کرکٹ میں بدعنوانی اور آئی سی سی کا کردار

جوں جوں کرکٹ کا کھیل جدت کے مراحل طے کرتا جارہا ہے، ویسے ہی شائقین کی دلچسپی میں بھی دن دوگنا اور رات چوگنا اضافہ ہو رہا ہے۔ شائقین کی یہ دلچسپی ایک خوش آئند امر ضرور ہے لیکن کھیل میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور اس سے منسلک ممالک کے لئے درد سر بھی بنتی جارہی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ جہاں پیسے کی فراوانی ہو وہاں بد عنوانی کا عنصر خارج از امکان نہیں اور ایسا ہی کچھ معاملہ کرکٹ کے کھیل کو بھی درپیش ہے ۔ چند دہائی قبل سر اٹھانے والا میچ فکسنگ کا پودا اب ایک تناور درخت بن چکا ہے، اور اس کی شاخوں، مثلاً اسپاٹ فکسنگ، نے دھندے سے منسلک لوگوں کو پیسہ بنانے کی نئی راہیں سجھادی ہیں۔

ایڈ ہاکنز کی نئی کتاب میں اٹھائی گئی آواز پر آئی سی سی کو ضرور کان دھرنے چاہئیں

ایڈ ہاکنز کی نئی کتاب میں اٹھائی گئی آواز پر آئی سی سی کو ضرور کان دھرنے چاہئیں

کرکٹ کے کرتا دھرتا ادارے آئی سی سی نے بھی اس صورتحال کو محسوس کرتے ہوئے 12 برس قبل انسداد بدعنوانی کے ادارے اینٹی کرپشن اینڈ سیکورٹی یونٹ (ACSU) کی بنیاد رکھی، لیکن یہ ادارہ اب تک ایک عضوِ معطل ہی دکھائی دیا ہے۔ اس کی غیر متاثر کن کارکردگی کی کئی وجوہات ہیں جس کی تفصیل میں جانے سے قبل کرکٹ کے پھیلاؤ پر بات کی جائے تو بہتر ہوگا، کیونکہ کسی حد تک کھیل میں فکسنگ کا گند گھلنے کی یہ بھی اہم وجہ ہے۔

پہلے ٹیسٹ ، پھر ایک روزہ اور اس کے بعد ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی سرحدوں سے نکل کر کرکٹ کا کھیل اب مہنگی اور پرکشش لیگز میں داخل ہو چکا ہے جو پیسہ بنانے کا ایک اچھا ذریعہ ہیں۔ 70ء کی دہائی میں آسٹریلیا کی ایک معروف کاروباری شخصیت کیری پیکر نے ایک کرکٹ لیگ کا آغاز کیا تو اس وقت کے کرکٹ پنڈتوں نے اس کی شدید مخالفت کی تھی اور اسے کرکٹ کے لئے خطرہ قرار دیا تھا۔ لیکن وقت گزرتا گیا اور ، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی ترجیحات بھی بدلیں، اور اب ہر ملک اپنی لیگ منعقد کروانے کے لئے کوشاں ہے، اور اس کے پھیلاؤ اور وسعت کے باعث آئی سی سی کے لیے تن تنہا تمام معاملات پر نظررکھنا کسی طور ممکن نہیں۔ اس پھیلاؤ سے ہونے والے بگاڑ کا ثبوت بھارت میں ہونے والی انڈین پریمیئر لیگ اور اس کے بعد بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں سامنے آنے والی بے قابدگیاں ہیں۔ انکشافات ضرور ہوئے، تحقیقات کے ڈھنڈورے بھی پیٹے گئے لیکن نتائج صفر۔

آئی سی سی اگر اس طرز کی لیگز کے پھیلاؤ کو روک نہیں سکتی، یا روکنا نہیں چاہتی، تو اس میں بے قاعدگیوں کی روک تھام کے لئے متعلقہ بورڈ پر کڑی شرائط عائد کی جانی چاہیںن۔ کسی لیگ میں سامنے آنے والی بے قاعدگی کے بعد متعلقہ بورڈ کو اس بات کاذمہ دار ٹھہراتے ہوئے تادیبی کارروائی کی جانی چاہئے۔ یہاں تک کہ اس بورڈ سے لیگ کے انعقاد کا پروانہ واپس لینے جیسا انتہائی قدم تک اٹھایا جائے۔

