عمران طاہر زخمی، دس روز آرام کا مشورہ

انگلستان کے خلاف اہم میچ میں حیران کن شکست نے جنوبی افریقہ کو پریشان تو کر دیا ہے لیکن بھارت کے خلاف گروپ کے اہم ترین میچ سے قبل انہیں ایک زبردست دھچکا پہنچا ہے کیونکہ ان کے ٹورنامنٹ میں اب تک کے سب سے کامیاب باؤلر عمران طاہر بائیں ہاتھ کا انگوٹھا زخمی کر بیٹھے ہیں۔

عمران طاہر

عمران طاہر انگلستان کے خلاف میچ کے دوران اپنی ہی باؤلنگ پر جوناتھن ٹراٹ کا ایک کیچ لیتے ہوئے انگوٹھا زخمی کر بیٹھے تھے۔ ابتداء میں ان کی انجری کی نوعیت اور شدت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا لیکن جمعرات کو اعلان کیا گیا ہے کہ طبی ماہر نے دس روزتک آرام کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

جنوبی افریقہ کے ٹیم مینیجر محمد موسی جی کا کہنا ہے کہ عمران کو آرام کا مشورہ ضرور دیا گیا ہے، لیکن وہ عالمی کپ سے باہر نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بدھ کو ناگپور میں ان کے انگوٹھے کا ایکسرے لیا گیا جس کے نتائج میں جنوبی افریقہ میں ہاتھوں کے طبی ماہر ڈاکٹر مائیک سولومنز کو ارسال کیے گئے جنہوں نے عمران کو 10 دن کے آرام کا مشورہ دیا ہے۔

جنوبی افریقہ کو ٹورنامنٹ میں اپنا سب سے اہم میچ سنیچر کو بھارت کے خلاف کھیلنا ہے، جس میں عمران طاہر کی شمولیت یقینا بہت اہمیت کی حامل ہے۔ کیونکہ عمران کو عالمی کپ میں جنوبی افریقہ کا 'خفیہ ہتھیار' سمجھا جا رہا ہے۔ اب تک وہ پاکستان کے شاہد آفریدی کے بعد ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ یعنی 11 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔

گو کہ چوٹ ان کے باؤلنگ والے ہاتھ یعنی دائیں میں نہیں لگی، اور جمعرات کو انہوں نے تربیتی سیشن میں شرکت بھی کی ہے اس لیے عین ممکن ہے کہ انہیں بھارت کے خلاف اہم میچ میں کھلایا جائے۔ لیکن اگر طبی عملہ ٹورنامنٹ کے اگلے مراحل کے لیے خطرہ مول نہیں لینا چاہے گا تو عین ممکن ہے کہ طاہر کو دس روز کے آرام کے بعد کوارٹر فائنل مرحلے کے لیے ہی ٹیم میں شامل کیا جائے۔

پاکستانی نژاد عمران طاہر حال ہی میں جنوبی افریقہ کی قومی ٹیم کا حصہ بنے ہیں لیکن عالمی کپ 2011ء میں اسپنرز کے لیے ممکنہ طور پر مددگار ٹریکس کے باعث انہیں موقع ہونے کے باوجود استعمال نہیں کیا گیا کیونکہ کپتان گریم اسمتھ انہیں عالمی کپ میں اپنا اہم ترین کھلاڑی تصور کر رہے تھے اور انہیں اپنا 'خفیہ ہتھیار' قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ عمران طاہر نے جنوبی افریقہ کی جانب سے اپنا پہلا ایک روزہ میچ اسی عالمی کپ میں کھیلا ہے۔ اب تک کھیلے گئے محض تین میچز میں وہ 11 کھلاڑیوں کو اپنا شکار بنا چکے ہیں، جو ثابت کرتا ہے کہ وہ ان سے وابستہ توقعات حقیقت پر مبنی تھیں۔

Article Tags

Facebook Comments