بنگلہ دیشی خواب بکھر گیا، ویسٹ انڈیز کامیاب

کسی سرفہرست ٹیم کے خلاف فتح حاصل کرنے کا بنگلہ دیشی خواب اب بھی محض خام خیالی ہی ہے، ویسٹ انڈیز کے خلاف میرپور، ڈھاکہ میں فتح کے قریب پہنچتے پہنچتے بالآخر بنگلہ دیشی بلے بازوں نے ہتھیار ڈال دیے اور پہلے بلے بازی اور پھر گیند بازی سے ملنے والی امیدیں آخری اننگز کی ناقص بلے بازی کے باعث دم توڑ گئیں۔ ویسٹ انڈیز نے 77 رنز سے ڈھاکہ ٹیسٹ جیت کر سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر لی۔

بنگلہ دیش کی پہلی اور دوسری اننگز میں زمین اور آسمان کا فرق تھا، اور یہی فرق ان کی شکست کا باعث بنا (تصویر: AFP)

بنگلہ دیش کی پہلی اور دوسری اننگز میں زمین اور آسمان کا فرق تھا، اور یہی فرق ان کی شکست کا باعث بنا (تصویر: AFP)

اولین دنوں میں شیونرائن چندرپال کی ڈبل سنچری اور کیرن پاول کی سنچری کی بدولت بنگلہ دیشی باؤلرز جدوجہد کرتے دکھائی دیے اور 527 رنز کا مجموعہ سجانے کے بعد جب بنگلہ دیش کے ہاتھ پہلی باری آئی تو اس نے کمال کر دکھایا۔ نعیم اسلام کی سنچری اور ناصر حسین کی 96، شکیب الحسن کی 89، تمیم اقبال کی 72 اور محمود اللہ کی 62 رنز کی شاندار اننگز کی بدولت اس نے اپنی تاریخ کا بہترین مجموعہ 556 اکٹھا کیا اور حیرت انگیز طور پر ویسٹ انڈیز پر 29 رنز کی برتری بھی حاصل کر ڈالی۔

اس صورتحال میں کئی سمتوں سے ویسٹ انڈیز پر اننگز کو جلد ڈکلیئر کرنے میں غلطی کا مرتکب ہونے کا الزام لگایا گیا جس نے محض 4 وکٹیں گرنے کے بعد اننگز ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ اور شاید وہ اس لمحے تو بہت پچھتایا ہوگا جب دوسری اننگز میں 209 رنز ایک کھلاڑی آؤٹ جیسی مضبوط پوزیشن حاصل کرنے کے بعد اس کی 9 وکٹیں محض 64 رنز کا اضافہ کر پائیں۔ کیرن پاول، جنہوں نے دوسری اننگز میں بھی سنچری داغ کر انوکھا کارنامہ انجام دیا، کے علاوہ صرف ڈیرن براوو ہی ایسے بلے باز رہے جنہوں نے 76 رنز کی قابل ذکر اننگز کھیلی ورنہ پورا مڈل آرڈر اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے سہاگ غازی کے ہتھے چڑھ گیا۔ جنہوں نے 74 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں۔ مجموعی طور پر میچ میں ان کی شکاروں کی تعداد 9 رہی۔

ویسٹ انڈیز کی دوسری اننگز 273 رنز پر تمام ہوئی تو بنگلہ دیش کو فتح کی بو آنے لگی۔ جسے دن میں بچ جانے والے 70 سے زیادہ اوورز میں 245 رنز کا ہدف درکار تھا۔ بلے بازوں کی پہلی اننگز کی کارکردگی دیکھ کر یہی اندازہ تھا کہ میزبان ٹیم ہدف تک پہنچ سکتی ہے۔ پھر یکدم میدان میں تماشائیوں کی تعداد میں قابل ذکر اضافہ ہونے شروع ہو گیا، جو اک تاریخی فتح کو دیکھنے کے لیے جوق در جوق میدان کا رخ کر رہے تھے۔ تماشائیوں کے جوش و خروش سے اک زبردست ماحول بن گیا تھا لیکن اس پورے رنگ میں بھنگ بنگلہ دیشی بلے بازوں نے ڈالی۔ ٹینو بیسٹ نے ان پر خوب ہاتھ صاف کیا اور 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے ویسٹ انڈین فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پوری بنگلہ دیشی ٹیم محض 167 رنز بنا کر ڈھیر ہو گئی اور یوں فتح کا خواب چکناچور ہو گیا۔

کیرن پاول نے دونوں اننگز میں سنچریاں اسکور کر کے عظیم ویسٹ انڈین بلے بازوں کی فہرست میں جگہ پائی (تصویر: AFP)

کیرن پاول نے دونوں اننگز میں سنچریاں اسکور کر کے عظیم ویسٹ انڈین بلے بازوں کی فہرست میں جگہ پائی (تصویر: AFP)

دوسری اننگز میں سب سے بڑی باری محمود اللہ نے کھیلی اور وہ بھی محض 29 رنز کی۔

کیرن پاول کو دونوں اننگز میں سنچریاں داغنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اب دونوں ٹیمیں دوسرے و آخری ٹیسٹ کے لیے کھلنا روانہ ہوں گی، جو بنگلہ دیش کے ٹیسٹ مراکز میں اک نیا اضافہ ہوگا۔ یہ مقابلہ 21 سے 25 نومبر تک کھیلا جائے گا۔

Facebook Comments