سیموئلز کی ذمہ داری، ویسٹ انڈیز نے تیسرا ایک روزہ جیت لیا

ایسے حالات میں کہ ویسٹ انڈیز کو بنگلہ دیش جیسے حریف کے خلاف سیریز شکست کا سامنا تھا، مارلون سیموئلز کی عمدہ سنچری اور اسپنرز کی بہترین باؤلنگ ’کالی آندھی‘ کو ایک مرتبہ پھر سیریز میں واپس لے آئی۔ کھلنا میں کھیلے گئے اولین دونوں میچز میں بدترین شکست کے بعد بنگلہ دیش کو ڈھاکہ پہنچتے ہی سیریز اپنے نام کرنے کی ضرورت تھی لیکن بلے بازوں کی ناکامی نے انہیں فیصلہ کن برتری حاصل نہ کرنے دی۔

دوسری وکٹ پر سیموئلز اور پاول کی 111 رنز کی رفاقت نے ویسٹ انڈین فتح کی بنیاد رکھی (تصویر: AP)

دوسری وکٹ پر سیموئلز اور پاول کی 111 رنز کی رفاقت نے ویسٹ انڈین فتح کی بنیاد رکھی (تصویر: AP)

شیر بنگلہ نیشنل اسٹیڈیم میں تیسرے ایک روزہ مقابلے کا ٹاس ویسٹ انڈیز نے جیتا اور بنگلہ دیش کو کھیلنے کے لیے مدعو کیا جو حریف اسپنرز کی عمدہ گیند بازی کے سامنے جم کر نہ کھیل سکا اور بمشکل 227 رنز بنا پایا۔ اگر چھٹی وکٹ پر کپتان مشفق الرحیم اور محمود اللہ کے درمیان 58 رنز کی رفاقت قائم نہ ہوتی توبنگلہ دیش کے لیے 200 کا ہندسہ عبور کرنا بھی ناممکن تھا۔ جب مشفق 38 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو بنگلہ دیش 36 ویں اوور میں محض 168 پر اپنی چھ وکٹیں گنوا چکا تھا۔

ان حالات میں محمود اللہ نے بہت اچھی اننگز کھیلی اور 70 گیندوں پر 52 رنز بنا کر اک ایسے ہدف تک پہنچنے کے ممکن بنایا، جو ساتھی گیند بازوں کی حالیہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے دفاع کے قابل دکھائی دیتا تھا۔

ویسٹ انڈیز کی جانب سے سنیل نرائن نے 37 رنز دے کر 4 جبکہ ویراسیمی پرمال نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔ ایک، ایک وکٹ کرس گیل اور ڈیوین اسمتھ کو بھی ملی۔

228 رنز کا ہدف گو کہ آسان لگتا ہے، لیکن اولین دونوں مقابلوں میں بلے بازوں کی بدترین ناکامی کے باعث ویسٹ انڈیز کو بہت سنبھل کر کھیلنےکی ضرورت تھی اور اس حالت میں اور بھی زیادہ کہ محض 15 رنز پر وہ کرس گیل جیسے بلے باز سے محروم ہو گئی تھی۔ لیکن اس مرحلے پر مارلون سیموئلز کی ٹھنڈے مزاج سے کھیلی گئی سنچری اننگز نے فیصلہ کن کردار ادا کیا جنہوں نے نہ صرف کیرن پاول کے ساتھ دوسری وکٹ پر 111 رنز کی رفاقت قائم کر کے فتح کی بنیاد رکھی بلکہ خود 140 گیندوں پر سنچری مکمل کر کے فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ وہ رفاقت تھی، جس کی ویسٹ انڈیز کو پوری سیریز میں سخت ضروری تھی اور اولین دونوں میچز میں شکست کا بنیادی سبب ہی یہی تھاکہ بلے باز کوئی شراکت داری قائم نہیں کر پائے تھے۔

تیسری وکٹ کی رفاقت کے خاتمے کے بعد اک مرحلہ ایسا ضرور آیا جب مقابلہ مشکل مرحلے میں پھنس گیا کیونکہ ویسٹ انڈیز پاول کے جانے کے بعد محض 56 رنز کے اضافے سے مزید تین قیمتی وکٹیں گنوا بیٹھا تھا۔ ڈیرن براوو 13، ڈیوین اسمتھ 4 اور کیرون پولارڈمحض ایک رن بناکر پویلین لوٹے تو سیموئلز کے کاندھوں پر ذمہ داری کا بوجھ مزید بڑھ گیا۔ جسے اتارتے اتارتے وہ خود بھی میدان سے واپس آ گئے، لیکن منزل پر پہنچا کر ۔

جب سیموئلز 149 گیندوں پر 126 رنز کی شاندار بیٹنگ کے بعد مشرفی مرتضیٰ کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے تو ویسٹ انڈیز کو فتح کے لیے صرف 6 رنز کی ضرورت تھی، جو اس نے با آسانی حاصل کر لیے اور 4 وکٹوں سے مقابلہ جیت لیا۔

بنگلہ دیش کی جانب سے مشرفی مرتضیٰ اور عبد الرزاق کو دو، دو جبکہ محمود اللہ اور نعیم اسلام کو ایک، ایک وکٹ ملی۔ گزشتہ مقابلوں میں ویسٹ انڈین بلے بازوں کو پریشانی سے دوچار کرنے والے نوجوان سہاگ غازی اس مرتبہ کوئی وکٹ حاصل نہ کر پائے۔

اس فتح کے ساتھ ہی سیریز میں ویسٹ انڈیز کا خسارہ کم ہو کر 2-1 ہو گیا ہے، اور اسے بنگلہ دیش کو تاریخی فتح حاصل کرنے سے روکنے کےلیے اسی میدان پر ہونے والے اگلے دونوں مقابلے بھی جیتنے ہوں گے۔ یہ دونوں مقابلے 7 اور 8 دسمبر کو شیر بنگلہ اسٹیڈیم ہی میں ہوں گے۔

Facebook Comments