بھارتی ہوٹل انتظامیہ کی صریح غفلت، پاکستانی نابینا کھلاڑی ہسپتال داخل

بھارت میں جاری بصارت سے محروم کھلاڑیوں کے ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ میں میزبان کو اس وقت سخت پشیمانی و خفت کا سامنا کرنا پڑا جب ہوٹل عملے کی صریح غفلت و بے پروائی کی وجہ سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان ذیشان عباسی فنائل پی بیٹھے۔

ہوٹل کے ایک ملازم نے اسی میز پر فنائل سے بھری بوتل رکھ دی جہاں پانی کی بوتلیں رکھی جاتی تھیں

ہوٹل کے ایک ملازم نے اسی میز پر فنائل سے بھری بوتل رکھ دی جہاں پانی کی بوتلیں رکھی جاتی تھیں

پہلے بلائنڈ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے بنگلور میں موجود قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان کو اس وقت فوری طور پر ہسپتال لے جانا پڑا جب ناشتے کے دوران پانی کے لیے مختص میز پر ہوٹل عملے کا ایک رکن فنائل سے بھری بوتل رکھ گیا، جسے بصارت سے محروم ذیشان عباسی پانی سمجھ کر پینے لگے اور ایک دو گھونٹ میں ہی انہیں اندازہ ہو گیا اور انہیں نے اسی وقت سارا مواد اگل دیا۔ انہیں فوری طور پر ایم ایس رامائیا ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی حالت کو خطرے سے باہر قرار دیا اور اینڈوسکوپی اور دیگر تمام ضروری مراحل سے گزارنے کے بعد انہیں ہسپتال سے واپس ہوٹل بھی منتقل کر دیا گیا۔

اس واقعے کا اک پہلو تو عملے کی سنگین غفلت ہے کہ بصارت سے محروم کھلاڑی، جن کے لیے ہوٹل انتظامیہ کو خصوصی اقدامات کرنے کی ضرورت تھی، کو کسی اور کی غلطی کی سزا بھگتنا پڑی لیکن ایک دوسرا پہلو پانچ سال بعد پاک-بھارت کرکٹ تعلقات کی بحالی کو پہنچنے والی ٹھیس ہے۔ کیونکہ اس واقعے کے منظر عام پر آتے ہی پاکستان میں کئی حلقوں کی جانب سے رواں ماہ طے شدہ پاک-بھارت محدود اوورز کی سیریز منسوخ کرنے کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔

بہرحال، قومی نابینا کرکٹ ٹیم کے مینیجر سلطان شاہ نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ ہوٹل انتظامیہ نے اس واقعے پر ٹیم سے معافی طلب کی ہے۔ ہم بحیثیت مجموعی یہاں کیے گئے انتظامات سے خوش ہیں لیکن ایسے واقعات کودوبارہ پیش آنے سے روکنے کے لیے انتظامیہ کو اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے واقعے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے کہ یہ واقعہ کیسے پیش آیا اور اس قدر سنگین غفلت کا ذمہ دار کون تھا۔

دوسری جانب معلوم ہوا ہے کہ ہوٹل انتظامیہ نے غلطی کے مرتکب عملے کے رکن کو نوکری سے برخاست کر دیا ہے، جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ کھانے کے کمرے کی صفائی کے دوران اس نے فنائل کی بوتل اسی میز پر رکھ دی تھی جہاں پینے کے پانی کی بوتلیں رکھی جاتی ہیں۔

ہسپتال سے فارغ ہو کر واپس ہوٹل پہنچنے والے ذیشان عباسی کا کہنا ہے کہ وہ اب کافی بہتر محسوس کر رہے ہیں اور امید ہے کہ اگلا مقابلہ کھیلیں گے جبکہ ٹیم انتظامیہ نے کہا ہے کہ ٹیم کی نظریں اس وقت عالمی کپ پر مرکوز ہیں اور وہ اس موقع کو سیاست کی نذر نہیں کرنا چاہتے۔

اب سرحد کے اس طرف کیا پیش آیا، اس کا احوال ذرائع ابلاغ کی زبانی سنیے۔ واقعے کے پیش آتے ہی یہاں پاکستان میں خبری چینلوں نے اک ہنگامہ بپا کر دیا۔ آدھے دن تو یہی اطلاعات آتی رہیں کہ پاکستانی کھلاڑی نے تیزاب پی لیا، اور حقیقت کو جانے بغیر خبر کو انتہائی سنگین انداز میں پیش کیا گیا۔ ملک کے معتبر ترین اخبار نے اپنی خبر میں "تیزاب پلا دیا گیا" اور "مارنے کی کوشش کی گئی" جیسےالفاظ استعمال کیے، جو ہر گز واقعے کی حقیقت کے عکاس نہ تھے۔ اور بنگلور میں موجود پاکستانی ٹیم انتظامیہ، مینیجر اور خود کھلاڑی کے سامنے آنے والے بیانات اس بات کے گواہ ہیں کہ حالات ہر گز ویسے نہ تھے، جیسے ذرائع ابلاغ میں پیش کیے گئے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ذیشان عباسی کب ٹیم میں واپس آتے ہیں، ان کی جلد واپسی ان تمام خدشات کو دور کر دے گی، جو اس افسوسناک واقعے خصوصاً ذرائع ابلاغ کی رپورٹنگ سے پیدا ہو گئے ہیں۔

Facebook Comments