پاک-بھارت سیریز کا باضابطہ شیڈول جاری

”کفر ٹوٹاخدا خدا کر کے“ کے مصداق بالآخر تمام تر رکاوٹیں دور ہوئیں اور 5 سال سے زائد کے عرصے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان اک باضابطہ سیریز کے آغاز کا حتمی و فیصلہ کن اعلان ہو ہی گیا۔

یہ پانچ سال بعد دونوں ممالک کی ٹیموں کے درمیان پہلی باضابطہ سیریز ہوگی (تصویر: AP)

یہ پانچ سال بعد دونوں ممالک کی ٹیموں کے درمیان پہلی باضابطہ سیریز ہوگی (تصویر: AP)

بھارت کے کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے جمعرات کو اک اعلامیہ جاری کر کے اس سیریز کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ جس کے مطابق دو ٹی ٹوئنٹی اور تین ایک روزہ مقابلے کھیلنے کے لیے پاکستان کی کرکٹ ٹیم 22 دسمبر کو بھارت کے ”سلیکون سٹی“ بنگلور پہنچے گی۔ جہاں اس کا پہلا ٹی ٹوئنٹی مقابلہ 25 دسمبر کو کرسمس کے روز ایم چناسوامی اسٹیڈیم میں ہوگا۔

اس یادگار مقابلے کے صرف بعد دونوں ٹیمیں 27 دسمبر کو ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں آمنے سامنے آئیں گی اور اس مقابلے کے ساتھ ٹی ٹوئنٹی سیریز اپنے اختتام کو پہنچے گی۔

اس کے بعد ایک روزہ مقابلوں کا مرحلہ 30 دسمبر کو چنئی کے چدمبرم اسٹیڈیم سے شروع ہوگا۔ اس تاریخی میدان میں کھیلنے کے بعد دونوں روایتی حریف نئے سال پر کولکتہ پہنچیں گے جہاں 3 جنوری کو سیریز کا دوسرا ایک روزہ مقابلہ ہوگا۔

دونوں ٹیموں کا اگلا اور آخری پڑاؤ دارالحکومت دہلی ہوگا جہاں 6 جنوری کو فیروز شاہ کوٹلہ اسٹیڈیم میں تیسرا و آخری ایک روزہ مقابلہ کھیلا جائے گا۔ یہ مقابلہ کھیلنے کے بعد اگلے روزیعنی 7 جنوری کو پاکستانی کرکٹ ٹیم وطن واپس روانہ ہو جائے گی۔

اس شیڈول کے اعلان کے ساتھ ہی پاکستان کرکٹ بورڈ کی سالوں پر محیط کوششیں رنگ لائی ہیں، جس کے دوران بھارت نے کئی مرتبہ پاکستان کا دورہ تو کجا، اس کے ساتھ کھیلنے ہی سے صاف انکار کیا لیکن نئے چیئرمین ذکا اشرف کی زیر قیادت اعلیٰ سطحی مذاکرات کے ذریعے رواں سال کرکٹ تعلقات کی بحالی ممکن ہوئی۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ سیریز دورے پر موجود انگلستان کی طویل سیریز کے درمیانی وقفے میں منعقد ہوگی جب انگلش کھلاڑی کرسمس اور نئے سال کی تعطیلات منانے کے لیے اپنے وطن جائیں گے اور 11 جنوری کو واپس آ کر سیریز کے بقیہ میچز کھیلیں گے۔

دونوں ٹیموں کے درمیان آخری سیریز 2007ء میں کھیلی گئی تھی جب پاکستان نے بھارت کا دورہ کیا تھا اور اگلےسال ممبئی میں دہشت گرد حملوں کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں آنے والی خرابی نے کرکٹ پر بھی بہت برا اثر ڈالا۔رہی سہی کسر 2009ء کے اوائل میں پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی سری لنکن ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے نے پوری کر دی۔ یوں بھارت کو پاکستان کا دورہ نہ کرنے کا بہانہ مل گیا۔ مسلسل ٹال مٹول کے بعد بالآخر چند ماہ قبل مثبت پیشرفت دیکھی گئی اور پاکستان کی جانب سے سیریز کہیں بھی کھیلنے پر رضامندی کے بعد بھارت میزبانی پر تیار ہو گیا۔

گزشتہ پانچ سالوں میں دونوں ممالک کی ٹیمیں عالمی کپ، ورلڈ ٹی ٹوئنٹی، چیمپئنز ٹرافی اور ایشیا کپ جیسے ٹورنامنٹس میں مدمقابل آئی ہیں لیکن باضابطہ طور پر دونوں ملکوں کے درمیان کوئی سیریز نہیں کھیلی گئی۔

پاک-بھارت سیریز 2012-13ء مکمل شیڈول

تاریخ میدان
25 دسمبر بمقابلہ پہلا ٹی ٹوئنٹی بنگلور
27 دسمبر بمقابلہ دوسرا ٹی ٹوئنٹی احمد آباد
30 دسمبر بمقابلہ پہلا ایک روزہ چنئی
3 جنوری بمقابلہ دوسرا ایک روزہ کولکتہ
6 جنوری بمقابلہ تیسرا ایک روزہ دہلی

Facebook Comments