[آج کا دن] دنیائے کرکٹ اور پاکستان کے لیے شرمناک دن

پاکستان کرکٹ کے لیے اک شرمناک اور عبرتناک دن، جب اس کے تین سرفہرست کھلاڑیوں کو برطانیہ کی عدالت نے دھوکہ دہی اور بدعنوانی کے مقدمے میں قید کی سزائیں سنائیں۔ وہ ہاتھ جو قومی پرچم تھام کو ملک کانام روشن کرنے نکلتے ہیں، ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اک افسوسناک منظر تو تھا ہی لیکن ساتھ اس میں آنے والی نسلوں کے لیے بڑی عبرت بھی پوشیدہ تھی۔

سلمان بٹ، محمد آصف، محمد عامر اور مظہر مجید نے مختلف دورانیے کی قید کی سزائیں پائیں

سلمان بٹ، محمد آصف، محمد عامر اور مظہر مجید نے مختلف دورانیے کی قید کی سزائیں پائیں

آج سے ٹھیک ایک سال قبل لندن کی ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ نے وہ تاریخی فیصلہ دیا جس کی بنیاد پر 2010ء کے دورۂ انگلستان کے دوران لارڈز میں کھیلے گئے ٹیسٹ میں بدعنوانی کے ذریعے رقوم وصول کرنے کا الزام ثابت ہونے پر اُس وقت کے پاکستانی کپتان سلمان بٹ اور تیز گیند بازوں محمد آصف اور محمد عامر کو بالترتیب 2 سال 6 ماہ، ایک سال اور 6 ماہ قید کی سزائیں سنائیں۔ عدالت نے اسپاٹ فکسنگ تنازع کے مرکزی کردار سٹے باز مظہر مجید کو سب سے زیادہ یعنی 2 سال 8 ماہ قید کی سزا بھی سنائی۔

مقدمے کی سماعت 20 روز جاری رہی اور اس میں صرف سلمان بٹ اور محمد آصف پر ہی جرح کی گئی کیونکہ تیسرے فریق محمد عامر عدالتی کارروائی کے آغاز سے قبل ہی اعتراف جرم کر چکے تھے۔

اگست 2010ء میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ کے دوران جان بوجھ کر نو بالز پھینکنے اور اس کے بدلے میں سٹے باز مظہر مجید سے خطیر رقم حاصل کرنے کا معاملہ انگلستان کا ایک اخبار 'نیوز آف دی ورلڈ' سامنے لے کر آیا تھا، جس نے ایک صحافی مظہر محمود کے ذریعے ایک خفیہ آپریشن کرتے ہوئے سٹے باز مظہر مجید کے ذریعے پاکستانی کھلاڑیوں سے معاملات طے کیے اور بعد ازاں اس کی تصاویر اخبار میں شایع کر دیں اور انٹرنیٹ پر وڈیوز بھی جاری کر دیں۔

قید کی سزائیں ان کھلاڑیوں کے لیے دہرا عذاب ثابت ہوئیں کیونکہ تینوں کھلاڑی پہلے ہی بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی جانب سے کم از کم پانچ، پانچ سال کی پابندیوں کو بھگت رہے تھے۔ گو کہ اب تینوں کھلاڑی برطانوی جیل خانوں سے رہائی پا کر وطن واپس پہنچ چکے ہیں اور اس معاملے کے بعد انگلستان میں دانش کنیریا اور مروین ویسٹ فیلڈ کا معاملہ اور بھارت میں انڈین پریمیئر لیگ میں شریک کھلاڑیوں کی جانب سے اسپاٹ فکسنگ کے معاملات سامنے آ چکےہیں اور ان پر کارروائیاں بھی کی گئی ہیں لیکن سوچنے کا مقام یہ ہے کہ تمام قضیے ذرائع ابلاغ یا دیگر ذریعوں سے سامنے آئے اور بین الاقوامی کونسل کا اینٹی کرپشن اینڈ سیکورٹی یونٹ جو اس کام کا ذمہ دار ہے، کے کریڈٹ پر اب تک ایسا کوئی واقعہ نہیں ہے۔ ایسا نظر آتا ہے کہ آئی سی ایس یو ایک عضو معطل ہے اور اس سے کسی انقلابی پیشرفت کی توقع عبث ہے۔ اس لیے سب سے اہم امر یہ ہے کہ اے سی ایس یو کی جدید انداز سے تنظیم نو کی جائے اور اسے پیشہ ورانہ انداز میں چلایا جائے تاکہ کرکٹ کو فکسنگ کے ناسور سے نجات دی جا سکے۔

Facebook Comments