پاک بھارت سیریز کی راہ ہموار؛ بھارتی وزارت داخلہ نے دورے کی منظوری دے دی

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) جہاں ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کے لیے کوششیں کر رہا ہے وہیں دوسری طرف اس کی توجہ پاک - بھارت کرکٹ تعلقات کی بحالی پر بھی مرکوز ہے۔ اس سلسلے میں پی سی بی کی کوششوں اور دونوں ممالک کے کرکٹ بورڈ سربراہان کی ملاقاتوں کے نتیجے میں بھارتی وزارت داخلہ کی جانب سے پاکستان کرکٹ ٹیم کے دورہ بھارت کی منظور دے دی ہے جس کے بعد رواں سال کے اختتام پر دونوں ملکوں کے درمیان مختصر طرز کے کرکٹ مقابلوں پر مشتمل سیریز کے امکانات مزید روشن ہوگئے ہیں۔

پاکستان ٹیم 22 دسمبر سے 7 جنوری تک بھارت کا دورہ کرے گی۔ (تصویر AP)

پاکستان کرکٹ ٹیم 22 دسمبر سے 7 جنوری تک بھارت کا دورہ کرے گی۔ (تصویر AP)

یہ منظوری نئی دہلی میں بھارت کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) اور وزارت داخلہ کی ملاقات کے بعد دی گئی جس میں چیف ایڈمنسٹریٹیو آفیسر رتناکر شیٹھی اور چیف ایگزیکٹو سندر رمن سمیت انڈین پریمیئر لیگ کے چیئر راجیو شکلا بھی موجود تھے۔ راجیو شکلا نے اس ملاقات کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے وزارت داخلہ کے نمائندوں کے ساتھ طویل گفتگو کی جس میں دورے کی تاریخ اور مقابلوں کے لیے شہروں کے انتخاب سمیت تمام اہم امور شامل تھے۔

پاکستانی ٹیم 22 دسمبر کو بھارت پہنچے گی جہاں وہ 3 ایک روزہ بین الاقوامی مقابلے اور 2 ٹی ٹوئنٹی مقابلے کھیلے گی۔ یہ مقابلے چنئی، دہلی، کولکتہ، احمدآباد اور بنگلور میں کھیلے جائیں گے۔ دورے کا اختتام 7 جنوری کو متوقع ہے۔ یاد رہے کہ ابھی انگلستان کی کرکٹ ٹیم بھارت کا دورہ کر رہی ہے لیکن مہمان ٹیم 25 دسمبر کو کرسمس کا تہوار منانے کے لیے واپس انگلستان جائے گی اور پھر 11 جنوری کو دورے کے باقی ماندہ مقابلوں کے لیے واپس بھارت آئے گی۔

بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے فیوچر ٹؤر پروگرام (ایف ٹی پی ) کے مطابق مذکورہ سیریز پاکستان میں ہونا تھی تاہم مارچ 2009ء میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملوں کے بعد سے بین الاقوامی کرکٹ ختم ہوجانے کے باعث ایسا ممکن نہیں ہوسکا۔ سیکورٹی وجوہات کی بناء پر بھارتی کرکٹ بورڈ کی جانب سے دورہ پاکستان کے لیے صاف انکار کے بعد سیریز کو کسی تیسرے ملک میں منعقد کرنے کی پی سی بی کی تجویز بھی بی سی سی آئی نے رد کردی تھی۔ بعد ازاں پی سی بی نے بی سی سی کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے اس سیریز کو بھارتی سرزمین پر کروانے کی حامی بھرلی تاہم سیریز سے ہونے والی آمدنی میں حصہ داری کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

آخری بار پاکستان نے 2007ء میں بھارت کا دورہ کیا جس کے بعد نومبر 2008ء میں ممبئی پر دہشت گردانہ حملوں کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے جس کا کرکٹ پر بھی منفی اثر پڑا۔ اس دوران دونوں روایتی حریف دیگر بین الاقوامی ٹورنامنٹس جیسے عالمی کپ، ایشیا کپ، چیمپئنز ٹرافی اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ایک دوسرے کے مدمقابل رہے۔ آخری بار دونوں ٹیمیں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء کے مقابلے میں آمنے سامنے ہوئیں تھیں۔

Facebook Comments