے وہاں اپنے تئیں سیکورٹی کے اعلیٰ ترین انتظامات کے ذریعے بین الاقوامی کرکٹ کونسل اور اس کے اراکین کو مطمئن تو کیا جا سکتا ہے۔ 2009ء میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ کیا تھا؟ سیکورٹی کی سراسر ناکامی، ذمہ دار اداروں اور اہلکاروں کی صریح غفلت اور اعلیٰ سطح پر الزام ایک دوسرے کے سر تھوپنے کی روش! بس اس رویے کو درست کرتے ہوئے زمینی حقائق کے پیش نظر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ پھر یہ بھی ذہن میں رکھا جائے کہ ابتدائی قدم کے لیے تو بنگلہ دیش، زمبابوے اور افغانستان جیسے ممالک درست ہیں لیکن ان میں سے کسی ایک کے ممکنہ دورے سے بھی دنیائے کرکٹ میں پاکستان کی ساکھ مکمل طور پر بحال ہونے کا امکان نہیں۔

اس حوالے سے خود پاکستان کرکٹ بورڈ میں ماضی کی مثالیں موجود ہیں۔ نائن الیون کے بعد افغانستان پر امریکی حملہ اور پاکستان میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باوجود بین الاقوامی کرکٹ ٹیموں نے پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑا۔ یہاں تک کہ 2002ء میں نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی قیام گاہ کے سامنے زبردست بم دھماکہ بھی ہو گیا اور بڑی تعداد میں جانیں بھی ضایع ہوئیں لیکن پاکستان کرکٹ اس صدمے سے بھی باہر نکل آئی۔ 2003ء میں بنگلہ دیش کے دورۂ پاکستان سے ایک مرتبہ پھر سلسلہ جڑا اور پھر اُسی سال اکتوبر میں جنوبی افریقہ ، مارچ –اپریل 2004ء میں بھارت اور اکتوبر میں سری لنکا جیسی بہترین ٹیموں کی آمد نے ہی ثابت کیا کہ پاکستان اب مکمل طور پر محفوظ ملک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2005ء کے اواخر میں انگلستان پاکستان کا دورہ کرنے پر آمادہ ہوا۔ پھر 2006ء کے اوائل میں بھارت اور 2007ء میں جنوبی افریقہ نے ایک مرتبہ پھر پاکستان میں کھیلا تو دنیائے کرکٹ کے ذہنوں سے گویا یہ محو ہی ہو گیا کہ پاکستان بھی کوئی غیر محفوظ ملک ہو سکتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اظہار 2008ء کے اوسط میں ایشیا کپ جیسے ٹورنامنٹ کے انعقاد سے ہوا جب پاکستان اور اس کے تمام ایشیائی حریف کراچی میں جمع ہوئے اور یہاں ایک یادگار ٹورنامنٹ کھیلا گیا۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خرابی کے مکمل ذمہ دار دراصل حالات نہیں بلکہ انتظامی معاملات بھی ہیں، ورنہ نیوزی لینڈ کے ساتھ 2002ء میں پیش آنے والے واقعے کے بعد انگلستان، بھارت اور جنوبی افریقہ جیسی ٹیمیں کبھی پاکستان کا رخ نہ کرتیں۔

دوسری اہم چیز کہ چاہے کتنی کمزور ٹیم کے ساتھ سیریز ہو، اسے مکمل دورہ ہونا چاہیے۔ جس طرح 2003ء میں جب پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ ایک سال کے عرصے کے بعد واپس آئی تو وہ بنگلہ دیش کا مکمل دورۂ پاکستان تھا۔ کیونکہ ایک مکمل سیریز ہی انتظامی قوت اور ان کی مستقل مزاجی کے اندازے کے لیے کافی ہوگی، محدود اوورز کے ایک دو مقابلے کبھی بھی مقاصد کی تکمیل کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔

اگر پاکستان اگلے سال کے اوائل میں زمبابوے یا بنگلہ دیش کو دورے پر رضامند کرنے میں کامیاب ہو گیا تو یہ منزل کی سمت پہلا قدم شمار ہوگا اور اگر سری لنکا راضی ہو جاتا ہے تو بلاشبہ بہت بڑی جست ہوگی۔

Facebook Comments