کالی آندھی نے آئرش مزاحمت کو بھی کچل ڈالا

کیرون پولارڈ کے آگ اگلتے بلے سے نکلنے والے رنوں کے سیلاب نے عالمی کپ میں آئرلینڈ کی امیدوں کو بھسم کر دیا۔ ان کے علاوہ ڈیوون اسمتھ کی ذمہ دارانہ سنچری اور سلیمان بین اور کپتان ڈیرن سیمی کی کارآمد باؤلنگ نے ویسٹ انڈیز کو اہم میچ میں 44 رنز کی فتح دلادی۔

آئرلینڈ نے گزشتہ میچز اور پچ پر موجود کچھ گھاس کو ذہن میں رکھتے ہوئے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور حقیقتا یہ فیصلہ درست بھی تھا۔ لیکن پولارڈ نے ان کے خواب چکناچور کر دیے۔

کیرون پولارڈ کا ایک جارحانہ انداز (اے ایف پی)

تباہ کن بلے باز کرس گیل کی عدم موجودگی میں پولارڈ نے ان کی کمی کو پورا کیا۔ ان کی شعلہ فشاں اننگ سنچری کی حقدار تھی لیکن وہ نروس نائنٹیز کا شکار ہوگئے اور 94 رنز پر آؤٹ ہو گئے۔ ان کی یہ شاندار اننگ محض 55گیندوں پر مشتمل تھی۔ جس میں 5 چھکے اور 8 چوکے شامل تھے۔ انہی کی بدولت ویسٹ انڈیز نے قبل از وقت لیے گئے پاور پلے میں 55 رنز بنائے اور رنز کے سست بہاؤ کو تیز کیا۔ ایک لحظہ تو چند روز قبل آئرش کھلاڑی کیون اوبرائن کی بنائی گئی تیز ترین سنچری کا ریکارڈ بھی خطرے میں دکھائی دیا لیکن آئرش باؤلرز اپنے کھلاڑی کے اس اعزاز کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔

حقیقت یہ ہے کہ آئرلینڈ جس نے پورے ٹورنامنٹ میں اچھی فیلڈنگ کا مظاہرہ کیا ہے، اس مرتبہ اس معیار کو برقرار نہ رکھ سکی جس کی وجہ سے اسے شکست ہوئی۔ اس سے پولارڈ سمیت ویسٹ انڈین بلے بازوں کےکیچز اور رن آؤٹ مس کیے۔ جس کا خمیازہ انہیں شکست کی صورت میں بھگتنا پڑا۔

چار میچز میں یہ تیسری فتح ویسٹ انڈیز کو گروپ 'بی' میں دوسرے نمبر پر لے آئی ہے اور اب وہ باآسانی کوارٹر فائنل تک پہنچ سکتا ہے۔

پولارڈ کی جارحانہ اننگ نے ڈیوون اسمتھ کی اننگ کو گہنا دیا جنہوں نے ایک چھکے اور 11 چوکوں کی مدد سے 133 گیندوں پر 107 رنز بنائے۔ لیکن ان دونوں بلے بازوں کے علاوہ ویسٹ انڈیز کا کوئی بلے باز اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکا۔ محض شیونارائن چندرپال نے قابل ذکر 35 رنز بنائے۔ پوری ٹیم پچاسویں اوور میں 275 پر ڈھیر ہو گئی۔

آئرلینڈ کی جانب سے کیون اوبرائن نے کیریئر میں پہلی مرتبہ 4، جان مونی نے 2 اور بوائیڈ رینکن، جارج ڈوکریل اور آندرے بوتھا نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

لیکن ہدف کے تعاقب میں آئرش اننگ ابتداء ہی میں لڑکھڑا گئی جب دوسرے اوور میں پال اسٹرلنگ (5 رنز) کی وکٹ گر گئی۔ اس موقع پر کپتان پورٹرفیلڈ اور ایڈجوائس نے اننگ کو سنبھالا دینے کی کوشش کی اور اسکور کو کسی حد تک آگے بڑھایا۔ 42 کے مجموعی اسکور پر پورٹرفیلڈ (11 رنز) ڈیرن سیمی کا پہلا شکار بنے۔ کچھ دیر نیال اوبرائن بھی جوائس کے ساتھ چلے لیکن 86 کے مجموعی اسکور پر وہ بھی 25 رنز بنا کر سلیمان بین کی دوسری وکٹ بن گئے۔

اب تمام تر ذمہ داری ایڈ جوائس پر تھی جن سے آئرلینڈ کی اس عالمی کپ میں بڑی امیدیں وابستہ تھیں، لیکن ابھی تک انہوں نے اپنی بلے بازی کے جوہر نہیں دکھائے تھے۔ جوائس نے موقع کا بھرپور استعمال کیا اور گیری ولسن کے ساتھ مل کر آئرلینڈ کو فتح کی راہ پر گامزن کر دیا۔

