ہیراتھ کے ہاتھوں نیوزی لینڈ کا جنازہ نکل گیا

مہیلا جے وردھنے کی قائدانہ اننگز اور بعد ازاں رنگانا ہیراتھ کی شاندار گیند بازی نے سری لنکا کو محض تین دنوں میں نیوزی لینڈ کے خلاف زبردست فتح سے ہمکنار کر دیا۔ جے وردھنے نے اس وقت سری لنکا کو بچایا جب 221 رنز کے جواب میں اس کی ابتدائی چار وکٹیں محض 20 رنز پر گر چکی تھیں جبکہ ہیراتھ نے اس وقت نیوزی لینڈ کی بیٹنگ لائن اپ کو روند کر رکھ دیا جب سری لنکا محض 26 رنز کی برتری کا حامل تھا اور اسے کم سے کم تر اسکور پر حریف ٹیم کو آؤٹ کرنا تھا۔ اپنے پسندیدہ میدان پر ہیراتھ کی تباہ کن باؤلنگ کی وجہ سے نیوزی لینڈ دوسری اننگز میں محض 118 رنز پر ڈھیر ہوا اور سری لنکا نے 93 رنز کا معمولی ہدف بغیر کسی وکٹ کے نقصان کے پورا کر کے سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر لی۔

ہیراتھ نے اپنے پسندیدہ میدان پر پانچویں بار میچ میں 10 سے زائد وکٹیں حاصل کیں (تصویر: AP)

ہیراتھ نے اپنے پسندیدہ میدان پر پانچویں بار میچ میں 10 سے زائد وکٹیں حاصل کیں (تصویر: AP)

گال کے تاریخی میدان میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا اور برینڈن میک کولم کے 68 اور ڈینیل فلن کے 53 رنز کی بدولت 221 رنز بنانے میں کامیاب ہوا۔ گو کہ بلے بازوں کے لیے سازگار وکٹ پر یہ معمول سے بہت کم مجموعہ تھا لیکن اسپنرز کے خلاف نیوزی لینڈ کے بلے بازوں کی مشہور زمانہ کمزوری کو مدنظر رکھا جائے تو یہ مناسب اسکور کہا جا سکتا ہے۔ بہرحال، جب سری لنکا نے اپنی پہلی اننگز کا آغاز کیا تو یہ 221 رنز بھی ہمالیہ جیسے نظر آنے لگے کیونکہ صرف 20 کے مجموعے پر اس کی 4 وکٹیں گر گئیں۔ ایک وکٹ تو انہوں نے پہلے روز کے اختتامی مراحل ہی میں گنوائی جب دوسرے اوور میں دیموتھ کونارتنے صفر پر ٹم ساؤتھی کی گیند پر وکٹوں کے سامنے دھرے گئے جبکہ اگلے روز ساؤتھی نے تھارنگا پرناوتنا اور نائٹ واچ مین سورج رندیو کو پے در پے دو اوورز میں آؤٹ کر کے سنسنی پھیلا دی۔ رہی سہی کسر 20 کے مجموعے پر عالمی نمبر ایک بلے باز کمار سنگاکارا کے ٹرینٹ بولٹ کی گیند پر وکٹوں کے پیچھے آؤٹ ہو جانے نے پوری کر دی۔

اب دو تجربہ کار بلے باز مہیلا جے وردھنے اور تھیلان سماراویرا کریز پر موجود تھے اور انہوں نے بحالی کے عمل کی شروعات کی۔ لیکن ابتداء ہی میں سمارا ویرا ساؤتھی کی چوتھی وکٹ بن گئے۔ صرف 50 رنز پر آدھی ٹیم پویلین لوٹ جانے کے بعد کپتان اور نائب کپتان ہی میدان میں رہ گئے۔ اور دونوں نے کیا ہی عمدہ بلے بازی کی، بروقت اور بہترین!

جے وردھنے اور اینجلو میتھیوز کے درمیان چھٹی وکٹ پر 156 رنز کی زبردست رفاقت نے نیوزی لینڈ کی برتری کو تقریباً ختم کر ڈالا۔ میتھیوز 210 منٹ تک اپنے ساتھی کا ہاتھ بٹاتے رہے اور 154 گیندوں پر ایک چھکے اور 12 چوکوں کی مدد سے 79 رنز کی قیمتی اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے۔ البتہ ان کے آؤٹ ہوتے ہی سری لنکن اننگز ایک مرتبہ پھر پٹری سے اتر گئی اور پے در پے وکٹیں گرتی رہیں۔ مہیلا جے وردھنے بدقسمتی سے اپنی سنچری مکمل نہ کر پائے اور 91 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ انہوں نے 294 منٹ تک کریز پر قیام کیا اور 176 گیندوں پر ایک چھکے اور 11 چوکوں سے مزین باری کھیلی۔

پہلی اننگز میں مشکل مرحلے پر مہیلا جے وردھنے اور اینجلو میتھویزمیتھیوز کی 156 رنز کی رفاقت نے سری لنکن فتح کی بنیاد رکھی (تصویر: AP)

پہلی اننگز میں مشکل مرحلے پر مہیلا جے وردھنے اور اینجلو میتھویزمیتھیوز کی 156 رنز کی رفاقت نے سری لنکن فتح کی بنیاد رکھی (تصویر: AP)

سری لنکا کی پوری ٹیم پہلی اننگز میں 26 رنز کی برتری لے کر 247 رنز پر ڈھیر ہوئی اور دوسرے روز کے آخری دس اوورز کھیلنے کے لیے نیوزی لینڈ دوبارہ میدان میں اترا۔ پہلی اننگز میں اپنے بلے کے جوہر دکھانے والے برینڈن میک کولم ابتداء ہی میں ہیراتھ کا شکار ہو گئے۔ انہوں نے اس مرتبہ صرف 13 رنز بنائے۔ اس کے بعد تیسرے روز ہیراتھ نے تباہی مچا کر رکھ دی۔ مارٹن گپٹل اور کین ولیم سن کے نووان کولاسیکرا کے ہاتھوں آؤٹ ہو جانے کے بعد ہیراتھ نے پوری ٹیم پر ہاتھ صاف کر دیا۔ انہوں نے روز ٹیلر، جیمز فرینکلن، ڈینیل فلن، ڈوگ بریسویل اور جیتن پٹیل کی وکٹیں حاصل کیں جبکہ دوسرے اینڈ سے سورج رندیو نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ آخری وکٹ پر 21 رنز کی رفاقت کے خاتمے کے ساتھ ہی نیوزی لینڈ کی اننگز 118 پر مکمل ہوئی اور سری لنکا کو جیتنے کے لیے صرف 93 رنز کا ہدف ملا جو اس نے ڈیبوٹنٹ کونارتنے کے برق رفتار 60 اور پرناوتنا کے 31 رنز کے ساتھ بغیر وکٹ کے نقصان کے مکمل کر لیے اور میں میچ کا فیصلہ تیسرے دن میں ہی ہو گیا۔

ہیراتھ کو میچ میں 11 وکٹیں حاصل کرنے پر بہترین کھلاڑی کا اعزاز دیا گیا۔

اب دونوں ٹیمیں 25 نومبر سے کولمبو میں دوسرے و آخری ٹیسٹ میں کھیلیں گی۔

Facebook Comments