پھیلاؤ کے علاوہ اس کھیل کو کرپشن سے پاک کرنے کے ذمہ دار اداروں کی کارگزاری بھی مسائل کے سر اٹھانے کی ایک اہم وجہ ہے۔ آئی سی سی نے 2000ء میں اینٹی کرپشن اینڈ سیکورٹی یونٹ قائم کیا جس کے بعد یہ توقع کی جارہی تھی کی صورتحال بہتری کی جانب گامزن ہوگی لیکن ایسا کچھ نہ ہوا، جس کی سب سے بڑی وجہ اس یونٹ میں کی گئی تعیناتی ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے اس ادارے میں ایسے سابق پولیس افسران کا تقرر کیا گیا جو کرکٹ کے کھیل سے مکمل طور پر نابلد ہیں اور یہی امر فکسنگ کے سدباب میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ عہدیداران اپنے شعبے کے ماہر ہونے کے باوجود کھیل کے میدان پر کسی کھلاڑی کی مشکوک حرکت کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ اس امر کی نشاندہی کے لئے آئی سی سی کو بہرحال کرکٹ سے منسلک سابق کھلاڑیوں کی خدمات حاصل کرنا ہوں گی ۔

12 سال سے قائم اس ادارے نے اب تک جو بھی اقدامات اٹھائے، وہ کسی نہ کسی اخبار یا ٹیلی وژن کی جانب سے کئے گئے خفیہ آپریشن کا نتیجہ تھے۔ علاوہ ازیں سابق جنوبی افریقی کپتان ہنسی کرونئے اور دیگر کھلاڑیوں پر لگنے والے الزامات بھی بھارتی پولیس کی جانب سے کارروائی کے بعد سامنے آئے تھے۔ تو آئی سی سی کے اس ادارے کا کیا مقصد رہ جاتا ہے؟ اس کی کارروائی اور طریقہ کار کو اس قدر خفیہ کیوں رکھا جاتا ہے؟ کیا اس ادارے کا کام فقط کھلاڑیوں کو میچ فکسنگ سے آگاہی اور بچاؤ کے طریقہ کار پر مبنی مواد اور کسی مشکوک حرکت کے مرتکب فرد کی نشاندہی کے لئے ٹیلیفون نمبرز کی فراہمی ہے؟ کیا ایسا کرنے سے گذشتہ 12 سالوں میں بدعنوانی کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے؟ بالکل نہیں! اور اس کی سب سے بڑی وجہ اینٹی کرپشن یونٹ میں کرکٹ کے کھیل سے بے خبر افراد کی موجودگی ہے۔

کرپشن کے پودے کو نہ اکھاڑ پانے کا سب سے بڑا سبب اینٹی کرپشن یونٹ میں کھیل سے نابلد افسران کی تقرری ہے (تصویر: ICC)

کرپشن کے پودے کو نہ اکھاڑ پانے کا سب سے بڑا سبب اینٹی کرپشن یونٹ میں کھیل سے نابلد افسران کی تقرری ہے (تصویر: ICC)

دو سال قبل کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا اسکینڈل سامنے آیا، جس کے بعد پاکستان کے سلمان بٹ، محمد آصف او ر محمد عامر پر طویل پابندیاں عائد کی گئی ں۔کیا اس کا بھانڈا پھوڑنا ذمہ دار ادارے کا کام تھا؟ نہیں، اس کا تمام تر سہرا برطانوی اخبار نیوز آف دی ورلڈ کے سر جاتا ہے۔ لیکن اس سبکی کے باوجود آئی سی سی حکام کرپشن کے خلاف اپنی سخت پالیسی کا راگ الاپتے نہیں تھکتے۔

سوال یہ ہے کہ اس عفریت سے چھٹکارے پانے کے لئے کیا کیا جائے؟ جواب بہت سادہ اور آسان ہے ، جسے بہتر طور پر سمجھنے کے لئے درج ذیل مثالوں پر غور کی درخواست ہے۔