38 ویں اوور کا آغاز ہوا تو آئرلینڈ کو فتح کے لیے 55 رنز درکار تھے اور اس کی 7 وکٹیں باقی تھیں۔ فتح کی مہک آئرش ٹیم کے نتھنوں کو محسوس ہو رہی تھی لیکن اپنا پہلا میچ کھیلنے والے آندرے رسل نے جیسے ہی اس اوور میں ایڈ جوائس کی وکٹ لی تو گویا ویسٹ انڈیز کے لیے مشکلات کا خاتمہ ہو گیا۔ جوائس نے 106 گیندوں پر 9 چوکوں کی مدد سے 84 رنز کی ذمہ دارانہ اننگ کھیلی لیکن بدقسمتی سے ان کے پویلین لوٹنے پر آئرلینڈ فتح کی راہ سے بھٹک گیا۔

تاہم ویسٹ انڈیز کے لیے معاملہ اس وقت بھی آسان نہ تھا۔ نصف سنجری بنانے والے ولسن اور انگلستان کے خلاف میچ کے ہیرو کیون اوبرائن کریز پر موجود تھے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ویسٹ انڈیز کو ایک وکٹ گرا کر اعتماد مل چکا تھا۔ جس کی بدولت 40 ویں اوور میں کپتان ڈیرن سیمی نے کیون اوبرائن کی قیمتی ترین وکٹ حاصل کی اور اپنے اگلے ہی اوور میں انہوں نے ولسن کو ایل بی ڈبلیو کر کے ویسٹ انڈیز کی فتح پر مہر ثبت کر دی۔ ان کا ایل بی ڈبلیو متنازع تھا اور اندازہ ہے کہ اس کے نتیجے میں امپائر کے فیصلے پر نظر ثانی کے نظام (یو ڈی آر ایس) پر ایک نئی بحث چھڑے گی۔ نظر ثانی کے باوجود امپائر اشوکا ڈی سلوا کا آؤٹ دینے کا فیصلہ نہیں بدلا گیا اور ولسن کو بوجھل قدموں کے ساتھ واپس لوٹنا پڑا۔ یہ میچ کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا کیونکہ اس وقت آئرلینڈ کا پلہ کسی حد تک بھاری تھا۔ ولسن نے 62 گیندوں پر ایک چھکے اور 6 چوکوں کی مدد سے 61 رنز بنائے۔ میچ کے بعد آئرش کپتان پورٹرفیلڈ نے اس فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔

دوسرے اینڈ سے سلیمان بین نے ایلکس کوساک کو اسٹمپڈ کروایا اور اگلے اوور میں سیمی کے ہاتھوں آندرے بوتھا رن آؤٹ ہو گئے۔ جان مونی کی صورت میں امید کی واحد موہوم سی کرن موجود تھی لیکن ٹورنامنٹ میں ویسٹ انڈیز کے سب سے کامیاب باؤلر کیمار روچ نے ان کو بولڈ کر کے میچ کو مکمل طور پر ویسٹ انڈیز کے حق میں پلٹ دیا۔ 49 ویں اوور کی آخری گیند پر ڈوکریل (19 رنز) کو بولڈ کر کے سلیمان بین نے اپنی چوتھی وکٹ حاصل کی۔ ویسٹ انڈین کپتان ڈیرن سیمی نے 3 جبکہ کیمار روچ اور پہلا ایک روزہ میچ کھیلنے والے آندرے بوتھا نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

یادگار اننگ کھیلنے پر کیرون پولارڈ کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا، جن کی اننگ نے میچ کا پانسہ پلٹا۔

گروپ 'بی' میں اب ویسٹ انڈیز چار میچز میں 6 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے جبکہ اس کے دو میچز ابھی باقی ہیں جن میں وہ مضبوط ٹیموں انگلستان اور بھارت کے مدمقابل ہوگا۔ جو بالترتیب 17 اور 20 مارچ کو چنئی میں کھیلے جائیں گے۔

انگلستان کو شکست دے کر اپ سیٹ کرنے والا آئرلینڈ ایک مرتبہ پھر فتح سے محروم رہا اور اب اسے اگلے میچ میں جنوبی افریقہ کا چیلنج درپیش ہے۔ دونوں ٹیمیں 15 مارچ کو ایڈن گارڈنز، کولکتہ میں مد مقابل ہوں گی۔ عالمی کپ کے اگلے مرحلے میں پہنچنے کی امیدوں کو برقرار رکھنے کے لیے اب آئرلینڈ کا اگلے دونوں میچز جیتنا ضروری ہے۔

میچ کی جھلکیاں
بشکریہ ای ایس پی این اسٹار

Facebook Comments