بھارت کی کوارٹر فائنل تک رسائی؛ نیدرلینڈز کا پتہ صاف

بھارت اور نیدرلینڈز کے مابین عالمی کپ کا 25 واں میچ میزبان ٹیم کے نام رہا. بھارت نے گزشتہ میچ میں آئرلینڈ کے خلاف سامنے آنے والی کمزوریوں کا ازالہ کرنے کی بھرپور کوشش کی. گیند بازی میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیدرلینڈز کی ٹیم کو جلد رخصت کردیا تاہم بلے بازی میں اچھے آغاز کے باوجود ایک بار پھر لڑکھڑاہٹ نظر آئی.

190 رنز کے آسان نظر آنے والے ہدف کے تعاقب میں بھارتی اوپنرز وریندر سہواگ اور سچن ٹنڈولکر نے پر اعتماد آغاز کیا. سہواگ نے اننگ کی پہلی گیند پر چوکا رسید کر کے اپنے خطرناک عزائم کا اظہار کیا تو دوسری جانب ٹنڈولکر نے بھی میدان کے چاروں جانب خوبصورت اسٹروکس کھیلے. دونوں بلے بازوں کی برق رفتاری کے باعث بھارت نے اپنے 50 رنز صرف 37 گیندوں پر مکمل کیے. اگلے اوور میں سہواگ (39) نے پیٹر سیلار کی ابتدائی دو گیندوں پر چھکا اور چوکا رسید کیا مگر تیسری ہی گیند پر پوائنٹ پر موجود الیکسے کرویزی کو کیچ دے بیٹھے. 69 کے مجموعی اسکور پر بھارت کو پہنچنے والے نقصان نے پیٹر سیلار کے حوصلہ کو جلا بخشی اور سیلار نے اگلے ہی اوور میں ٹنڈولکر (27) اور یوسف پٹھان (11) کو پویلین کا رستہ دکھا کر میدان میں ہل چل مچا دی.

بھارت کے لیے فتح گر اننگ کھیلنے والے یووراج سنگھ کا ایک انداز (گیٹی امیجز)

14 ویں اوور میں پیٹر بورن بھی حرکت میں آئے اور ویرات کوہلی (12) کی آف اسمپٹ اکھاڑ پھینکی. 99 کے مجموعی اسکور پر 4 وکٹ گنوانے کے بعد یووراج سنگھ اور گوتھم گھمبیر نے اننگ کو سنبھالا اور مجموعی اسکور کو 139 تک لے گئے. 23 ویں اوور میں مدثر بخاری نے اس شراکت کا خاتمہ گھمبیر (28) کو بولڈ کر کے کیا. گھمبیر کے بعد کپتان مہندر سنگھ دھونی میدان میں آئے اور ہدف کے حصول تک یووراج کے ہمراہ ڈٹے رہے. دونوں بلے بازوں نے 52 رنز کی شراکت فیصلہ کن ثابت ہوئی اور بھارت نے 36 ویں اوور میں یووراج کی نصف سنچری کے ساتھ اپنی فتح کی نوید سنائی.

قبل ازیں نیدرلینڈز کے کپتان پیٹر بورن نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرنے کا فیصلہ کیا. تاہم نیدرلینڈز کی ٹیم اچھی ابتداء کے باوجود کوئی بڑا مجموعہ اکھٹا کرنے میں ناکام رہے. ایرک سوارزنسکی اور ویسلے بیراسی کی جوڑی کا خاتمہ پیوش چاؤلہ کے ہاتھوں ہوا جنہوں نے ایرک (28) کو 15 ویں اوور میں کلین بولڈ کیا. ساتھی کھلاڑی بیراسی (26) کو بھی یووراج سنگھ نے 64 کے مجموعی پر ٹھکانے لگایا. اس موقع پر ٹوم کوپر نے ریان ٹین ڈیسکاٹے کے ہمراہ 35 رنز کی شراکت قائم کر کے اننگ کو سنبھالنے کی کوشش کی. تاہم یووراج نے ایک بار پھر نیدرلینڈز کے لیے اہم اس جوڑی کو توڑا، اس بار ٹین ڈیسکاٹے (11) ان کا شکار بنے. اگلے ہی اوور میں اشیش نہرا نے کوپر (11) کو پویلین کی راہ دکھا کر 100 کے مجموعہ پر نیدرلینڈز کو چوتھا نقصان پہنچایا.

مستند بلے بازوں کی رخصتی کے بعد کوئی کھلاڑی زیادہ دیر جم کر بھارتی بالنگ لائن کا مقابلہ نہ کر سکا. کپتان پیٹر بورن نے بطور قائد بہتر اننگ کھیلی اور ٹیل اینڈر مدثر بخاری کے ہمراہ مجموعہ کو بہتر بنانے کے لیے سرگرداں نظر آئے. دونوں کھلاڑیوں کی 23 گیندوں پر 38 رنز کی شراکت نے مجموعہ کو 189 تک پہنچایا. 46 ویں اوور میں بورن (38) اور بخاری (21) دونوں بلے باز ظہیر خان کا شکار ہوئے تو نیدرلینڈز کی تمام وکٹیں تمام ہوئیں.

یووراج سنگھ کو بالنگ کے دوران 2 وکٹیں حاصل کرنے اور بعد ازاں 51 رنز کی اننگ سجانے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا. یورراج نے عالمی کپ مقابلوں میں چھٹی جبکہ ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں میں 48 ویں نصف سنچری بنائی. گیند بازی میں بھارت کی جانب سے ظہیر خان جبکہ نیدرلینڈز کی جانب سے پیٹر سیلار نے بہترین گیند بازی کا مظاہرہ کیا اور 3، 3 حریف کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھانے میں کامیاب ہوئے.

بھارتی نقطہ نگاہ سے اس اہم میچ میں بھارت کی کامیابی نے اس کی کوارٹر فائنل تک رسائی پر مہر ثبت کردی ہے. دوسری جانب نیدرلینڈز کی ٹیم اب تک کھیلے گئے تمام میچ میں شکست کا سامنا کرنے کے باعث اگلے مرحلے رسائی حاصل نہیں کر پائے گی.

عالمی کپ میں اب تک ناقابل شکست رہنے والی بھارتی ٹیم 12 مارچ کو جنوبی افریقہ کے خلاف میدان میں اترے گی جس میں پروٹیز کی اگلے مرحلہ تک رسائی کا فیصلہ متوقع ہے. علاوہ ازیں نیدرلینڈز کی ٹیم اپنا اگلا میچ 14 مارچ کو بنگلہ دیش کے خلاف کھیلے گی جو نیدرلینڈز کے لیے تو ایک رسمی مقابلہ ہوگا مگر بنگلہ دیش کے نقطہ نگاہ سے یہ میچ بہت اہمیت کا حامل ہے.

میچ کی جھلکیاں

Facebook Comments