ناگپور ٹیسٹ: انگلستان تاریخ رقم کرنے، بھارت سیریز بچانے کا خواہاں

تحریر: سلمان غنی، پٹنہ، بھارت

بھارت-انگلستان سیریز دونوں ملکوں کے درمیان کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ کے اختتام تک ایک انتقامی سیریز تصورکی جا رہی تھی۔ بھارتی شائقین جو گزشتہ سال سرزمین انگلستان سے ملی رسوائیوں کے داغ دھونے کے لئے بے تاب تھے انہیں ’ٹیم انڈیا‘ سے بڑی امیدیں تھیں۔ اور پھر وہ مشہور زمانہ مفروضہ کہ ’بھارتی شیروں کو خود انہی کے گھر میں زیر کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا‘۔ اسی لئے بھارتی کرکٹ شائقین کے جذبات انگریزوں سے انتقام لینے کے لئے بر انگیختہ تھے۔ یہ ایک انتہائی سنہرا اور حسین موقع تھا۔ لیکن ۔۔۔۔ بھارتی مداحوں کی یہ تمام امیدیں انگلستانی کپتان کے بلے سے نکلنے والے طوفان نے تہہ و بالا کر ڈالیں۔

محض ایک فتح بھارتی ٹیسٹ کرکٹ کی امیدوں کو پھر سے زندہ کرنے کے لئے کافی ہو سکتی ہے (تصویر: Getty Images)

محض ایک فتح بھارتی ٹیسٹ کرکٹ کی امیدوں کو پھر سے زندہ کرنے کے لئے کافی ہو سکتی ہے (تصویر: Getty Images)

ممبئی میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ سے گویا کپتان ایلسٹر کک نے بھارتی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے ایک بد ترین دور کی داستان رقم کرنی شروع کی۔ ان کے بلے سے نکلنے والا ایک، ایک رن بھارت کو تباہی کے دہانے پر لاتا گیا۔ یہاں تک کہ سیریز کے چوتھے اور آخری ٹیسٹ میچ تک پہنچتے پہنچتے بھارتی کرکٹ ٹیم کوسال 2004ء کے بعد پہلی دفعہ سنگین ترین صورتحال کا سامنا ہے یعنی8سال بعد گھریلو میدانوں پر پہلی دفعہ سیریز گنوانے کا خطرہ!

آج سے ناگپور میں کھیلے جانے والے اس آخری ٹیسٹ میچ کو اگر بھار ت نے نہیں جیتا تو انگریزوں کا 28برس پرانا خواب حقیقت میں تبدیل ہو جائے گا۔ انگلینڈ کو اس خواب کی تعبیر کے لئے محض اتنا کرنا ہے کہ وہ بھارت کو جیت سے محروم رکھے، یعنی کم از کم کھیل کو ڈرا پر ختم ہونے کی صورت میں لا کھڑا کرے۔

انگلش ٹیم نے اب تک جس کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اس نے تمام مبصرین کی قیاس آرائیوں کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ بھارتی سرزمین پر قدم رکھنے سے قبل انگلستانی کرکٹ ٹیم جنوبی افریقہ سے اپنے گھریلو پچوں پر بری طرح پٹ چکی تھی۔ ادھر سال 2012ء کی ابتدا میں پاکستان نے عرب کے صحراؤں میں اُن سے اپنا حساب برابر کر لیا تھا۔ اس طرح اس سال کل 6 ٹیسٹ میچوں میں شکست کے ساتھ اس ٹیم نے ایک ایسی سرزمین پر قدم رکھا تھا جہاں اس کا مقابلہ ان زخمی شیروں سے تھا جو پرانے حساب کتاب چکتا کرنا چاہ رہے تھے۔ لیکن سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں ملنے والی 9 و کٹوں کی ہزیمت اور سال بھر کی ناقص کارکردگی نے بھی انگریزوں کے حوصلے پست نہیں ہونے دیے۔

دوسرے ٹیسٹ کی دوسری اننگز سے انگلش ٹیم کے جلوے اُن کی گزشتہ کارکردگی سے بالکل بر عکس نظر آنے لگے۔اور آناً فاناً کپتان ایلسٹر کک ایک ایسی تاریخ رقم کرنے کے بالکل قریب پہنچ گئے ہیں جہاں تک پہنچنا دنیائے کرکٹ کے ہر عظیم کپتان کا خواب رہا ہے۔

ناگپور میں آخری ٹیسٹ میچ میں بھارت کی ناکامی کی صورت میں ’ٹیم انڈیا‘ میں کیسا کہرام مچے گا، اس کا اندازہ کرنا چنداں مشکل نہیں۔ کوچ ڈنکن فلیچراور کپتان مہندر سنگھ دھونی سمیت سچن تنڈولکر کے مستقبل کا کیا ہوگا؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن خوف اس بات کا ہے کہ یہ ہزیمت کہیں بھارتی ٹیسٹ کرکٹ کے زوال کا نقطہ آغاز نہ ثابت ہو ۔ کیونکہ اگر انصاف سے دیکھا جائے تو فی الحال بھارتی ٹیم کا کوئی رکن قابل اعتماد نظر نہیں آتا۔ تیسرے ٹیسٹ کے بعد ظہیر خان اور یوراج سنگھ کا ٹیم سے اخراج عجلت میں لئے گئے ایسے فیصلے تھے جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا تھا کہ پے در پے ملنے والی شکستوں نے بورڈ کےبھی حواس باختہ کر دیے ہیں۔ لیکن اس امر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بھارتی ٹیم ان حالات سے ماضی میں بھی دوچار ہو چکی ہے۔ ناگپور کے میدان سے ملنے والی محض ایک فتح بھارتی ٹیسٹ کرکٹ کی امیدوں کو پھر سے زندہ کرنے کے لئے کافی ہو سکتی ہے۔

Facebook Comments