[آج کا دن] پاکستان کے عظیم ترین کھلاڑی کا یوم پیدائش

اگر پوچھا جائے کہ پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں سے صرف ایک کھلاڑی کو عظمت کے درجے پر فائز کریں تو میرے خیال میں 100 فیصد ووٹ عمران خان کے حق میں جائیں گے۔ وہ کپتان تقریباً دو دہائیوں تک شائقین کرکٹ کے دلوں کی دھڑکن بنا رہا، اس حالت میں کرکٹ کو خیربادکہا کہ ایک ہاتھ میں عالمی کپ تھا اور دوسرے میں ملک کے عوام کے لیے اک ایسے ہسپتال کا تحفہ جہاں سرطان کے مریضوں کا علاج کیا جاتا تھا۔

عمران خان کی کرشماتی شخصیت نے ہی پاکستان میں کرکٹ کو ایک عوامی کھیل بنایا (تصویر: PA Photos)

عمران خان کی کرشماتی شخصیت نے ہی پاکستان میں کرکٹ کو ایک عوامی کھیل بنایا (تصویر: PA Photos)

وہ 40 سالہ عمران خان کی زیر قیادت ٹیم ہی تھی جس نے عالمی کپ 1992ء کے ابتدائی مرحلے میں پے در پے شکستیں کھانے کے بعد، اس وقت خاک تلے سے سر اٹھایا، جب وہ ٹورنامنٹ سے تقریباً باہر ہو چکی تھی۔ عمران کے ’دیوار سے لگے شیروں‘ نے ایسا جوابی حملہ کیا کہ پھر کوئی ان کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکا۔

یہ کہنے میں کوئی مبالغہ نہیں کہ عمران خان کی کرشماتی شخصیت ہی تھی جس نے پاکستان میں کرکٹ کو طبقہ اشرافیہ کے کھیل سے نکال کر ایک عوامی کھیل بنایا۔ وہ پاکستان کرکٹ کی پہلی شخصیت تھے جو ایک مقبول عام ہوئے۔ ان سے قبل کھلاڑی صرف کرکٹ میں دلچسپی رکھنے والے افراد ہی میں مقبول ہوتے تھے لیکن عمران گھر، گھر مقبول نام بنے، چاہے کوئی کھیل کو پسند کرتا ہو یا نہ کرتا ہو، دیکھتا ہو یا نہ دیکھتا ہو لیکن عمران کو ضرور جانتا تھا۔

ان کا دلکش رن اَپ اور گیند پھینکنے سے قبل جست کے ساتھ لاکھوں بلکہ کروڑوں دل دھڑکتے تھے۔ پھر ان کی اندر آتی گیند جب بڑے بڑے بلے بازوں کی وکٹیں اڑا لے جاتی تو گویا پاکستانی شائقین جھوم اٹھتے۔ اپنے وقت کے بڑے بڑے بلے بازوں کو انہوں نے ریورس سوئنگ گیندوں پردھول چاٹنے پر مجبور کیا۔

گو کہ آپ کے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز 1971ء میں انگلستان کے خلاف ہوا لیکن یہ آکسفرڈ سے گریجویشن کی تکمیل کے بعد 1976ء میں وطن واپسی تھی جس نے آپ کو قومی کرکٹ ٹیم میں مستقل مقام عطا کیا۔ یہاں تک کہ 80ء کی دہائی کے اوائل میں آپ اپنے عروج پر پہنچ گئے۔ خصوصاً 1982ء عمران کے کیریئر کا کامیاب ترین سال تھا، جب آپ کو قیادت بھی سونپی گئی۔ بحیثیت قائد دوسرے ہی ٹیسٹ میں آپ نے لارڈز کے میدان میں پاکستان کی تاریخی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ 28 سال کے طویل عرصے بعد انگلش سرزمین پر پاکستان کی پہلی جیت تھی۔ آپ نے مذکورہ سال محض 9 ٹیسٹ مقابلوں میں 13.29 کے شانداو اوسط سے 62 وکٹیں حاصل کیں۔ یہ ایک سال میں کم از کم 50 ٹیسٹ وکٹیں حاصل کرنے والے باؤلرز کے لیے بہترین اوسط کا عالمی ریکارڈ ہے۔ اسی سال آپ نے بھارت کے دورۂ پاکستان کے دوران 6 ٹیسٹ میچز میں 40 وکٹیں حاصل کیں۔ جس میں کراچی اور فیصل آباد کے ٹیسٹ مقابلوں میں 11، 11 وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ بھی شامل ہے۔

بحیثیت کپتان عمران خان نے 48 ٹیسٹ مقابلے کھیلے، 14 میں ٹیم فتح سے ہمکنار ہوئی، 8 ہارے جبکہ بقیہ 26 بغیر کسی نتیجے تک پہنچے ختم ہوئے۔ ایک روزہ مقابلوں میں 139 میچز میں قیادت کی، 77 جیتے اور 57 ہارے جبکہ ایک برابری کی سطح پر ختم ہوا۔

آپ آل راؤنڈرز ٹرپل کے بھی حامل تھے یعنی ٹیسٹ میں 3 ہزار رنز اور 300 وکٹیں حاصل کرنے والے کھلاڑی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو ویسٹ انڈیز کے عظیم کھلاڑی سر گیری سوبرز کے بعد دوسرا سب سے بڑا آل راؤنڈر تسلیم کیا جاتا ہے۔