عالمی کپ 2011ء میں آسٹریلیا اور زمبابوے کے مابین کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے پہلے کھیلتے ہوئے 262 رنز بنائے، تاہم اننگز کے ابتدائی دس اوورز ، جہاں پاور پلے کا بھی اطلاق ہوتا ہے، خاص طور پر توجہ طلب ہیں۔ ان دس اوورز میں مایہ ناز آسٹریلوی بلے باز، شین واٹسن اور بریڈ ہیڈن، محض 28 رنز جوڑ پائے۔ یعنی نسبتاً کمزور باؤلنگ اور صرف دو فیلڈرز کی دائرے سے باہر موجودگی کے باوجود دفاعی چیمپئن کے عمدہ بلے باز صرف 2.8 رنز فی اوور کی اوسط سے رن بٹورنے میں کامیاب ہو سکے۔

ذرا مزید پیچھے چل کر 2003ء میں منعقدہ عالمی کپ کے دوران ہونے والے بھارت-آسٹریلیا کے معرکے پر نظر ڈالیں۔ بھارتی ٹیم پہلے بلے بازی کرتے ہوئے ساتویں اوور تک 40 رنز بناچکی تھی، لیکن اس کے بعد بلے بازوں کی انتہائی سُست رفتاری کے باعث اگلے دس اوورز میں صرف 10 رنز ہی بن سکے۔ مذکورہ دس اوورز میں بھارتی بیٹسمین 4 میڈن اوورز بھی کھیل گئے۔ یاد رہے کہ اس وقت دائرے سے باہر دو فیلڈرز کی تعیناتی کا قانون ابتدائی 15 اوورز کے دوران لاگو ہوتا تھا۔

مزید آگے بڑھنے سے قبل اس سلسلے میں ایک اور مثال آپ کے سامنے رکھنا چاہوں گا تاکہ میرا موقف واضح ہوسکے ۔ 2003ء ہی کے عالمی کپ کے سپر سکس مرحلے میں بھارت اور سری لنکا کے مابین 10 مارچ کو کھیلا گیا میچ بھی توجہ طلب ہے۔ وریندر سہواگ اور سچن تنڈولکر بھارتی بیٹنگ کا آغاز کرتے ہوئے اپنی ٹیم کا اسکور 12 اوورز میں 80 رنز تک لے گئے۔ یہاں بھی ابتدائی 15 اوورز میں دو فیلڈرز ہی دائرے سے باہر ہیں اور دونوں ہی بلے باز خاصے پراعتماد ہیں تاہم اگلے تین میں سے دو اوورز بغیر کوئی رن بنے گزر گئے او ر بھارتی ٹیم 15 اوورز کے اختتام تک 84 رنز تک پہنچ پائی، یعنی تین اوور زمیں صرف چار رنز بنائے گئے۔

مندرجہ بالا میچز کا احوال قطعی طور پر ان مقابلوں میں کسی قسم کی فکسنگ کی سند نہیں، مگر مثالوں کامقصد صرف اس امر کی جانب اشارہ دلانا ہے ، جو اوپر بیان کیا جاچکا ہے۔ کیا اینٹی کرپشن یونٹ میں موجود سابق سراغ رساں اداروں سے منسلک افراد کے لئے ان امور کی نشاندہی ممکن ہے؟ یقیناً نہیں، مندرجہ بالا تمام مثالیں اینٹی کرپشن اینڈ سیکیورٹی یونٹ کے قیام کے بعد کی ہیں۔

