[آج کا دن] میانداد کا ’سو پہ سو‘

سو ٹیسٹ میچز کھیلنا بذات خود کسی بھی کھلاڑی کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے اور اب تک صرف 54 کھلاڑی ایسے ہیں جنہیں اپنے ٹیسٹ مقابلوں کی تعداد کو تہرے ہندسے میں لے جانے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ انہی میں پاکستان کے عظیم بیٹسمین جاوید میانداد بھی شامل ہیں، جنہیں وطن عزیز کی طرف سے سب سے زیادہ یعنی 124 ٹیسٹ میچز کھیلنے کا اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے اپنا 100 واں ٹیسٹ 1989ء میں انہی ایام میں بھارت کے خلاف کھیلا تھا جہاں انہوں نے کھیلی گئی واحد اننگز میں سنچری بنا کر اپنا نام تاریخ کے ان بلے بازوں میں لکھوایا جنہیں اپنے کیریئر کے 100 ویں میچ میں سنچری بنائی۔

جاوید میانداد نے 100 ویں ٹیسٹ میں بھارت کے خلاف سنچری بنا کر اپنا نام ریکارڈ بک میں لکھوایا (تصویر: Getty Images)

جاوید میانداد نے 100 ویں ٹیسٹ میں بھارت کے خلاف سنچری بنا کر اپنا نام ریکارڈ بک میں لکھوایا (تصویر: Getty Images)

لاہور کے تاریخی قذافی اسٹیڈیم میں ہونے والے پاک-بھارت سیریز کے تیسرے ٹیسٹ میں آج ہی کے دن یعنی 6 دسمبر کو میانداد نے سنچری بنائی اور اس اعزاز کو حاصل کرنے والے تاریخ کے دوسرے بلے باز بن گئے۔

ان سے قبل یہ انوکھا سنگ میل انگلستان کے معروف کپتان کولن کاؤڈرے نے عبور کیا تھا جنہوں نے جولائی 1968ء میں آسٹریلیا کے خلاف ایجبسٹن ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 104 رنز بنائے تھے۔انگلستان کے اس عظیم کپتان نے ایشیز 1968ء کے اس تیسرے ٹیسٹ میں 247 گیندوں سے مذکورہ اننگز تراشی تھی۔ اگلے 21 سال تک ’100 ویں ٹیسٹ میں سنچری‘ بنانے والے وہ واحد کھلاڑی تھے یہاں تک کہ جاوید میانداد نے انہیں جا لیا۔

دسمبر کے انہی ایام میں 1989ء میں بھارتی ٹیم پاکستان کے دورے پر تھی اور سیریز کے کراچی اور فیصل آباد میں کھیلے گئے اولین دونوں ٹیسٹ میچز بے نتیجہ ختم ہوئے تھے۔ دونوں ٹیمیں یکم دسمبر سے لاہور میں تیسرے ٹیسٹ کےلیے ایک مرتبہ پھر آمنے سامنے آئیں۔ اس ٹیسٹ میچ کی خاص بات یہ تھی کہ یہ جاوید میانداد کے ٹیسٹ کیریئر کا 100 واں مقابلہ تھا۔بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا اور ابتدائی نقصانات کے باوجود رنز کے انبار لگادیے جس میں مرکزی کردار سنجے مانجریکر کی شاندار ڈبل سنچری کا تھا۔ پاکستان نے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا اور جاوید میانداد کی شاندار سنچری اور شعیب محمد کی ناقابل شکست ڈبل سنچری کی بدولت مقابلہ بے نتیجہ ختم ہوا۔ جاوید میانداد نے 365 منٹ تک کریز پر قیام کیا اور 289 گیندوں پر 10 چوکوں کی مدد سے 145 رنز بنائے اور یوں 100 ویں ٹیسٹ میں سنچری بنانے والے دوسرے بلے باز بن گئے۔

جاوید میانداد کے علاوہ اس سنگ میل کو عبور کرنے والے واحد پاکستانی کھلاڑی انضمام الحق ہیں جنہوں نے مارچ 2005ء میں بھارت کے خلاف بنگلور میں وہ تاریخی سنچری اسکور کی تھی جس کی بدولت پاکستان نے ٹیسٹ میچ جیتا تھا۔ انضمام الحق نے 184 رنز بنائے جو سوویں ٹیسٹ میں کسی بھی بلے باز کی سب سے طویل اننگز کا نیا ریکارڈ ہے۔

اس ریکارڈ کے بارے میں کرک نامہ پہلے اک تفصیلی تحریر پیش کر چکا ہے، جو یہاں دیکھی جا سکتی ہے، اس تحریر میں تمام 7 بلے بازوں کی اننگز کا احوال بھی موجود ہے۔

قارئین کی دلچسپی کے لیے اس انوکھے ریکارڈ کو عبور کرنے والے کھلاڑیوں کی فہرست نیچے پیش کی جا رہی ہے۔

کیریئر کے 100 ویں ٹیسٹ میں سنچریاں بنانے والے بلے باز

کھلاڑی رنز ملک بمقابلہ مقام تاریخ
کولن کاؤڈرے 104 انگلستان آسٹریلیا برمنگھم 1968ء جولائی
جاوید میانداد 145 پاکستان بھارت لاہور 1989ء دسمبر
گورڈن گرینج 149 ویسٹ انڈیز انگلستان سینٹ جانز 1990ء اپریل
ایلک اسٹیورٹ 105 انگلستان ویسٹ انڈیز مانچسٹر 2000ء اگست
انضمام الحق 184 پاکستان بھارت بنگلور 2005ء مارچ
رکی پونٹنگ 120 آسٹریلیا جنوبی افریقہ سڈنی 2006ء جنوری
رکی پونٹنگ 143* آسٹریلیا جنوبی افریقہ سڈنی 2006ء جنوری
گریم اسمتھ 131 جنوبی افریقہ انگلستان اوول، لندن 2012ء جولائی

Facebook Comments