عمران خان کا تقابل، چند عظیم آل راؤنڈرز سے

کھلاڑی ملک ٹیسٹ مقابلے رنز اوسط سنچریاں وکٹیں اوسط پانچ وکٹیں فی اننگز
گیری سوبرز ویسٹ انڈیز 93 8032 57.78 26 235 34.03 6
عمران خان پاکستان 88 3807 37.69 6 362 22.81 23
این بوتھم انگلستان 102 5200 33.54 14 383 28.40 27
رچرڈ ہیڈلی نیوزی لینڈ 86 3124 27.16 2 431 22.29 36
کپل دیو بھارت 131 5248 31.05 8 434 29.64 23

1987ء میں عمران خان ہی کی زیر قیادت پاکستان نے بھارت اور انگلستان کی سرزمین پر اپنی پہلی ٹیسٹ سیریز جیتیں جبکہ ویسٹ انڈیز، جو اس وقت کالی آندھی کہلاتا تھا، کے خلاف تاریخی فتح بھی حاصل کی۔

لیکن 1987ء کے عالمی کپ سے قومی ٹیم کےمایوس کن انداز میں اخراج نے آپ کو دلبرداشتہ کر دیا اور آپ کو دنیائے کرکٹ کو خیربادکہہ گئے لیکن عوامی اصرار اور پھر صدر مملکت ضیاء الحق کے باضابطہ مطالبے پر ایک مرتبہ پھر باگ ڈور سنبھالی اور چند یادگار فتوحات کے بعد بالآخر اگلے عالمی کپ میں پاکستان کو چیمپئن بنا دیا۔

اب ایک نظر انفرادی اعداد و شمار پر، عمران خان نے 88 ٹیسٹ اور 175 ایک روزہ مقابلوں میں ملک کی نمائندگی کی اور گیند کے ساتھ ساتھ بلے سے بھی اپنی کارکردگی کا جادو جگایا۔ ٹیسٹ میں آپ نے 37.69 کے شانداراوسط سے 3807 رنز بنائے جبکہ ایک روزہ میں آپ کا اوسط 33.41 تھا اور رنز کی تعداد 3709۔ ٹیسٹ میں آپ نے 6 اور ایک روزہ میں ایک سنچری بنائی جبکہ بالترتیب دونوں طرز میں آپ نے 18 اور 19 مرتبہ نصف سنچریاں بھی بنائیں۔

باؤلنگ میں عمران خان نے ٹیسٹ میں صرف 22.81 کے اوسط سے 362 وکٹیں حاصل کیں جن میں 23 مرتبہ اننگز میں پانچ یا زائد وکٹیں اور 6 مرتبہ میچ میں 10 یا زائد وکٹیں حاصل کرنے کے کارنامے شامل ہیں۔ ایک روزہ میں بھی آپ اتنے ہی کارآمد باؤلر تھے۔ 26.61 کے عمدہ اوسط سے آپ نے کیریئر میں 182 وکٹیں حاصل کیں اور ایک مرتبہ 5 یا زائد وکٹیں حاصل کیں۔

عمران خان کا ٹیسٹ کیریئر بلحاظ ادوار

دور ٹیسٹ مقابلے رنز اوسط سنچریاں/نصف سنچریاں وکٹیں اوسط 5 وکٹ/10 وکٹ
دسمبر 1979ء تک 25 832 22.48 0/1 98 31.88 5/1
جنوری 1980ء تا دسمبر 1988ء 48 2028 39.76 4/10 236 17.77 18/5
جنوری 1989ء سے آخر تک 15 947 72.84 2/7 28 33.53 0/0
مجموعہ 88 3807 37.69 6/18 362 22.81 23/6

عمران خان کا ایک روزہ کیریئر بلحاظ ادوار

دور ایک روزہ مقابلے رنز اوسط اسٹرائیک ریٹ وکٹیں اوسط اکانومی ریٹ
دسمبر 1980ء تک 14 108 15.42 59.34 16 25.93 3.32
جنوری 1981ء سے دسمبر 1989ء تک 122 2651 33.98 75.67 142 22.96 3.90
جنوری 1990ء سے آخر تک 39 950 36.53 66.90 24 48.66 4.12
مجموعہ 175 3709 33.41 72.65 182 26.61 3.89
عمران خان نے عالمی کپ 1992ء جیت کر دنیائے کرکٹ کو خیر باد کہا (تصویر: PA Photos)

عمران خان نے عالمی کپ 1992ء جیت کر دنیائے کرکٹ کو خیر باد کہا (تصویر: PA Photos)

عمران خان کو بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے جولائی 2010ء میں ’کرکٹ ہال آف فیم‘ میں شامل کیا۔

کرکٹ چھوڑنے کے عرصہ بعد آپ نے قومی سیاست میں قدم رکھا اور پاکستان تحریک انصاف کے نام سے ایک جماعت بنائی جس کی جانب سے آپ 2002ء کے انتخابات میں اپنے آبائی حلقے میانوالی سے قومی اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے۔

اب عمران خان کا مقصد ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ اور بلاتفریق انصاف کی فراہمی ہے اور اس کے لیے ان کی نظریں آئندہ انتخابات پر مرکوز ہیں۔

سیاست کے میدان میں عمران خان کامیاب ہوں یا نہ ہوں، لیکن کرکٹ میں ان جیسا کھلاڑی شاید ہی دوبارہ سرزمینِ پاک پر جنم لے سکے۔

Facebook Comments