مسئلے کی نشاندہی کے بعد اس کے حل کی جانب بڑھنے سے قبل ایک اور جانب اشارہ ضروری ہے۔ آئی سی سی نے ہمیشہ اس بات کا پرچار کیا ہے کہ کرکٹ کے کھیل میں ہونے والی بدعنوانی سے ادارے کو آگاہ کیا جائے مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ جب جب کسی سابق کھلاڑی کی جانب سے آئی سی سی کی توجہ اس طرف مبذول کروائی گئی اس کا نتیجہ ڈھاک کے تین پات ہی نکلا۔ میچ فکسنگ کے خلاف اپنے اقدامات کے باعث شہرت رکھنے والے سابق پاکستانی کپتان راشد لطیف نے 2003ء میں ایک خط کے ذریعے آئی سی سی کو انسداد بدعنوانی کا مربوط نظام تشکیل دینے کے حوالے سے تجاویز دیں، اس کے علاوہ سابق فاسٹ باؤلر سرفراز نواز بھی گذشتہ دہائی کے اوائل میں اینٹی کرپشن حکام سے ملاقات کرچکے ہیں جو بے سود ہی رہیں۔ ان اقدامات سے کھلاڑی کیوں کر مستقبل میں آئی سی سی سے تعاون کی راہ اختیار کریں گے؟

کرکٹرز سے قطع نظر اگر کھیل سے جڑا کوئی بھی فرد میچ فکسنگ کے حوالے سے کچھ کہے تو انسداد بدعنوانی کے لئے قولاً سخت موقف رکھنے والی آئی سی سی کو اسے یکسر مسترد کردیتی ہے۔ حال ہی میں برطانوی صحافی ایڈ ہاکنز نے ورلڈ کپ 2011 کے میچز پر شکوک کے علاوہ بھارت میں موجود سٹے بازی کے انتہائی منظم نیٹ ور ک کی جانب بھی توجہ مبذول کروائی ہے، مگر آئی سی سی کا ان باتوں کو یکسر مسترد کرنا درست عمل نہیں۔ اس سے قبل بھی ایک مایہ ناز بھارتی کھلاڑی ونود کامبلی نے بھی عالمی کپ 1996ء کے سیمی فائنل پر شکوک کا اظہار کیا تھا مگر انہیں چپ کرادیا گیا اور کہانی ختم۔

آئی پی ایل کے بعد بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں ایک مبینہ سٹے باز کے کھلاڑیوں سے روابط کا راز فاش ہوا لیکن اس کے بعد خفیہ انکوائری اور ”سب اچھا ہے“ کا راگ ہی سننے کو ملا۔

ایڈ ہاکنز کا شمار مایہ ناز صحافیوں میں ہوتا ہے، جنہیں ان کی خدمات کے صلے میں ایوارڈ سے بھی نوازا جاچکا ہے، کی جانب سے بھارت میں سٹے بازی کے گڑھ اور کرکٹرز کے ساتھ اس مارکیٹ کے سٹے بازوں کے روابط پر آئی سی سی کو ضرور کان دھرنے چاہئیں۔ آئی سی سی کی معلومات میں اضافے کے لئے اس حقیقت کا بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ تاحال فکسنگ کے باعث سزا پانے والے 22 کھلاڑیوں میں سے 9 کا تعلق بھارت سے ہے۔ اس کے علاوہ دیگرکھلاڑیوں کی اکثریت کے جرم کی کہانی بھی بھارت میں موجود سٹے بازی کی مارکیٹ سے ملتی ہے۔ برطانوی مصنف ایڈ ہاکنز نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اپنی کتاب کے لئے کی گئی تحقیق کے دوران حاصل کردہ تمام معلومات آئی سی سی کے اینٹی کرپشن اینڈ سیکورٹی یونٹ کو بھی ارسال کرچکے ہیں، لہذا چھان بین سے قبل آئی سی سی کی جانب سے اس معاملے کو یکسر نظر انداز کرنے کا آخر کیا جواز ہے؟

کرکٹ کے کھیل میں بدعنوانی روکنے کے لئے اس کھیل میں پیسے کی ریل پیل اور خود رو جھاڑیوں کی مانند پھیلتا ہوا پریمیئر لیگ کلچر ختم کرنا تو کسی طور ممکن دکھائی نہیں دیتا ، لیکن غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے اینٹی کرپشن یونٹ کو اہل و کھیل سے واقف افراد کے ہاتھوں میں دینا ہوگا۔ کیونکہ کھیل میں ہونے والےاتار چڑھاؤ سے وہی اچھے طریقے سے واقف ہو سکتا ہے جو اس کھیل سے گہرا تعلق رکھتا ہو، مختصر یہ کہ جس کا کام اسی کا ساجھے۔

Facebook Comments