آصف اور سلمان کی عالمی عدالت میں اپیل، سماعت فروری میں ہوگی

کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت پاکستان کے پابندی کھلاڑیوں سلمان بٹ اور محمد آصف کی اپیلوں کی سماعت اگلے سال فروری میں کرے گی۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے اسپاٹ فکسنگ تنازع میں مجرم ثابت ہونے پر دونوں کھلاڑیوں پر کم از کم 5، 5 سال کی پابندی عائد کی تھی جس کے خلاف دونوں نے سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزان میں واقع عالمی عدالت سے رجوع کیا ہے۔

کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت 5 سے 7 فروری تک آصف اور 8 فروری کو سلمان بٹ کی اپیل کی سماعت کرے گی

کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت 5 سے 7 فروری تک آصف اور 8 فروری کو سلمان بٹ کی اپیل کی سماعت کرے گی

عدالت کےاعلان کے مطابق محمد آصف کے مقدمے کی سماعت 5 سے 7 فروری 2013ء کو ہوگی جبکہ سلمان بٹ کو 8 فروری کو طلب کیا جائے گا۔

عالمی ثالثی عدالت کھیل اور کھلاڑیوں کے حوالے سے دنیا کا سب سے بڑا ور تسلیم شدہ عدالتی ادارہ ہے ۔

سلمان بٹ اور محمد آصف کو آئی سی سی کی پابندیاں سہنے کے علاوہ گزشتہ سال نومبر میں برطانیہ نے دھوکہ دہی اور بدعنوانی کے ذریعے رقوم بٹورنے پر مجرم قرار دیتے ہوئے قید کی سزائیں سنائی تھیں۔ ان کھلاڑیوں نے اگست 2010ء میں پاکستان و انگلستان کے درمیان لارڈز میں ہونے والے ٹیسٹ میچز کے دوران سٹے باز مظہر مجید کے کہنے پر جان بوجھ کر نو بالز پھینکی تھیں۔ اس قضیے کے تیسرے فریق محمد عامر نے اپنے جرائم کا اعتراف کرتے ہوئے عالمی عدالت میں اپیل دائر نہیں کی۔

جان بوجھ کر نو بالز پھینکنے اور اس کے بدلے میں مظہر مجید سے خطیر رقم حاصل کرنے کا معاملہ انگلستان کا ایک اخبار 'نیوز آف دی ورلڈ' لارڈز میں کھیلے گئے مذکورہ ٹیسٹ کے درمیان ہی سامنے لایا تھا۔ جس نے ایک صحافی مظہر محمود کے ذریعے ایک خفیہ آپریشن کرتے ہوئے سٹے باز مظہر مجید کے ذریعے پاکستانی کھلاڑیوں سے معاملات طے کیے اور بعد ازاں اس کی تصاویر اخبار میں شایع کر دیں اور انٹرنیٹ پر وڈیوز بھی جاری کر دیں۔اسے کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا تنازع کہا گیا ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ سلمان بٹ اور محمد آصف خود پر عائد پابندیوں کو ہٹوانے میں کامیاب ہوتے یا نہیں۔ بہرحال، یہ امر تو طے شدہ لگتا ہے کہ دونوں کی قومی کرکٹ ٹیم میں واپسی کے امکانات صفر ہیں۔

Facebook Comments