انگلستان کے خلاف ٹیسٹ کے لیے بھارتی ٹیم کا اعلان، یووراج اور ہربھجن کی واپسی

بھارت نے انگلستان کے خلاف اولین دو ٹیسٹ مقابلوں کے لیے ٹیم کا اعلان کر دیا ہے جس میں توقعات کے مطابق سرطان کو زیر کرنے والے یووراج سنگھ اور طویل عرصے کے بعد بلائے گئے اسپنر ہربھجن سنگھ بھی شامل ہیں۔ 15 نومبر سے احمد آباد میں شروع ہونے والے پہلے ٹیسٹ مقابلے سے شروع ہونے والی سیریز کے لیے اعلان کردہ 15 رکنی دستے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت سیریز میں اسپن گیند بازوں پر انحصار کرے گا۔

یووراج سنگھ نے چند روز قبل انگلستان کے خلاف بھارت 'اے' کی جانب سے 59 رنز بنا کر اپنی اہلیت ثابت کرنے کی کوشش کی ہے (تصویر: AFP)

یووراج سنگھ نے چند روز قبل انگلستان کے خلاف بھارت 'اے' کی جانب سے 59 رنز بنا کر اپنی اہلیت ثابت کرنے کی کوشش کی ہے (تصویر: AFP)

بھارت کے نو منتخب شدہ قومی سلیکشن پینل کا پہلا اجلاس ممبئی میں سندیپ پٹیل کی زیر صدارت ہوا جس میں کپتان مہندر سنگھ دھونی بھی شریک تھے۔ جس میں غور و خوض کے بعد طے شدہ ایک کے بجائے اولین دو ٹیسٹ مقابلوں کے لیے ٹیموں کا اعلان کیا گیا۔

یووراج سنگھ نے آخری مرتبہ ایک سال قبل ویسٹ انڈیز کے خلاف کولکتہ ٹیسٹ میں شرکت کی تھی اور اس کے بعد وہ سرطان کا شکار ہو کر کرکٹ سے دور ہو گئے۔ اب جبکہ وہ مکمل صحت یاب ہونے کے بعد محدود طرز کی کرکٹ میں اپنی اہلیت ثابت کر چکے ہیں، تو انہیں ایک مرتبہ پھر ٹیسٹ میں موقع دیا جا رہا ہے اور درحقیقت یہ یووراج کا سب سے کٹھن امتحان ہوگا۔ اگر وہ ٹیسٹ میں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب ہو گئے تو ان کے کیریئر کا اک تازہ آغاز ہوگا لیکن ناکامی کی صورت میں وہ ہمیشہ کے لیے باہر بھی ہو سکتے ہیں۔ بہرحال، انہوں نے حال ہی میں انگلستان کے خلاف ہونے والے ٹور میچ میں 59 رنز داغ کر طویل طرز کی کرکٹ میں کسی حد تک اپنی اہلیت ثابت تو کی ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر وہ کیا کر دکھاتے ہیں؟

دوسری اہم شمولیت ہربھجن سنگھ کی ہے، جنہوں نے آخری ٹیسٹ 2011ء کے بھیانک دورۂ انگلستان میں کھیلا تھا، جہاں بھارت کو 4-0 کی بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ حالیہ رنجی ٹرافی میں بھی 'بھجی' کی کارکردگی مثالی نہیں رہی اس لیے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ انہیں صرف اور صرف تجربے کی بنیاد پر ٹیم میں منتخب کیا گیا ہے۔ ان کے انتخاب سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت انگلش بلے بازوں کے اسپن گیند بازی کے خلاف ناکام ماضی کو دیکھتے ہوئے ان کے خلاف ایسی حکمت عملی بنانا چاہتا ہے جس میں اسپنرز کو مرکزی حیثیت حاصل ہو اور اس جانب حال ہی میں مہندر سنگھ دھونی اشارہ بھی دے چکے ہیں۔

ان دونوں کے علاوہ بھارت نے ظہیر خان پر بھی جوا کھیلا ہے جو ایک مرتبہ پھر مکمل طور پر فٹ نہیں دکھائی دیتے۔ انگلستان کے خلاف 2011ء کی سیریز میں بھی ظہیر خان چند اوورز پھینکنے کے بعد پوری سیریز کے لیے باہر ہو گئے تھے اور اب حال ہی میں رنجی ٹرافی میں ممبئی کی جانب سے ریلویز کے خلاف کھیلتے ہوئے وہ درمیان ہی سے واپس لوٹ آئے۔ اس کے باوجود سلیکشن پینل نے نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے فزیوتھراپسٹ اشیش کوشک کی 'سب ٹھیک ہے' رپورٹ پر انہیں ٹیم میں منتخب کیا ہے۔

اعلان کردہ دستے میں چار اوپنرز وریندر سہواگ، گوتم گمبھیر، اجنکیا راہانے اور مرلی وجے شامل ہیں اور ان میں سے کم از کم تین کھلاڑیوں تو ممکنہ طور پر ٹیم میں شامل ہوں گے، اس لیے راہانے کو ممکنہ طور پر مڈل آرڈر بلے باز کی حیثیت سے کھلایا جائے گا جیسا کہ سندیپ پٹیل نے خود بھی کہا کہ انہیں مڈل آرڈر میں منتخب کیا گیا ہے ۔

دستہ ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے (بلحاظ حروفِ تہجی):

مہندر سنگھ دھونی (کپتان)، اجنکیا راہانے، اُمیش یادیو، ایشانت شرما، پراگیان اوجھا، چتشور پجارا، روی چندر آشون، سچن تنڈولکر، ظہیر خان، گوتم گمبھیر، مرلی وجے، وریندر سہواگ، ویراٹ کوہلی، ہربھجن سنگھ اور یووراج سنگھ۔

Facebook Comments